@sabrina_arsika: Курица с рисом (Аля-плов) ❤️.#рецепт #тиктокнакухне #рецептза5минут #видеорецепт #ужин #ужинрецепт #плов#рис#еданакамеру #ужиндлясемьи #едааа

Лучшие рецепты
Лучшие рецепты
Open In TikTok:
Region: RU
Friday 27 August 2021 11:47:25 GMT
2538095
15040
304
13620

Music

Download

Comments

user1081846688736
Мила Николаевна :
Я тоже так готовлю!!! Это очень вкусно ‼️‼️‼️И у меня это плов!!! Я это так называю!!!
2026-08-01 09:36:38
10
user5385922326211
Tomik :
Бедная грудка...
2026-08-01 03:37:17
8
user2138863618743
Натали :
Автор написала название блюда Курица с рисом (а -ля плов), так что это не плов, но тоже очень вкусно.
2026-08-01 06:44:58
8
toxa2278
ToXa227 :
вот это нормальный плов! а то накидают туда жопу барана, чешую дракона, и ещё всякую хрень.
2026-01-11 04:42:19
56
user241600261454579
Анаит Газарян :
Автор и не говорит что это плов внизу написано а-ля плов курица с рисом.
2026-01-10 20:37:19
12
strug273
александр колягин :
сколько негатива и советчиков, просто жесть какая-то 😱😱😱 не нравится, листай дальше. а рецепт отличный и приятно посмотреть 💯%👍🔥
2026-01-11 00:30:11
12
useren1vk2w43g
useren1vk2w43g :
Плов,не плов,каша,да как хотите,так и называйте,но вкусно....!Спасибо за рецепт!😋😋😋
2024-11-24 18:16:32
14
olesia3471
user6411668956814 :
Так плов не готовят, всегда мясо первое жарят до корочки.
2026-01-11 11:47:28
10
user7393900055435
. :
Мясо + рис=плов
2026-01-11 13:37:21
5
user81376083134824
добро :
Это очень вкусно!🔥👏
2025-09-06 06:44:19
7
tomatoma1963
Toma Toma :
Как можно грудку готовить цельных 50 минут? Она готовится всего 10-15 минут.Это же не говядина😂😂😂😂😂😂
2023-12-14 19:22:53
93
user3985516
@user58561481851153 :
чеснок ложиться в рис
2025-09-07 04:31:16
7
gerta59
КиС :
Из грудки невкусно сухо и мало надо целую курочку порезать тогда вкусно и приправы нужны для плова
2025-09-06 10:40:14
25
user838000298110
user838000298110 :
А я всё(кур. мясо,морковь, лук,приправы, том.пасту) в кучу и на полчаса. А в конце чеснок и лаврушку. Это ,конечно, не плов, но ,мне,нравится)). Готовлю быстро,просто и вкусно).
2024-11-25 06:55:50
21
user9562753244550
user9562753244550 :
Плов готовится только на баранине говядине и очень вкусно на конине
2025-05-22 15:56:25
8
user7616198361032
Север :
можно ещё капусту квашеную добавить,вкуснее будет🔥
2025-06-10 09:11:41
7
ooorusstroytorg
OOO.Russtroytorg :
Там где сначала жарят лук это не плов а каша. Раз каша и дальше смотреть не стоить.
2025-09-06 16:54:19
12
user1729809932054
user1729809932054татьяна :
зачем называть пловом рис с курицей, плов это другое...
2026-01-12 20:27:01
5
user789006212575
Маруся Климова8 :
:Плов вкусен из круглозерного НЕ прораренного риса. жидкость должна едва покрывать рис не более чем на 0,5 см
2023-06-01 03:35:39
30
irinchik1109
Irinchik1109 :
С булгуром попробуйте 🔥
2023-12-14 19:02:54
21
user3675503466796
Солнышко :
сначала идёт мясо морковь лук
2025-09-05 20:07:58
9
1959wiktorija
user4129422718525Виктория :
рис с курицей...
2025-05-30 16:57:11
5
user4382788226966
татьяна :
Плов на сковороде, это танец балерины на льду!
2023-12-16 13:47:05
15
vafinnikolai
vafinnikolai :
Длинный рис не очень для плова.
2024-11-24 07:51:15
23
cvetlana627
cvetlana627 :
Люблю именно это блюдо!Ну и что,не плов,но вкусно!
2024-11-24 15:24:09
7
To see more videos from user @sabrina_arsika, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک باپ کی بے گناہی اور ایک بیٹے کی شہادت ظلم و بربریت کی ایک جگر سوز داستان یہ صرف ایک تحریر یا کہانی نہیں ہے، یہ ایک مظلوم باپ کے آنسوؤں، ایک ماں کے صبر اور ایک نو عمر شہید کے لہو سے لکھی گئی وہ داستانِ غم ہے جسے پڑھ کر شاید پتھر کا دل بھی موم ہو جائے بے گناہی کا جرم اور تشدد کے سایے 5 اور 6 جون کی وہ سیاہ رات،جب ایک محنت کش باپ سردار فرید دن بھر کی کٹھن مزدوری کے بعد تھکا ہارا اپنے بچوں کی روزی روٹی کا سامان لیے گھر لوٹ رہا تھا، اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کا راستہ ایک مظاہرے کے قریب سے گزرا۔ نہ وہ کسی احتجاج کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی جرم میں ملوث۔ مگر قانون کے محافظوں نے بغیر کسی تفتیش اور بغیر کسی ثبوت کے انہیں اٹھا لیا۔ بار بار کہا گیا کہ تم ایکشن کمیٹی کے رکن ہو اور ہر انکار پر تشدد کے کوڑے برسائے گئے۔ تشدد کی وجہ سے ان کی 2 انگلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور پسلیوں پر گہرے نشانات موجود ہیں۔ انہیں طویل قید اور سخت خوف دلایا گیا، مگر اس بے گناہ باپ کا ایک ہی جواب تھا: اگر میرے رب نے میرے لیے کوئی سبب بنایا، تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس کے بعد بھی ان پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو بھی بناؤ جب انہوں نے انکار کیا، تو وہاں موجود شاہ نامی افسر نے جو میرپور کا مقامی تھا حکم دیا کہ اس کے منہ کے اندر ڈنڈے مارو منہ کھول کر ڈنڈے مارو تب جا کر یہ بولے گا۔ دوسری طرف ان کا 20-21 سالہ نوجوان بیٹا سردار عرفان (مون) جس کی آنکھوں میں اپنے باپ کی طرح باوقار زندگی کے خواب تھے وہ حقوق کی جنگ میں سب سے آگے رہتا تھا۔ پھر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ میں فورسز کی فائرنگ سے (مون) ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ بیٹا خاک و خون میں غلطاں ہو چکا تھا اور باپ جیل کی تاریک سلاخوں کے پیچھے اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی دنیا کا سب سے روشن چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ وقت کے خلاف ایک دوڑ خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جب دیگر فیملی ممبرز نے سردار زعیم سدوزئی کو بتایا کہ ان کے والد لاپتہ ہیں تو انہوں نے معاملے کی معلومات حاصل کیں پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ میرپور جیل میں قید ہیں۔ اس کے بعدان کی رہائی اور آخری دیدار کے لیے وقت کے خلاف ایک جنگ شروع ہوئی۔ راستوں پر 50 سے 60 مقامات پر بندشیں تھیں۔ 5 سے 6 مرتبہ گاڑیاں بدلنا اور رینجرز کا تعاقب اور جیل میں قید باپ جو سمجھ رہا تھا کہ اسے 10 سال کی سزا ہو چکی ہے سردار فرید صاحب! آپ کو دس سال کی سزا ہو گئی ہے۔ یہ سوچنا بھی چھوڑ دیں کہ آپ کی ضمانت ہوگی یا آپ کبھی باہر آ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میرے لیے کوئی سبب بنایا تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس وقت شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔جبکہ باہر اس کے بیٹے کی تدفین کی تیاری ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وقت کے خلاف ایک دوڑ شروع ہوئی۔ خاندان کے پاس صرف چوبیس گھنٹے تھے، جبکہ شہید مون کی والدہ کی صرف ایک خواہش تھی کہ ان کے شوہر اپنے بیٹے کا آخری دیدار کر سکیں۔ سردار زعیم سدوزئی نے خاندان کو یقین دلایا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔  قبرستان کا وہ منظر جو قیامت سے کم نہ تھا جب سردار فرید کو جیل سے آزاد کرا کے لایا جا رہا تھا تو گاڑی میں سردار زعیم صاحب نے باتوں باتوں میں غم کا اشارہ دیا۔ پوچھا سردار فرید خاموش ہو گئے وہ 5 منٹ کی خاموشی ایک باپ کے اندر ٹوٹتے ہوئے آسمان کی خاموشی تھی۔ قبرستان پہنچتے ہی جب ان کی نظر ایک تازہ نئی مٹی کی قبر پر پڑی تو ان کی ٹانگوں سے جان نکل گئی۔ وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اور ڈیڑھ گھنٹے تک بے ہوش رہے۔ ہوش میں آنے کے بعد جب انہوں نے ارد گرد دیکھا، جہاں لوگ جنازہ پڑھ کر جا چکے تھے اور صرف اپنے بچے چارپائی کے گرد بیٹھے تھے، تو ایک باپ کے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے صرف اتنا نکلا: تم نے میرا بیٹا کہاں چھوڑا ؟ اس پر اس شہید کی ماں نے جو جواب دیا اس نے عرش کو بھی ہلا دیا ہوگا... غم زدہ ماں نے ضبط کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے کہا: ہم اب شہید کے ماں باپ ہیں۔ سوچیں! اگر ان سانحات میں 90 سے زائد نوجوان شہید کر دیے گئے ہیں، تو ایسے کتنے باپ ہوں گے جن کی دنیا اجڑ گئی؟ کتنی مائیں ہوں گی جن کی گودیں سنسان ہو گئیں؟ خدارا! ہم ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں... ہوش کے ناخن لیے جائیں! اپنے ہی لوگوں کا قتل عام بند کیا جائے، بے گناہوں پر تشدد بند کیا جائے! ہمارے بچوں سے ان کا جینے کا حق نہ چھینا جائے۔ انتہائی کوششوں اور آپ سب کی دعاؤں سے سردار فرید صاحب کو رہا کروایا گیا۔ ہم انٹرنیشنل میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اسٹوری کو کور کریں اور خود آ کر سردار فرید سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم و جبر ہوا ہے۔ ہم عالمی انسانی حقوق (Human Rights) کی تنظیموں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ جنہوں نے ابھی تک اس خاندان کی مکمل داستان نہیں سنی وہ ضرو
ایک باپ کی بے گناہی اور ایک بیٹے کی شہادت ظلم و بربریت کی ایک جگر سوز داستان یہ صرف ایک تحریر یا کہانی نہیں ہے، یہ ایک مظلوم باپ کے آنسوؤں، ایک ماں کے صبر اور ایک نو عمر شہید کے لہو سے لکھی گئی وہ داستانِ غم ہے جسے پڑھ کر شاید پتھر کا دل بھی موم ہو جائے بے گناہی کا جرم اور تشدد کے سایے 5 اور 6 جون کی وہ سیاہ رات،جب ایک محنت کش باپ سردار فرید دن بھر کی کٹھن مزدوری کے بعد تھکا ہارا اپنے بچوں کی روزی روٹی کا سامان لیے گھر لوٹ رہا تھا، اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کا راستہ ایک مظاہرے کے قریب سے گزرا۔ نہ وہ کسی احتجاج کا حصہ تھے اور نہ ہی کسی جرم میں ملوث۔ مگر قانون کے محافظوں نے بغیر کسی تفتیش اور بغیر کسی ثبوت کے انہیں اٹھا لیا۔ بار بار کہا گیا کہ تم ایکشن کمیٹی کے رکن ہو اور ہر انکار پر تشدد کے کوڑے برسائے گئے۔ تشدد کی وجہ سے ان کی 2 انگلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور پسلیوں پر گہرے نشانات موجود ہیں۔ انہیں طویل قید اور سخت خوف دلایا گیا، مگر اس بے گناہ باپ کا ایک ہی جواب تھا: اگر میرے رب نے میرے لیے کوئی سبب بنایا، تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس کے بعد بھی ان پر مسلسل دباؤ ڈالا گیا کہ ویڈیو بھی بناؤ جب انہوں نے انکار کیا، تو وہاں موجود شاہ نامی افسر نے جو میرپور کا مقامی تھا حکم دیا کہ اس کے منہ کے اندر ڈنڈے مارو منہ کھول کر ڈنڈے مارو تب جا کر یہ بولے گا۔ دوسری طرف ان کا 20-21 سالہ نوجوان بیٹا سردار عرفان (مون) جس کی آنکھوں میں اپنے باپ کی طرح باوقار زندگی کے خواب تھے وہ حقوق کی جنگ میں سب سے آگے رہتا تھا۔ پھر 28 اور 29 جون کی درمیانی شب راولاکوٹ میں فورسز کی فائرنگ سے (مون) ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ بیٹا خاک و خون میں غلطاں ہو چکا تھا اور باپ جیل کی تاریک سلاخوں کے پیچھے اس بات سے بے خبر تھا کہ اس کی دنیا کا سب سے روشن چراغ بجھا دیا گیا ہے۔ وقت کے خلاف ایک دوڑ خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ جب دیگر فیملی ممبرز نے سردار زعیم سدوزئی کو بتایا کہ ان کے والد لاپتہ ہیں تو انہوں نے معاملے کی معلومات حاصل کیں پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ میرپور جیل میں قید ہیں۔ اس کے بعدان کی رہائی اور آخری دیدار کے لیے وقت کے خلاف ایک جنگ شروع ہوئی۔ راستوں پر 50 سے 60 مقامات پر بندشیں تھیں۔ 5 سے 6 مرتبہ گاڑیاں بدلنا اور رینجرز کا تعاقب اور جیل میں قید باپ جو سمجھ رہا تھا کہ اسے 10 سال کی سزا ہو چکی ہے سردار فرید صاحب! آپ کو دس سال کی سزا ہو گئی ہے۔ یہ سوچنا بھی چھوڑ دیں کہ آپ کی ضمانت ہوگی یا آپ کبھی باہر آ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میرے لیے کوئی سبب بنایا تو میں ضرور باہر جاؤں گا۔ اس وقت شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔جبکہ باہر اس کے بیٹے کی تدفین کی تیاری ہو رہی تھی۔ اس کے بعد وقت کے خلاف ایک دوڑ شروع ہوئی۔ خاندان کے پاس صرف چوبیس گھنٹے تھے، جبکہ شہید مون کی والدہ کی صرف ایک خواہش تھی کہ ان کے شوہر اپنے بیٹے کا آخری دیدار کر سکیں۔ سردار زعیم سدوزئی نے خاندان کو یقین دلایا کہ وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔ قبرستان کا وہ منظر جو قیامت سے کم نہ تھا جب سردار فرید کو جیل سے آزاد کرا کے لایا جا رہا تھا تو گاڑی میں سردار زعیم صاحب نے باتوں باتوں میں غم کا اشارہ دیا۔ پوچھا سردار فرید خاموش ہو گئے وہ 5 منٹ کی خاموشی ایک باپ کے اندر ٹوٹتے ہوئے آسمان کی خاموشی تھی۔ قبرستان پہنچتے ہی جب ان کی نظر ایک تازہ نئی مٹی کی قبر پر پڑی تو ان کی ٹانگوں سے جان نکل گئی۔ وہ وہیں ڈھیر ہو گئے اور ڈیڑھ گھنٹے تک بے ہوش رہے۔ ہوش میں آنے کے بعد جب انہوں نے ارد گرد دیکھا، جہاں لوگ جنازہ پڑھ کر جا چکے تھے اور صرف اپنے بچے چارپائی کے گرد بیٹھے تھے، تو ایک باپ کے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے صرف اتنا نکلا: تم نے میرا بیٹا کہاں چھوڑا ؟ اس پر اس شہید کی ماں نے جو جواب دیا اس نے عرش کو بھی ہلا دیا ہوگا... غم زدہ ماں نے ضبط کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے کہا: ہم اب شہید کے ماں باپ ہیں۔ سوچیں! اگر ان سانحات میں 90 سے زائد نوجوان شہید کر دیے گئے ہیں، تو ایسے کتنے باپ ہوں گے جن کی دنیا اجڑ گئی؟ کتنی مائیں ہوں گی جن کی گودیں سنسان ہو گئیں؟ خدارا! ہم ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتے ہیں... ہوش کے ناخن لیے جائیں! اپنے ہی لوگوں کا قتل عام بند کیا جائے، بے گناہوں پر تشدد بند کیا جائے! ہمارے بچوں سے ان کا جینے کا حق نہ چھینا جائے۔ انتہائی کوششوں اور آپ سب کی دعاؤں سے سردار فرید صاحب کو رہا کروایا گیا۔ ہم انٹرنیشنل میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اسٹوری کو کور کریں اور خود آ کر سردار فرید سے پوچھیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم و جبر ہوا ہے۔ ہم عالمی انسانی حقوق (Human Rights) کی تنظیموں سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔ جنہوں نے ابھی تک اس خاندان کی مکمل داستان نہیں سنی وہ ضرو

About