@dobryaksibirayk88: #доброеутро #утро #прикол #юмор #смех #друзья #настроение #ДобряСибиряк #Серёга

Добряк Сибиряк
Добряк Сибиряк
Open In TikTok:
Region: RU
Saturday 09 October 2021 03:44:12 GMT
51737
397
14
852

Music

Download

Comments

user9371123190598
наталья :
пр вет
2025-11-27 17:38:29
0
svetlankazl
💖💞СВЕТЛАНКА💞💖 :
здоровский ролик😂😂😂
2021-10-11 22:44:55
4
anytei1
Анна :
вот что за музыка,такая классная,но мало
2025-07-16 07:46:52
0
user9371123190598
наталья :
перезагорал
2025-11-27 02:43:34
0
fire.leo
Fire Leo :
😂
2025-08-18 05:49:06
0
fire.leo
Fire Leo :
💋
2025-08-18 05:48:52
0
linza333
linza333Marina :
😁🤗
2025-06-30 01:40:19
0
tatyana_xd
TATYANA_XD :
🤣🤣🤣🤣🤣
2024-12-14 00:17:04
0
user23117135300001
user23117135300001юрик замок :
😂
2025-10-29 02:54:53
0
user3847709578577
контата :
какой он классный,такой позитивный🥰😂😂😂
2024-07-23 04:15:03
1
natapups5
Наташа :
😂😂😂
2021-10-10 02:47:07
0
olegolezik
olegolezik :
63+50
2021-10-10 14:19:14
0
natallya367
Наталья :
😳😂🤣👍
2021-10-10 15:05:21
0
stepka_471
user7090880365921 :
🥳🤩
2021-10-23 09:16:28
0
To see more videos from user @dobryaksibirayk88, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر ٹوٹنے سے چند منٹوں میں دریا بپھر گئے نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن سیلاب محض ایک معمول کا سیلاب نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر کی برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کے ایک انتہائی خطرناک امتزاج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ بڑی مقدار میں چٹان، مٹی اور تلچھٹ بھی نیچے آئی، جس نے برفانی و چٹانی تودے کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا۔ سیٹلائٹ تصاویر تباہی کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ جو پہاڑی ڈھلوانیں صرف ایک روز پہلے سبز اور برف سے ڈھکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں، وہ اگلے ہی روز بھورے ملبے، کیچڑ اور تلچھٹ کے نیچے دفن نظر آئیں۔ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ تباہی سے چند منٹ قبل آنے والے زلزلے نے گلیشیئر کے ٹوٹنے یا برفانی تودے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ایک اور اہم مشاہدہ یہ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں سانحے سے قبل تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران برف پگھلنے کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درجۂ حرارت اور موسمی حالات بھی اس واقعے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی اس سانحے کی بنیادی وجہ تھی۔ سیلاب نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور پانی، برف، بڑے پتھروں اور تلچھٹ کا ایک طاقتور ریلا نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریائی نظام تک پہنچے، جہاں Galchhi کے علاقے میں پانی کی سطح کے صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ سانحہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ متاثرہ پہاڑی علاقے میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ حتمی جانی نقصان اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اصل خطرہ صرف سیلاب نہیں ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات قدرتی آفات کی نوعیت کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پہاڑی ڈھلوانیں اور برفانی جھیلیں زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک آنے والے سیلاب ایک دوسرے کو متحرک کرکے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برف پوش پہاڑ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو چکے ہیں۔ ہندوکش ہمالیہ کا خطہ پہلے ہی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پانی کا خطرہ صرف بارش سے پیدا نہیں ہوتا۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف کا تیزی سے پگھلنا، زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کا بدلتا ہوا بہاؤ چند منٹوں میں مل کر ایسی تباہی پیدا کر سکتے ہیں جس کا اندازہ روایتی موسمی پیش گوئی سے لگانا انتہائی مشکل ہے۔ ہمالیہ صرف برف کے پہاڑ نہیں بلکہ ایشیا کے ایک بڑے حصے کے لیے پانی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اگر ان کے برفانی نظام میں تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف نیپال یا تبت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام، زراعت، آبادیوں اور پانی کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ نیپال کا یہ سانحہ ایک واضح انتباہ ہے کہ بدلتے ہوئے ہمالیائی ماحول کو سمجھنا، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی کرنا اور پہاڑی دریاؤں کے لیے جدید Early Warning Systems قائم کرنا اب کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ایک بار پھر دنیا کو ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر ہزاروں میٹر کی بلندی سے وادی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پیدا ہوا۔ زلزلہ، برف کا تیزی سے پگھلنا اور دیگر ماحولیاتی عوامل بھی اس واقعے میں ممکنہ طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سانحہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیہ میں قدرتی خطرات چند منٹوں میں ایک دوسرے سے جڑ کر تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ان کے اثرات نیپال سے کہیں آگے پورے جنوبی ایشیا کے دریاؤں، زراعت اور پانی کی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ #NepalFlood #NepalFlashFlood #GlacierCollapse #GlacialFlood #Himalayas
نیپال میں تباہ کن سیلاب: گلیشیئر ٹوٹنے سے چند منٹوں میں دریا بپھر گئے نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والا تباہ کن سیلاب محض ایک معمول کا سیلاب نہیں تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ گلیشیئر کی برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کے ایک انتہائی خطرناک امتزاج کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نیپال کے ضلع راسووا میں تقریباً 5,200 میٹر کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر تقریباً 1,200 میٹر نیچے وادی میں جا گرا۔ اس کے ساتھ بڑی مقدار میں چٹان، مٹی اور تلچھٹ بھی نیچے آئی، جس نے برفانی و چٹانی تودے کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے میں تبدیل کر دیا۔ سیٹلائٹ تصاویر تباہی کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ جو پہاڑی ڈھلوانیں صرف ایک روز پہلے سبز اور برف سے ڈھکی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں، وہ اگلے ہی روز بھورے ملبے، کیچڑ اور تلچھٹ کے نیچے دفن نظر آئیں۔ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ تباہی سے چند منٹ قبل آنے والے زلزلے نے گلیشیئر کے ٹوٹنے یا برفانی تودے کو حرکت میں لانے میں کردار ادا کیا ہو، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔ ایک اور اہم مشاہدہ یہ ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر میں سانحے سے قبل تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران برف پگھلنے کے واضح آثار دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ درجۂ حرارت اور موسمی حالات بھی اس واقعے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف موسمیاتی تبدیلی ہی اس سانحے کی بنیادی وجہ تھی۔ سیلاب نے Lhende River کے نظام کو متاثر کیا اور پانی، برف، بڑے پتھروں اور تلچھٹ کا ایک طاقتور ریلا نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ اس کے اثرات Bhote Koshi اور Trishuli دریائی نظام تک پہنچے، جہاں Galchhi کے علاقے میں پانی کی سطح کے صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ سانحہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ متاثرہ پہاڑی علاقے میں کئی ہائیڈرو پاور منصوبے موجود ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ حتمی جانی نقصان اب تک ملنے والی لاشوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے، جبکہ سینکڑوں افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اصل خطرہ صرف سیلاب نہیں ہمالیہ میں بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات قدرتی آفات کی نوعیت کو بھی تبدیل کر رہے ہیں۔ گلیشیئر سکڑ رہے ہیں، پہاڑی ڈھلوانیں اور برفانی جھیلیں زیادہ غیر مستحکم ہو سکتی ہیں، جبکہ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودے اور اچانک آنے والے سیلاب ایک دوسرے کو متحرک کرکے بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے برف پوش پہاڑ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے میں اپنے برفانی ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی حصہ کھو چکے ہیں۔ ہندوکش ہمالیہ کا خطہ پہلے ہی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، برفانی تودوں اور خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ اس سانحے کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ پہاڑی علاقوں میں پانی کا خطرہ صرف بارش سے پیدا نہیں ہوتا۔ گلیشیئر کا ٹوٹنا، برف کا تیزی سے پگھلنا، زلزلہ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کا بدلتا ہوا بہاؤ چند منٹوں میں مل کر ایسی تباہی پیدا کر سکتے ہیں جس کا اندازہ روایتی موسمی پیش گوئی سے لگانا انتہائی مشکل ہے۔ ہمالیہ صرف برف کے پہاڑ نہیں بلکہ ایشیا کے ایک بڑے حصے کے لیے پانی کا بنیادی ذخیرہ ہیں۔ اگر ان کے برفانی نظام میں تبدیلی کی رفتار مزید تیز ہوتی رہی تو اس کے اثرات صرف نیپال یا تبت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور پورے جنوبی ایشیا کے دریائی نظام، زراعت، آبادیوں اور پانی کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ نیپال کا یہ سانحہ ایک واضح انتباہ ہے کہ بدلتے ہوئے ہمالیائی ماحول کو سمجھنا، گلیشیئرز کی مسلسل نگرانی کرنا اور پہاڑی دریاؤں کے لیے جدید Early Warning Systems قائم کرنا اب کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پورے خطے کی مشترکہ ضرورت ہے۔ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن فلیش فلڈ نے ایک بار پھر دنیا کو ہمالیہ کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کے خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر ہزاروں میٹر کی بلندی سے وادی میں جا گرا، جس کے نتیجے میں برف، چٹان، مٹی، تلچھٹ اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پیدا ہوا۔ زلزلہ، برف کا تیزی سے پگھلنا اور دیگر ماحولیاتی عوامل بھی اس واقعے میں ممکنہ طور پر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ سانحہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمالیہ میں قدرتی خطرات چند منٹوں میں ایک دوسرے سے جڑ کر تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو سکتے ہیں، اور ان کے اثرات نیپال سے کہیں آگے پورے جنوبی ایشیا کے دریاؤں، زراعت اور پانی کی سلامتی تک پہنچ سکتے ہیں۔ #NepalFlood #NepalFlashFlood #GlacierCollapse #GlacialFlood #Himalayas

About