@sara9229252: زيت جوز الهند 🇮🇳الطبيعي النقييمنع تساقط الشعريجعل شعرك طويل قوي ناعم وبراقزيت جوز الهند 🥥🥥❤️🍃الطبيعي يستخدم للشعر التالف #

گوزمتگ سارة
گوزمتگ سارة
Open In TikTok:
Region: IQ
Wednesday 23 September 2020 06:53:23 GMT
7054
17
2
5

Music

Download

Comments

user8067255689585
مروان ياسين القيسي :
بيش القطعه واكون توصيل اريد
2025-12-10 10:35:26
0
rr0.70
4𝒉𝒎𝒅👨‍🦰 :
اكو توصيل
2025-10-12 15:09:37
0
To see more videos from user @sara9229252, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھرکے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اس کو چاند تکتا رہتا ہے ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی جو سادہ دِل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے مائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں پلنگ زاوئیے اس کی نظر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سروقد ہے مگر بے گلِ مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کے بے پیرہن اُسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کے کُوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #search
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھرکے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اس کو چاند تکتا رہتا ہے ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی جو سادہ دِل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے مائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں پلنگ زاوئیے اس کی نظر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سروقد ہے مگر بے گلِ مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کے بے پیرہن اُسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کے کُوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں #search

About