@misssoosy: طرابزون بحيرة اوزنجول جنة الله على الارض💜🌿 #turkey #تركيا #اكسبلور #explore #travel #طرابزون #طرابزون_تركيا #طرابزون_اوزنجول #trabzon #trabzonspor

misssoosy
misssoosy
Open In TikTok:
Region: IQ
Tuesday 08 June 2021 14:47:51 GMT
62318
2293
41
1296

Music

Download

Comments

heijin.kribo.x20
heijin.x20 :
ماشاءالله الطبيعة في تركيا جنه الله على الأرض سفرة سعيدة
2021-06-09 11:48:26
4
abdullahavci77
sevgi sayg🇹🇷🇮🇶 :
uzungol
2021-06-10 07:09:18
1
ahmadalamleh82
لولو عبد الرحمن :
بلاد جميلة جدا رائع ماشاءالله
2021-06-09 14:32:37
1
sos_sosa5
تجِآهِلَيِّ وِآبِتَّّسمَيِّ 💖 :
ما شاء الله منظر طبيعي جدا حلووو
2021-06-09 19:29:30
2
user275102009
نشر معلومات طبيه :
ما اجمل طبيعه
2021-06-08 22:14:53
1
amerakayaci
Amera Kayaci :
ما شاء الله
2021-06-09 09:05:27
1
the.mjd
the .mj :
رائع تحياتي
2021-06-10 15:41:19
0
user53901261
user539012 :
ماشاءالله جنه على الارض
2021-06-08 20:49:35
1
zaidkrishan2021
ZAID KRESHAN MAAN 🇯🇴 :
اوزنجول اجمل ايامي فيها والله وان شاء الله راح ارجع الها
2022-04-03 14:53:40
0
miudoooo
موح النية :
بيا بصحتك
2021-10-18 19:55:16
0
ahmadnodam1
Ahmad Nodam :
والله مكن يجنن
2021-06-21 12:48:41
0
sj_th3
غُروٌر⁹¹⁵ :
الله يجعلنا نزور تركيا ويدخلنا الجنة يارب يا الله 🇹🇷❤🕊
2021-07-15 18:38:27
0
userypasckk2p5
💤لورنس💤💤 :
افتحي الحفظ كثير حلو
2023-01-01 13:04:34
0
user32103108
زهرة الثالوث :
فعلااا حلوة ان شاء الله نزورها
2021-06-09 20:38:33
1
n.meq
M :
ذكريات الله يااوزنجول
2021-11-24 19:46:07
0
hasan07266
hasan :
الله ناطيهم هاي النعم كلها ،
2021-06-09 19:21:37
1
mahmoud98.8
mahmoud :
جنت بهذا المكان كبل شوي يخبل
2021-07-21 17:44:10
0
madam_roz
madam roz :
يا رب تقسملي ازور هالموقع
2021-06-16 12:59:18
0
haydarjudialshamre
Haider jude :
غير فددددشي
2021-06-13 17:10:54
0
user3622260636988
الاسد :
طربزون جنة الارض
2021-06-10 19:40:15
0
nej055
سنافيه🦌 :
ماشاءالله شهر كم هذا
2022-01-17 05:50:51
0
ekhlassaber
Ekhlas Saber :
تجنن
2021-06-16 14:10:40
0
horaa_hope
min ji>3 :
@throw915 في امان الله رايحة لطرابزون😂👍💃💃💃💃💃🚶🚶
2021-07-29 15:12:55
1
yrxx_a
ي• :
@asmaa_886
2021-06-30 07:35:00
1
To see more videos from user @misssoosy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350
پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350

About