@taotrongsanglamtintaodi: Thầy Huấn Nói Gì Về Drama Từ Thiện của Thủy Tiên 😵😵#ONhaVanVui #dramakorea

taotrongsanglamtintaodi
taotrongsanglamtintaodi
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 04 September 2021 16:56:19 GMT
10013
114
14
13

Music

Download

Comments

trump0259
Trump :
thầy đã lên tiếng rồi, chết rồi ối dồi ơi, sao kê , kết thúc, sao đó, 3 tháng sao kê lần cuối nữa lần 2. quá nguy hiểm, công an mà họ phục hồi vụ án là chết rồi,
2026-08-22 21:27:50
4
hngphan9505
Hùng Phan :
Làm như vậy đất nước này sẽ giàu đẹp hơn rất nhiều
2026-08-16 06:56:41
4
esla_692
➻❥Em❤️❦ :
Huấn nhắc tên la mệt đó
2026-08-29 17:12:22
2
lu251077
🐍 Le Uyen :
Đoàn mình qua đây chưa
2026-08-29 17:29:15
1
seos11
SEO SÈ :
huấn giờ chung thân vì từ thiện😳
2026-08-26 16:34:26
3
user9693425942042
khang :
Đúng đúng
2026-08-24 22:43:21
1
minhtuan0126
Minh Tuấn :
R xong.. khầy cũng bước tiếp đi theo. 😂
2026-08-17 04:03:58
4
dypqnizucgh2
cherry🍒 :
vay ma thầy đi lại đường của chị mà A lại bị bể còn chi van an toàn đó nha😁
2026-08-20 11:04:18
1
misuke191
misuke191 :
Thấy chưa toàn Đảo Lý 😁😁😁
2026-08-23 09:14:47
0
dulichkhanhhoa79
NGUYEN HOANG ANH :
😂
2026-08-21 03:07:21
0
tieumanthau230
Nguyễn Thị Mỹ Duyên🇻🇳🇨🇳 :
🤣🤣🤣
2026-08-24 00:19:21
0
latdat8888
Yutaka :
@chuẩnkaka1985@ @vua quạt
2026-07-26 17:55:56
0
trnghong816
trường xuân :
🥰
2026-08-25 06:01:10
0
To see more videos from user @taotrongsanglamtintaodi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں شخص پردیس میں بہت کما رہا ہے، لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ اس کمائی کی قیمت کیا ادا کر رہا ہے۔ ہمیں صرف اس کی بھیجی ہوئی رقم نظر آتی ہے، اس کے گھر کی نئی چیزیں نظر آتی ہیں، بچوں کے کپڑے اور گھر کی سہولتیں نظر آتی ہیں، مگر وہ راتیں نظر نہیں آتیں جو اس نے اپنوں سے دور تنہائی میں گزاری ہوتی ہیں۔ پردیس جانے والا ہر شخص صرف پیسہ کمانے نہیں جاتا، اکثر وہ اپنے دل کا ایک حصہ گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے۔ کسی کا باپ پیچھے رہ جاتا ہے، کسی کی ماں، کسی کی بیوی، کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں گھر کی کئی خوشیاں اس کے بغیر منائی جائیں گی، مگر پھر بھی وہ چلا جاتا ہے کیونکہ گھر کی ضروریات اسے اپنی خواہشوں سے زیادہ اہم لگتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ
ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں شخص پردیس میں بہت کما رہا ہے، لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ وہ اس کمائی کی قیمت کیا ادا کر رہا ہے۔ ہمیں صرف اس کی بھیجی ہوئی رقم نظر آتی ہے، اس کے گھر کی نئی چیزیں نظر آتی ہیں، بچوں کے کپڑے اور گھر کی سہولتیں نظر آتی ہیں، مگر وہ راتیں نظر نہیں آتیں جو اس نے اپنوں سے دور تنہائی میں گزاری ہوتی ہیں۔ پردیس جانے والا ہر شخص صرف پیسہ کمانے نہیں جاتا، اکثر وہ اپنے دل کا ایک حصہ گھر میں چھوڑ کر جاتا ہے۔ کسی کا باپ پیچھے رہ جاتا ہے، کسی کی ماں، کسی کی بیوی، کسی کے چھوٹے چھوٹے بچے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں گھر کی کئی خوشیاں اس کے بغیر منائی جائیں گی، مگر پھر بھی وہ چلا جاتا ہے کیونکہ گھر کی ضروریات اسے اپنی خواہشوں سے زیادہ اہم لگتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ "وہ تو باہر ہے، خوب کما رہا ہے"، مگر شاید ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ وہ سکون سے کتنا محروم ہے۔ وہ اپنے بچے کی پہلی سائیکل شاید فون کی اسکرین پر دیکھتا ہے، پہلی کامیابی کی خبر کسی کال پر سنتا ہے، عید کی خوشی تصویر میں دیکھتا ہے اور اپنے والدین کی عمر بڑھنے کا احساس چند منٹ کی ویڈیو کال میں کرتا ہے۔ بچوں کا بچپن واپس نہیں آتا۔ باپ چاہے کتنی بھی رقم کما لے، وہ وہ لمحہ دوبارہ نہیں خرید سکتا جب اس کا بچہ پہلی بار اسکول گیا تھا، پہلی بار سائیکل چلائی تھی یا کسی کامیابی پر دوڑ کر اس کے گلے لگا تھا۔ اسی طرح والدین کی بڑھتی عمر بھی کسی رقم کے بدلے واپس نہیں ملتی۔ انسان جب دور ہوتا ہے تو اسے ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ احساس زیادہ شدت سے ہونے لگتا ہے کہ وقت صرف پیسہ نہیں کما رہا، اس کے اپنے لوگ بھی عمر گزار رہے ہیں۔ پردیس میں رہنے والے بہت سے لوگ اپنے گھر والوں کے لیے مضبوط بنے رہتے ہیں۔ فون پر پوچھا جاتا ہے، "سب ٹھیک ہے؟" تو جواب آتا ہے، "ہاں، بالکل ٹھیک ہوں۔" مگر اس ایک جملے کے پیچھے کتنی تھکن، کتنی تنہائی اور کتنی خاموش اداسی چھپی ہوتی ہے، یہ صرف وہ شخص جانتا ہے جو اپنے لوگوں سے سینکڑوں یا ہزاروں میل دور رہ رہا ہو۔ وہ اپنے گھر کے خرچے بھیجتا ہے، بچوں کی فیس دیتا ہے، والدین کی دوا خریدتا ہے، گھر بنواتا ہے، بہن بھائیوں کی ضروریات پوری کرتا ہے، مگر اکثر اپنی ذات کے لیے بہت کم رکھتا ہے۔ کبھی وہ خود نئی چیز خریدنے کے بجائے گھر پیسے بھیج دیتا ہے۔ کبھی اپنی چھٹی مؤخر کر دیتا ہے۔ کبھی طبیعت خراب ہونے کے باوجود کام پر چلا جاتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں اس کی کمائی کا انتظار ہو رہا ہے۔ اسی لیے کسی پردیسی کی کمائی دیکھ کر صرف اس کی خوشحالی کا اندازہ نہ لگائیں۔ ممکن ہے وہ بظاہر بہت کچھ حاصل کر رہا ہو، مگر اندر سے بہت کچھ کھو بھی رہا ہو۔ ہر کمائی صرف منافع نہیں ہوتی، کچھ کمائیوں کے ساتھ جدائی جڑی ہوتی ہے۔ کچھ پیسوں کے ساتھ ماں کی یاد ہوتی ہے، کچھ کے ساتھ بچوں کی آواز، کچھ کے ساتھ بیوی کی خاموش شکایت اور کچھ کے ساتھ بوڑھے والدین کی وہ خواہش کہ بیٹا بس ایک بار گھر آ جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ پردیس جانا غلط ہے یا باہر کمانے والے لوگ خوش نہیں ہوتے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہی راستہ اپنے خاندان کو بہتر زندگی دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اس کمائی کے پیچھے موجود انسانی قربانی کو بھی سمجھیں۔ اگر آپ کے گھر میں کوئی پردیس میں ہے تو صرف یہ نہ پوچھیں کہ "کتنے پیسے بھیجے؟" کبھی یہ بھی پوچھیں، "تم خود کیسے ہو؟ کھانا وقت پر کھاتے ہو؟ تھک تو نہیں گئے؟ ہمیں تمہاری یاد آتی ہے۔" کیونکہ کبھی کبھی پردیس میں رہنے والے انسان کو پیسوں سے زیادہ یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ گھر والوں کو اس کی کمائی کے ساتھ ساتھ اس کی ذات کی بھی قدر ہے۔ اور اگر آپ خود پردیس میں ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ آپ کی قربانی صرف آپ کے گھر والوں کے لیے نہیں، آپ کے اپنے دل کے لیے بھی ہے۔ اپنے والدین سے بات کرتے رہیں، بچوں کے ساتھ وقت نکالیں، اپنی صحت کا خیال رکھیں اور جہاں ممکن ہو، گھر واپس آنے کے لمحوں کو صرف رسم نہ بنائیں بلکہ حقیقتاً اپنے لوگوں کے ساتھ جئیں۔ آخرکار انسان اپنی پوری زندگی صرف یہ سوچ کر نہیں گزار سکتا کہ "بس تھوڑا اور کما لوں، پھر سکون سے رہوں گا۔" کبھی کبھی وہ "تھوڑا اور" اتنا لمبا ہو جاتا ہے کہ بچے بڑے ہو جاتے ہیں، والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں اور زندگی کے بہت سے خوبصورت لمحے خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ اس لیے پردیس کی کمائی کی قدر کریں، مگر پردیسی کی قربانی کی اس سے بھی زیادہ قدر کریں۔ کیونکہ ہمیں صرف یہ نظر آتا ہے کہ وہ کیا کما رہا ہے، لیکن شاید ہمیں یہ نہیں دکھائی دیتا کہ وہ اس کے بدلے کیا کھو رہا ہے۔ 🥀🌍❤️#foryoure #viralvideos #foryoupage #followers #everyone

About