@creativelife166: No place to put things in the bathroom? Buy one of this kind of rack, and it can be folded#rack #bathroom #kitchen

Home Goods
Home Goods
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 31 August 2021 13:55:03 GMT
64482
2391
56
162

Music

Download

Comments

narokomet
Jansus :
Show the angles right 🐬🐬🐬🐬🐬🐬
2021-08-31 19:48:39
133
brave_covey
Covey :
Show the whole thing
2021-09-01 14:56:58
29
daddythes0n
Littlebear30883 :
That’s what I’m sayin
2021-08-31 16:38:15
2
giancarlos.g06
Gian🇪🇨/🇬🇧 :
To political
2021-09-01 10:29:49
10
tony_real4
Ralsei :
thats what im saying
2021-08-31 14:34:40
19
megasosalty
goku :
ong
2021-09-01 02:24:56
1
yo_banban123
Bani :
ngl i need this
2021-08-31 19:22:16
2
sxft.lloyd
𝐈𝐬𝐚𝐛𝐞𝐥𝐥𝐚🤍 :
Zitat Ende 🚬
2021-09-03 12:11:58
3
tommyallen72
tommy allen :
NGL was liking where this was going for a while
2021-09-16 02:29:14
0
ali_y0uu
ali_y0uu :
First 😂
2021-08-31 13:55:35
0
chrisbreezy037
chrisbreezy037 :
Look for it on wish
2021-09-22 11:59:26
0
frezzex_xxx
Frezz :
а начиналась так красиво
2021-09-06 12:55:10
9
012881g
pretty G#28 :
we're can buy
2021-11-05 08:51:47
0
ftbl_vidss
⠀ ⠀ ⠀ ⠀ ⠀ :
Fax
2021-09-06 13:49:57
1
kenza.ben75
sara :
woww
2021-09-11 14:42:44
0
r_q.76
𝑹𝑼𝑸𝑨𝒀𝑨 :
ابداع
2021-08-31 13:56:17
1
_..prettysfl0wers..muak
─ യ ⋆🎻.✦ 🎭꒳˓ :
no ablo taka taka- [🇦🇷📚⚘]
2021-09-05 03:47:31
1
shakalea0
Tik toker :
Fax
2021-09-02 13:15:47
0
jh_2600
JH_ 2600 :
fax
2021-09-01 20:47:51
0
ray_official16
❦シR∆Yシ❦ :
That’s what I’m saying bro
2021-08-31 18:40:15
3
userfiyciop4rm
Tik Toker :
很有帮助 🥰 请更多
2021-09-02 16:09:03
0
tata_kitt7
Tata🦨 :
Can y’all not mock the language? 🤨
2021-09-02 01:22:02
0
my.crush.is.melissa
Melissa :
geh nicht auf mutter
2021-09-01 22:48:59
0
windofchaange
♰ 𝖑𝖊𝖎𝖚 :
Your to political
2021-09-01 14:23:49
0
To see more videos from user @creativelife166, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پیشاب پانی سے نہیں، خون سے بنتا ہے !  قدرت کا تخلیق کردہ انسانی جسم کا حیران کن نظام ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم نے پانی پیا، پانی معدے سے گزرا، گردوں تک پہنچا اور وہاں سے پیشاب بن گیا۔ لیکن انسانی جسم کا اصل نظام اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیشاب بنانے کے لیے گردوں تک جو پانی پہنچتا ہے، وہ پہلے خون کا حصہ بنتا ہے۔ گردے پانی کی بوتل سے براہِ راست پانی نہیں لیتے، بلکہ خون کو فلٹر کرتے ہیں۔ آئیے اس پورے سفر کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔ پانی پینے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جب ہم پانی پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے غذائی نالی سے ہوتا ہوا معدے میں پہنچتا ہے۔ وہاں سے آگے چھوٹی آنت میں جاتا ہے۔ چھوٹی آنت کی دیوار میں موجود باریک خون کی نالیوں کے ذریعے پانی اور بہت سے تحلیل شدہ اجزا جسم میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یعنی پانی آنت سے گزر کر خون کے دھارے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب یہ پانی الگ کسی پائپ میں سفر نہیں کر رہا ہوتا۔ یہ خون کے مائع حصے یعنی پلازما کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ پھر خون گردوں تک کیسے پہنچتا ہے؟ آنتوں سے جذب ہونے والا پانی اور غذائی اجزا خون کے ذریعے جگر اور پھر جسم کے عمومی دورانِ خون میں شامل ہوتے ہیں۔ دل خون کو پمپ کرتا ہے اور خون پورے جسم میں گردش کرتا ہوا گردوں تک بھی پہنچتا ہے۔ یہاں ایک حیرت انگیز عمل شروع ہوتا ہے۔ گردے پانی کو کیسے الگ کرتے ہیں؟ ہر گردے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب نہایت باریک فلٹرنگ یونٹس ہوتے ہیں جنہیں نیفرون کہا جاتا ہے۔ خون نیفرون کے ایک حصے، یعنی گلو میرولس، میں پہنچتا ہے۔ وہاں خون کا دباؤ بہت سے چھوٹے مالیکیولز، جن میں پانی، نمکیات، گلوکوز، یوریا اور دیگر چھوٹے اجزا شامل ہیں، کو فلٹر میں سے گزار دیتا ہے۔ لیکن جسم کا عقلمند نظام صرف یہ نہیں کہتا کہ جو پانی ملا اسے باہر نکال دو۔ نہیں! جسم کو جتنا پانی چاہیے، وہ واپس لے لیا جاتا ہے فلٹریشن کے بعد نیفرون کی نالیوں میں ایک بڑی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے۔ جسم ضرورت کے مطابق اس پانی اور ضروری نمکیات کا بڑا حصہ دوبارہ خون میں جذب کر لیتا ہے۔ اسی عمل کو reabsorption کہا جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی کم ہو تو گردے پانی زیادہ محفوظ کرتے ہیں اور پیشاب زیادہ گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی زیادہ ہو تو گردے اضافی پانی کو پیشاب کے ذریعے باہر نکال دیتے ہیں اور پیشاب زیادہ پتلا ہو جاتا ہے۔ پھر پیشاب کیا ہے؟ آخر میں وہ مائع جو گردوں نے فلٹر کیا، جس میں جسم کے لیے غیر ضروری یا اضافی پانی، یوریا، کریاٹینین، اضافی نمکیات اور دیگر فاضل مادے شامل ہوتے ہیں، پیشاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ گردوں سے یوریٹر کے ذریعے مثانے میں پہنچتا ہے، جہاں کچھ وقت جمع رہتا ہے، اور پھر پیشاب کی نالی کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ تو کیا واقعی پیشاب خون سے بنتا ہے؟ ہاں، بنیادی طور پر یہ بات درست ہے۔ لیکن زیادہ سائنسی انداز میں کہیں تو: یعنی ہمارے جسم میں پانی کا سفر کچھ یوں ہے: پانی پیا → آنت → خون → دل → گردے → فلٹریشن → ضروری پانی واپس خون میں → اضافی پانی + فضلات → پیشاب → مثانہ → جسم سے باہر یہ نظام ہمیں یہ حیرت انگیز حقیقت سمجھاتا ہے کہ گردے صرف پیشاب بنانے والی مشین نہیں، بلکہ جسم کے پانی، نمکیات اور کیمیائی توازن کے محافظ ہیں۔ انسان ایک گلاس پانی پیتا ہے، مگر جسم اسے محض “پانی” سمجھ کر آگے نہیں بھیجتا۔ وہ اسے جذب کرتا ہے، خون کا حصہ بناتا ہے، پورے جسم میں گردش کرواتا ہے، پھر گردے فیصلہ کرتے ہیں کہ اس میں سے کیا محفوظ رکھنا ہے اور کیا باہر نکالنا ہے۔ یہی انسانی جسم کا حیرت انگیز توازن ہے جو الله پاک نے  کمال بنایا.#uktiktok #uk
پیشاب پانی سے نہیں، خون سے بنتا ہے ! قدرت کا تخلیق کردہ انسانی جسم کا حیران کن نظام ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم نے پانی پیا، پانی معدے سے گزرا، گردوں تک پہنچا اور وہاں سے پیشاب بن گیا۔ لیکن انسانی جسم کا اصل نظام اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیشاب بنانے کے لیے گردوں تک جو پانی پہنچتا ہے، وہ پہلے خون کا حصہ بنتا ہے۔ گردے پانی کی بوتل سے براہِ راست پانی نہیں لیتے، بلکہ خون کو فلٹر کرتے ہیں۔ آئیے اس پورے سفر کو آسان زبان میں سمجھتے ہیں۔ پانی پینے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ جب ہم پانی پیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے غذائی نالی سے ہوتا ہوا معدے میں پہنچتا ہے۔ وہاں سے آگے چھوٹی آنت میں جاتا ہے۔ چھوٹی آنت کی دیوار میں موجود باریک خون کی نالیوں کے ذریعے پانی اور بہت سے تحلیل شدہ اجزا جسم میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یعنی پانی آنت سے گزر کر خون کے دھارے میں شامل ہو جاتا ہے۔ اب یہ پانی الگ کسی پائپ میں سفر نہیں کر رہا ہوتا۔ یہ خون کے مائع حصے یعنی پلازما کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ پھر خون گردوں تک کیسے پہنچتا ہے؟ آنتوں سے جذب ہونے والا پانی اور غذائی اجزا خون کے ذریعے جگر اور پھر جسم کے عمومی دورانِ خون میں شامل ہوتے ہیں۔ دل خون کو پمپ کرتا ہے اور خون پورے جسم میں گردش کرتا ہوا گردوں تک بھی پہنچتا ہے۔ یہاں ایک حیرت انگیز عمل شروع ہوتا ہے۔ گردے پانی کو کیسے الگ کرتے ہیں؟ ہر گردے میں تقریباً دس لاکھ کے قریب نہایت باریک فلٹرنگ یونٹس ہوتے ہیں جنہیں نیفرون کہا جاتا ہے۔ خون نیفرون کے ایک حصے، یعنی گلو میرولس، میں پہنچتا ہے۔ وہاں خون کا دباؤ بہت سے چھوٹے مالیکیولز، جن میں پانی، نمکیات، گلوکوز، یوریا اور دیگر چھوٹے اجزا شامل ہیں، کو فلٹر میں سے گزار دیتا ہے۔ لیکن جسم کا عقلمند نظام صرف یہ نہیں کہتا کہ جو پانی ملا اسے باہر نکال دو۔ نہیں! جسم کو جتنا پانی چاہیے، وہ واپس لے لیا جاتا ہے فلٹریشن کے بعد نیفرون کی نالیوں میں ایک بڑی مقدار میں پانی موجود ہوتا ہے۔ جسم ضرورت کے مطابق اس پانی اور ضروری نمکیات کا بڑا حصہ دوبارہ خون میں جذب کر لیتا ہے۔ اسی عمل کو reabsorption کہا جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی کم ہو تو گردے پانی زیادہ محفوظ کرتے ہیں اور پیشاب زیادہ گاڑھا ہو جاتا ہے۔ اگر جسم میں پانی زیادہ ہو تو گردے اضافی پانی کو پیشاب کے ذریعے باہر نکال دیتے ہیں اور پیشاب زیادہ پتلا ہو جاتا ہے۔ پھر پیشاب کیا ہے؟ آخر میں وہ مائع جو گردوں نے فلٹر کیا، جس میں جسم کے لیے غیر ضروری یا اضافی پانی، یوریا، کریاٹینین، اضافی نمکیات اور دیگر فاضل مادے شامل ہوتے ہیں، پیشاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ گردوں سے یوریٹر کے ذریعے مثانے میں پہنچتا ہے، جہاں کچھ وقت جمع رہتا ہے، اور پھر پیشاب کی نالی کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔ تو کیا واقعی پیشاب خون سے بنتا ہے؟ ہاں، بنیادی طور پر یہ بات درست ہے۔ لیکن زیادہ سائنسی انداز میں کہیں تو: یعنی ہمارے جسم میں پانی کا سفر کچھ یوں ہے: پانی پیا → آنت → خون → دل → گردے → فلٹریشن → ضروری پانی واپس خون میں → اضافی پانی + فضلات → پیشاب → مثانہ → جسم سے باہر یہ نظام ہمیں یہ حیرت انگیز حقیقت سمجھاتا ہے کہ گردے صرف پیشاب بنانے والی مشین نہیں، بلکہ جسم کے پانی، نمکیات اور کیمیائی توازن کے محافظ ہیں۔ انسان ایک گلاس پانی پیتا ہے، مگر جسم اسے محض “پانی” سمجھ کر آگے نہیں بھیجتا۔ وہ اسے جذب کرتا ہے، خون کا حصہ بناتا ہے، پورے جسم میں گردش کرواتا ہے، پھر گردے فیصلہ کرتے ہیں کہ اس میں سے کیا محفوظ رکھنا ہے اور کیا باہر نکالنا ہے۔ یہی انسانی جسم کا حیرت انگیز توازن ہے جو الله پاک نے کمال بنایا.#uktiktok #uk

About