@as.consultys: Parodia del Ministro de Economía en los años 90 en Perú #gasolina #Inflacion #peru #economía #HurtadoMiller

As.Consultys
As.Consultys
Open In TikTok:
Region: PE
Friday 22 April 2022 21:47:26 GMT
6573
137
3
31

Music

Download

Comments

helemart_88
Helemar :
Jajaja
2026-03-29 21:51:30
0
elpicklerick
rick p :V :
jajajajajajaja no ha cambiado nada
2022-04-27 13:23:48
0
To see more videos from user @as.consultys, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پریس ریلیز: 24 جون 2026 *صوابی پولیس کی بڑی کامیابی، گڈوڈ آباد گروپ کے 03 خطرناک اشتہاری مجرمان فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک، ہینڈ گرنیٹ ،03 عدد کلاشنکوف و سینکڑوں  ایمونیشن برآمد* تفصیلات کے مطابق صوابی پولیس کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ بمقام مانیری پہاڑ میں پانچ اشتہاری مجرمان کسی ممکنہ تخریبی کارروائی کے لیے موجود ہیں۔ اطلاع کی تصدیق پر بھاری پولیس نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچی۔ پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی ملزمان نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا اور اپنے اپنے  کلاشنکوف سے پولیس پر ارادۂ قتل فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا۔ کچھ دیر فائرنگ کے تبادلے کے بعد ملزمان کی جانب سے فائرنگ بند ہو گئی، جس کے بعد سرچ آپریشن میں تین ملزمان ہلاک حالت میں پائے گئے۔ *ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت عامر ولد عزت خان، زوہیب ولد شیر زمین ساکنان گڈوڈ آباد ضلع صوابی اور عمر سید  ولد جان سید عرف جانے ساکن مانیری ضلع صوابی کے طور پر ہوئی*۔ جائے وقوعہ سے ایک عدد ہینڈ گرنیٹ، تین عدد کلاشنکوفیں اور سینکڑوں کارتوس برآمد کیے گئے۔ ہلاک ملزم عامر 15 مختلف مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں قتلِ ، اقدامِ قتل، اغواء کاری، بھتہ خوری، بدمعاشی، مجرمانہ دخل اندازی، جعلسازی، دھوکہ دہی،دھمکاء ڈرانے اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ اس کے خلاف مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں دفعات 302، 324/34، 420، 468، 471، 447، 355، 427، 342، 512/109 سمیت دیگر سنگین دفعات جبکہ پولیس پارٹی پر فائرنگ کے مقدمات میں 324، 353، 7ATA، 15AA، 13 KPK، 3/4 Explosive Act، 148 اور 149 PPC بھی شامل ہیں۔ ملزم زوہیب کے خلاف منشیات فروشی، دھمکیاں دینے، اقدامِ قتل، سہولت کاری اور پولیس پارٹی پر فائرنگ سمیت 06 مقدمات درج تھے، جبکہ ملزم عمر سید ولد سید عرف جانے پولیس پارٹی پر فائرنگ اور سہولت کاری ،اور اجرتی مجرمان کیساتھ شامل مجرم تھا  تینوں ملزمان ایک منظم اور خطرناک اجرتی قاتل گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری، اغواء، منشیات فروشی، سہولت کاری اور پولیس پر فائرنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی۔ واقعے کے بعد فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت
پریس ریلیز: 24 جون 2026 *صوابی پولیس کی بڑی کامیابی، گڈوڈ آباد گروپ کے 03 خطرناک اشتہاری مجرمان فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک، ہینڈ گرنیٹ ،03 عدد کلاشنکوف و سینکڑوں ایمونیشن برآمد* تفصیلات کے مطابق صوابی پولیس کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ بمقام مانیری پہاڑ میں پانچ اشتہاری مجرمان کسی ممکنہ تخریبی کارروائی کے لیے موجود ہیں۔ اطلاع کی تصدیق پر بھاری پولیس نفری فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچی۔ پولیس پارٹی کو دیکھتے ہی ملزمان نے ہینڈ گرنیڈ پھینکا اور اپنے اپنے کلاشنکوف سے پولیس پر ارادۂ قتل فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا۔ کچھ دیر فائرنگ کے تبادلے کے بعد ملزمان کی جانب سے فائرنگ بند ہو گئی، جس کے بعد سرچ آپریشن میں تین ملزمان ہلاک حالت میں پائے گئے۔ *ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت عامر ولد عزت خان، زوہیب ولد شیر زمین ساکنان گڈوڈ آباد ضلع صوابی اور عمر سید ولد جان سید عرف جانے ساکن مانیری ضلع صوابی کے طور پر ہوئی*۔ جائے وقوعہ سے ایک عدد ہینڈ گرنیٹ، تین عدد کلاشنکوفیں اور سینکڑوں کارتوس برآمد کیے گئے۔ ہلاک ملزم عامر 15 مختلف مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں قتلِ ، اقدامِ قتل، اغواء کاری، بھتہ خوری، بدمعاشی، مجرمانہ دخل اندازی، جعلسازی، دھوکہ دہی،دھمکاء ڈرانے اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ اس کے خلاف مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں دفعات 302، 324/34، 420، 468، 471، 447، 355، 427، 342، 512/109 سمیت دیگر سنگین دفعات جبکہ پولیس پارٹی پر فائرنگ کے مقدمات میں 324، 353، 7ATA، 15AA، 13 KPK، 3/4 Explosive Act، 148 اور 149 PPC بھی شامل ہیں۔ ملزم زوہیب کے خلاف منشیات فروشی، دھمکیاں دینے، اقدامِ قتل، سہولت کاری اور پولیس پارٹی پر فائرنگ سمیت 06 مقدمات درج تھے، جبکہ ملزم عمر سید ولد سید عرف جانے پولیس پارٹی پر فائرنگ اور سہولت کاری ،اور اجرتی مجرمان کیساتھ شامل مجرم تھا تینوں ملزمان ایک منظم اور خطرناک اجرتی قاتل گروہ سے تعلق رکھتے تھے جو قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری، اغواء، منشیات فروشی، سہولت کاری اور پولیس پر فائرنگ جیسے سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ان کی سرگرمیوں کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی۔ واقعے کے بعد فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن جاری ہے جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت

About