@billieeilishliza: #بدنا_بيلي_بشعر_الأخضر🥑 #بيلي_حارقتكم_الافوكادو_للأبد_🥑💚 #بيلي_كوين_👑 #بيلي_نوت_قي🌈🏳 #muhamadbakr💖

بيلي حياتي 💕😩
بيلي حياتي 💕😩
Open In TikTok:
Region: MA
Tuesday 27 July 2021 21:49:11 GMT
226
16
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @billieeilishliza, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤںمجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمانِ وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں
اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤںمجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمانِ وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے تنہائی میں میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھر بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر تیرے پاس آئے زمانے سے کنارا کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارا کر لے اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک زخم اور بھی پہلے کی طرح سہ جاؤں جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں

About