@coachmedachi:

MedAchi
MedAchi
Open In TikTok:
Region: MA
Friday 27 May 2022 20:26:12 GMT
604
152
10
32

Music

Download

Comments

aidaa_b0
Aida 1984 :
🥰🥰🥰
2022-05-27 21:36:40
1
nawalmojahid0
nawal nawal :
شكرا🥰
2022-05-27 21:52:49
1
sanaa_620
سناء :
تم 10اكسبلورر
2022-05-30 09:53:56
1
driss2670
driss2670 :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2022-06-05 02:54:30
1
rabititwani
ربيع تطواني :
😳😳😳
2022-06-19 00:26:22
1
To see more videos from user @coachmedachi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*بابا... کیا بابا اپنے لال کو یوں چھوڑ جاتے ہیں...؟ 😭* میں اپنی نئی بیوی کے ساتھ... اپنی نئی گاڑی میں... خوشیوں میں جا رہا تھا... گرمی لگی تو میں نے گاڑی ایک ویران، سوکھے درخت کے سائے میں روک دی... ہم دونوں گاڑی سے اترے... سامنے فٹ پاتھ پر ایک لاچار، بے سہارا عورت بیٹھی تھی... پھٹا ہوا، تار تار دوپٹہ... دھوپ میں جھلسا ہوا زرد چہرہ... پیاس سے پھٹے ہوئے خشک ہونٹ... آنکھوں میں چار سال کی بھوک، بے بسی اور بے خوابی... اور اس کی خالی گود میں ایک معصوم، مظلوم سا بچہ تھا... چار سال کا... ننگے پاؤں... پھٹے، میلے کپڑوں میں... ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا، خالی کشکول لیے... چہرے پر فاقوں کی مٹی اور آنکھوں میں یتیمی کے آنسو... میں نے اس بچے کو غور سے دیکھا... تو میرا کلیجہ چاک ہو گیا... میری روح کانپ گئی... *اس کے معصوم نین نقش... اس کی سونی آنکھیں... چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے... بابا میں تیرا خون ہوں... میں تیرا بچھڑا ہوا لال ہوں... مجھے پہچانو بابا...* میرے ہاتھ سے گاڑی کی چابی ٹن کر کے زمین پر گر گئی... اس عورت نے بے بسی سے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا... وہ میری سابقہ بیوی تھی... میری پہلی محبت... وہی جسے میرے ظالم گھر والوں نے حاملہ حالت میں... روتے تڑپتے... دھکے دے کر... گھر کی دہلیز سے نکال دیا تھا... ہم دونوں پتھر کے بت بن گئے... میرا معصوم بچہ مجھے دیکھ کر سہم گیا... ڈر کر اپنی ماں کے پھٹے ہوئے آنچل میں چھپ گیا... اور کانپتی آواز میں بولا... *امی... یہ کون ہیں...؟ یہ ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں...؟* اس کی مظلوم ماں کی آنکھوں میں چار سال بعد ساون برس پڑا... اس نے تڑپ کر اپنے بیٹے کے مٹی سے بھرے، سوکھے ماتھے کو چوما اور ہچکیاں لے کر بولی... *میرے لال... یہ آپ کے بابا ہیں...* *یہی آپ کے بابا ہیں بیٹا... جن کی دھندلی تصویر دکھا کر میں تمہیں ہر رات... بھوکا سلا دیتی تھی... کہتی تھی تیرا بابا ایک دن ضرور آئے گا...* یہ سنتے ہی میرا پھول جیسا بیٹا پھوٹ پھوٹ کر... چیخیں مار کر رونے لگا... *بابا آپ کہاں چلے گئے تھے...؟ آپ ہمیں اس ویرانے میں چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے...؟ کیا بابا اپنے جگر کے ٹکڑے کو یوں بے سہارا چھوڑ جاتے ہیں...؟ 😢* *بابا دادو نے امی کو بہت بے دردی سے مارا تھا... میں نے اپنی ان ننھی آنکھوں سے دیکھا تھا... امی چیختی رہی... روتی رہی... کہتی رہی میرے معصوم کو مت نکالو...* *بابا ہم اس کالی رات سردی میں اسی پتھر جیسے فٹ پاتھ پر سوئے تھے... میں بھوک سے تڑپتا رہا... تڑپتا رہا... امی کے پاس مجھے دینے کو ایک نوالہ بھی نہیں تھا... اس نے اپنا پھٹا ہوا دوپٹہ مجھے اوڑھا دیا تھا...* *بابا سب بچے سکول جاتے ہیں... نئے جوتے... نئے کپڑے پہنتے ہیں... میرے پاؤں میں چپل تک نہیں ہے... میں یہاں کشکول لے کر بھیک مانگتا ہوں... بابا کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں...؟ کیا میرا کوئی حق نہیں...؟* میں اپنے ہی بیٹے کے سامنے شرم سے زمین میں گڑ گیا... گھٹنوں کے بل گر گیا... اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولا... *معاف کر دے میرے لال... تیرا بابا بے بس تھا... مجبور تھا... تیرا بابا بہت گنہگار ہے... جو تجھے اس فٹ پاتھ پر چھوڑ گیا...* میں نے کانپتے ہاتھوں سے اسے گود میں لینا چاہا... تو میری نئی بیوی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا... اور نفرت سے بولی... چلو یہاں سے... تماشا بن رہا ہے... لوگ دیکھ رہے ہیں... میرے اندر کا باپ چیخ اٹھا... میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا... *تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے والی...؟* *تم کون ہوتی ہو کہ میں اپنے دل کے ٹکڑے کو... اپنے جگر کے لال کو... اس کچرے پر چھوڑ دوں...؟ یہ میرا خون ہے... میرا اپنا خون... جو فٹ پاتھ پر بھیک مانگ رہا ہے... اور تمہیں تماشے کی فکر ہے...؟* میں نے اپنے بیٹے کو... اس کی ساری مٹی... اس کے سارے آنسوؤں سمیت... اپنے کلیجے سے لگا لیا... وہ میری گردن سے لپٹ گیا اور سسکیاں لے لے کر بس اتنا بولا... *بابا... مجھے یہاں سے لے جاؤ نا... یہاں بہت بھوک لگتی ہے... یہاں بہت سردی لگتی ہے... مجھے بہت ڈر لگتا ہے بابا... 😭💔* #Foryou #SadStory #UrduStory #EmotionalStory #viral
*بابا... کیا بابا اپنے لال کو یوں چھوڑ جاتے ہیں...؟ 😭* میں اپنی نئی بیوی کے ساتھ... اپنی نئی گاڑی میں... خوشیوں میں جا رہا تھا... گرمی لگی تو میں نے گاڑی ایک ویران، سوکھے درخت کے سائے میں روک دی... ہم دونوں گاڑی سے اترے... سامنے فٹ پاتھ پر ایک لاچار، بے سہارا عورت بیٹھی تھی... پھٹا ہوا، تار تار دوپٹہ... دھوپ میں جھلسا ہوا زرد چہرہ... پیاس سے پھٹے ہوئے خشک ہونٹ... آنکھوں میں چار سال کی بھوک، بے بسی اور بے خوابی... اور اس کی خالی گود میں ایک معصوم، مظلوم سا بچہ تھا... چار سال کا... ننگے پاؤں... پھٹے، میلے کپڑوں میں... ہاتھ میں ایک ٹوٹا ہوا، خالی کشکول لیے... چہرے پر فاقوں کی مٹی اور آنکھوں میں یتیمی کے آنسو... میں نے اس بچے کو غور سے دیکھا... تو میرا کلیجہ چاک ہو گیا... میری روح کانپ گئی... *اس کے معصوم نین نقش... اس کی سونی آنکھیں... چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے... بابا میں تیرا خون ہوں... میں تیرا بچھڑا ہوا لال ہوں... مجھے پہچانو بابا...* میرے ہاتھ سے گاڑی کی چابی ٹن کر کے زمین پر گر گئی... اس عورت نے بے بسی سے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا... وہ میری سابقہ بیوی تھی... میری پہلی محبت... وہی جسے میرے ظالم گھر والوں نے حاملہ حالت میں... روتے تڑپتے... دھکے دے کر... گھر کی دہلیز سے نکال دیا تھا... ہم دونوں پتھر کے بت بن گئے... میرا معصوم بچہ مجھے دیکھ کر سہم گیا... ڈر کر اپنی ماں کے پھٹے ہوئے آنچل میں چھپ گیا... اور کانپتی آواز میں بولا... *امی... یہ کون ہیں...؟ یہ ہمیں ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں...؟* اس کی مظلوم ماں کی آنکھوں میں چار سال بعد ساون برس پڑا... اس نے تڑپ کر اپنے بیٹے کے مٹی سے بھرے، سوکھے ماتھے کو چوما اور ہچکیاں لے کر بولی... *میرے لال... یہ آپ کے بابا ہیں...* *یہی آپ کے بابا ہیں بیٹا... جن کی دھندلی تصویر دکھا کر میں تمہیں ہر رات... بھوکا سلا دیتی تھی... کہتی تھی تیرا بابا ایک دن ضرور آئے گا...* یہ سنتے ہی میرا پھول جیسا بیٹا پھوٹ پھوٹ کر... چیخیں مار کر رونے لگا... *بابا آپ کہاں چلے گئے تھے...؟ آپ ہمیں اس ویرانے میں چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے...؟ کیا بابا اپنے جگر کے ٹکڑے کو یوں بے سہارا چھوڑ جاتے ہیں...؟ 😢* *بابا دادو نے امی کو بہت بے دردی سے مارا تھا... میں نے اپنی ان ننھی آنکھوں سے دیکھا تھا... امی چیختی رہی... روتی رہی... کہتی رہی میرے معصوم کو مت نکالو...* *بابا ہم اس کالی رات سردی میں اسی پتھر جیسے فٹ پاتھ پر سوئے تھے... میں بھوک سے تڑپتا رہا... تڑپتا رہا... امی کے پاس مجھے دینے کو ایک نوالہ بھی نہیں تھا... اس نے اپنا پھٹا ہوا دوپٹہ مجھے اوڑھا دیا تھا...* *بابا سب بچے سکول جاتے ہیں... نئے جوتے... نئے کپڑے پہنتے ہیں... میرے پاؤں میں چپل تک نہیں ہے... میں یہاں کشکول لے کر بھیک مانگتا ہوں... بابا کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں...؟ کیا میرا کوئی حق نہیں...؟* میں اپنے ہی بیٹے کے سامنے شرم سے زمین میں گڑ گیا... گھٹنوں کے بل گر گیا... اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولا... *معاف کر دے میرے لال... تیرا بابا بے بس تھا... مجبور تھا... تیرا بابا بہت گنہگار ہے... جو تجھے اس فٹ پاتھ پر چھوڑ گیا...* میں نے کانپتے ہاتھوں سے اسے گود میں لینا چاہا... تو میری نئی بیوی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا... اور نفرت سے بولی... چلو یہاں سے... تماشا بن رہا ہے... لوگ دیکھ رہے ہیں... میرے اندر کا باپ چیخ اٹھا... میں نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا... *تم کون ہوتی ہو مجھے روکنے والی...؟* *تم کون ہوتی ہو کہ میں اپنے دل کے ٹکڑے کو... اپنے جگر کے لال کو... اس کچرے پر چھوڑ دوں...؟ یہ میرا خون ہے... میرا اپنا خون... جو فٹ پاتھ پر بھیک مانگ رہا ہے... اور تمہیں تماشے کی فکر ہے...؟* میں نے اپنے بیٹے کو... اس کی ساری مٹی... اس کے سارے آنسوؤں سمیت... اپنے کلیجے سے لگا لیا... وہ میری گردن سے لپٹ گیا اور سسکیاں لے لے کر بس اتنا بولا... *بابا... مجھے یہاں سے لے جاؤ نا... یہاں بہت بھوک لگتی ہے... یہاں بہت سردی لگتی ہے... مجھے بہت ڈر لگتا ہے بابا... 😭💔* #Foryou #SadStory #UrduStory #EmotionalStory #viral

About