@thekelleyfamily:

The Kelley Family
The Kelley Family
Open In TikTok:
Region: US
Friday 20 November 2020 19:37:12 GMT
17291
951
6
1

Music

Download

Comments

hagaru.wa.kiita
ハガル :
I was like he going to go extra 😂😂😂😂
2020-11-20 19:39:45
4
thekelleyfamily
The Kelley Family :
YouTube & Instagram is in bio ❤️❤️❤️
2020-11-20 20:03:54
2
hopenalley
Hope Nalley :
Lmao! Love you guys! 🥰
2020-11-20 19:57:54
1
gabrieldarnell2
Gabriel Darnell :
🤣🤣🤣🤣🤣
2020-11-20 20:06:28
1
rosirizqi29
Rosi Rizqi :
it's so funny 🤣🤣🤣
2020-12-03 23:58:32
0
To see more videos from user @thekelleyfamily, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ وہ تلخ سچائی ہے جو آج کے دور میں محبت کی نازک ڈور کو لمحوں میں توڑ دیتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جذبوں کی سچائی، روح کی پاکیزگی اور وفا کی قیمت کچھ نہیں رہی، بلکہ انسان کی قدر و قیمت اس کے جائب اور بینک بیلنس سے لگائی جاتی ہے۔ غربت ایک ایسا زہر ہے جو انسان سے اس کے تمام خواب اور آرزوئیں چھین لیتا ہے۔ ایک مفلس انسان کتنی ہی سچی محبت کیوں نہ کر لے، اس کا انتظار اور اس کی وفاداری اکثر بے سود ثابت ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات اور معاشرتی دباؤ غریب کے ہاتھوں سے اس کے محبوب کو دور کر دیتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف دولت کی چمک دھمک انسان کے لیے ہر بند راستے کو کھول دیتی ہے۔ پیسہ جن چیزوں کو خرید سکتا ہے، ان میں انسان کی ترجیحات اور فیصلے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یہ منظر انتہائی دردناک ہوتا ہے جب ایک غریب انسان بے بسی سے کھڑا اپنی محبت کو کسی صاحبِ ثروت کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ محبت کا یہ درد انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے اور اسے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ شاید اس دنیا میں سچے جذبوں کا کوئی وجود ہی نہیں، سب کچھ صرف اور صرف پیسے کا کھیل ہے۔ دولت سے شاید آسائشیں اور رشتے خریدے جا سکتے ہیں، لیکن سچی خوشی اور روح کا سکون کبھی نہیں خریدا جا سکتا۔ کاش ہمارا معاشرہ صورت اور سیرت کو دولت کے ترازو میں تولنے کے بجائے سچے جذبوں کی قدر کرنا سیکھ جائے۔
یہ وہ تلخ سچائی ہے جو آج کے دور میں محبت کی نازک ڈور کو لمحوں میں توڑ دیتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں جذبوں کی سچائی، روح کی پاکیزگی اور وفا کی قیمت کچھ نہیں رہی، بلکہ انسان کی قدر و قیمت اس کے جائب اور بینک بیلنس سے لگائی جاتی ہے۔ غربت ایک ایسا زہر ہے جو انسان سے اس کے تمام خواب اور آرزوئیں چھین لیتا ہے۔ ایک مفلس انسان کتنی ہی سچی محبت کیوں نہ کر لے، اس کا انتظار اور اس کی وفاداری اکثر بے سود ثابت ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات اور معاشرتی دباؤ غریب کے ہاتھوں سے اس کے محبوب کو دور کر دیتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف دولت کی چمک دھمک انسان کے لیے ہر بند راستے کو کھول دیتی ہے۔ پیسہ جن چیزوں کو خرید سکتا ہے، ان میں انسان کی ترجیحات اور فیصلے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یہ منظر انتہائی دردناک ہوتا ہے جب ایک غریب انسان بے بسی سے کھڑا اپنی محبت کو کسی صاحبِ ثروت کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ محبت کا یہ درد انسان کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے اور اسے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ شاید اس دنیا میں سچے جذبوں کا کوئی وجود ہی نہیں، سب کچھ صرف اور صرف پیسے کا کھیل ہے۔ دولت سے شاید آسائشیں اور رشتے خریدے جا سکتے ہیں، لیکن سچی خوشی اور روح کا سکون کبھی نہیں خریدا جا سکتا۔ کاش ہمارا معاشرہ صورت اور سیرت کو دولت کے ترازو میں تولنے کے بجائے سچے جذبوں کی قدر کرنا سیکھ جائے۔

About