@lucasvinici99: Queria uma caneta desta, não ficaria entediado nas aulas #fyp #satisfying #tiktokbr #satisfaction #satisfatorio #satisfatoriodemais

lucasvinici99
lucasvinici99
Open In TikTok:
Region: BR
Wednesday 01 July 2020 15:18:28 GMT
1
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @lucasvinici99, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


"کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا پر رسول اللہ ﷺ کا دینِ حسن رہ جائے گا نامِ شاہانِ جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں حشر تک نام و نشانِ پنجتن رہ جائے گا" کے پیچھے ایک عظیم قربانی، عشقِ رسول ﷺ اور حریتِ وطن کی لازوال داستان چھپی ہے۔ پس منظر اور تاریخی حقیقت 1857ء کی جنگِ آزادی میں مولانا سید کفایت علی کافیؒ مرادآبادی ایک نمایاں کردار کے طور پر سامنے آئے۔ آپ نہ صرف ایک جید عالم اور نعت گو شاعر تھے بلکہ عملی طور پر انگریزوں کے خلاف جہاد میں شریک رہے۔ مرادآباد میں انگریزوں کے خلاف بغاوت اور اسلامی حکومت کے قیام میں آپ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے عوام میں جہادی روح پھونکی، خطبات اور فتاویٰ کے ذریعے لوگوں کو حریت اور دین کی حفاظت کے لیے ابھارا۔ جب انگریزوں نے مرادآباد پر دوبارہ قبضہ کیا تو مولانا کافیؒ کو ایک مخبر کی اطلاع پر گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر بغاوت اور انگریز حکومت کے خلاف عوام کو اکسانے کا الزام لگا۔ مقدمہ صرف دو دن میں مکمل ہوا اور 6 مئی 1858ء (22 رمضان المبارک) کو مرادآباد کے چوک میں عوام کے سامنے پھانسی دے دی گئی۔ شعر کی معنوی گہرائی پھانسی کے وقت مولانا کافیؒ کی زبان پر یہ اشعار جاری تھے۔ ان اشعار میں انہوں نے وقت کے جابر حکمرانوں کو پیغام دیا کہ دنیا کی ہر طاقت، ہر سلطنت اور ہر بادشاہت مٹ جائے گی، مگر رسول اللہ ﷺ کا دین اور اہلِ بیتؑ کی محبت قیامت تک باقی رہے گی۔ یہ اشعار نہ صرف عشقِ رسول ﷺ کی گواہی ہیں بلکہ حریتِ فکر، استقلال اور ایمان کی پختگی کا اظہار بھی ہیں۔ ان اشعار کے ذریعے مولانا کافیؒ نے اپنے قاتلوں اور سامعین کو یہ پیغام دیا کہ ان کی موت وقتی ہے، مگر جس مقصد کے لیے وہ جان دے رہے ہیں — یعنی دینِ محمدی ﷺ اور اہلِ بیتؑ کی عظمت — وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ اشعار آج بھی اہلِ ایمان کو حوصلہ دیتے ہیں کہ باطل کی حکومتیں ختم ہو جاتی ہیں، مگر حق ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ مکمل کلام ملاحظہ فرمائیں۔ نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شاعر: کفایت علی مراد آبادی کوئی گل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائے گا پر رسول اللہﷺ کا دین حسن رہ جائے گا ہم صفیرو باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں ہو تم اس تن بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا نام شاہان جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں حشر تک نام و نشان پنجتن رہ جائے گا جو پڑھے گا صاحب لو لاکﷺ کے اوپر درود آگ سے محفوظ اس کا تن بدن رہ جائے گا سب فنا ہو جائیں گے کافی و لیکن حشر تک نعت حضرتﷺ کا زبانوں پر سخن رہ جائے گا #نعت #سفیرعشق #قوالی_محفل #پاکستان___زندہ___باد🇵🇰 #پاکستان

About