@that_avgeek: Let me know what you want me to post!#CapCut#aviation #butter

.
.
Open In TikTok:
Region: GB
Saturday 09 July 2022 14:06:37 GMT
231
33
2
0

Music

Download

Comments

daan_sh024
Daan :
Maybe you find something on my page
2022-07-09 17:02:48
0
dutch_aviationguy
𝔉𝔩𝔶𝔦𝔫𝔤𝔇𝔲𝔱𝔠𝔥𝔪𝔞𝔫✈︎ :
Something with fighter jets or other military aircraft?
2022-07-10 05:20:22
0
To see more videos from user @that_avgeek, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سقراط کا یہ تاریخی جملہ انسان کے اصولوں، سچی فکر اور موت سے بالاتر اخلاقی فتح کی ایک بے مثال تصویر پیش کرتا ہے۔ اس واقعے اور قول کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ایک عام انسان کے لیے زندگی کی اہمیت صرف جسمانی طور پر زندہ رہنے میں ہوتی ہے، چاہے اس کے لیے اسے اپنے اصولوں کا سودا ہی کیوں نہ کرنا پڑے یا گناہ اور ذلت کی زندگی گزارنی پڑے۔ سقراط کے شاگرد صرف اس کے جسمانی وجود کو ختم ہوتے دیکھ کر رو رہے تھے اور ان کے نزدیک سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ ایک بے گناہ شخص کی جان لی جا رہی ہے۔ لیکن سقراط نے اپنے جواب سے کامیابی اور ناکامی کا پورا زاویہ ہی بدل دیا۔ سقراط کے نزدیک سب سے بڑی بدقسمتی یا تباہی یہ نہیں کہ انسان بے گناہ مارا جائے، بلکہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنے نظریات، سچائی اور اخلاقیات سے مکر کر گناہ اور ناانصافی کی حالت میں زندگی گزارے یا مرے۔ سقراط نے اپنے شاگردوں کو یہ تلخ مگر عظیم سچائی سکھائی کہ مظلوم ہو کر مر جانا ظالم یا گناہ گار بن کر جینے سے ہزار درجے بہتر ہے۔ اگر وہ اپنے سچ سے پیچھے ہٹ جاتا، معافی مانگ لیتا یا اپنے اصولوں کی قربانی دے دیتا تو وہ گناہ گار بن جاتا۔ بے گناہ مارے جانے نے اس کے جسم کو تو ختم کر دیا، لیکن اس کے نظریے، اس کے سچ اور اس کی روح کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا عرصہ جیتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ کس حد تک اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ جب انسان سچ کی راہ پر ہوتا ہے تو موت بھی اس کی شکست نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی فتح بن جاتی ہے۔ #foryour #fypppppppppppppppppppppppppppppp #trending #quotestory #quotes
سقراط کا یہ تاریخی جملہ انسان کے اصولوں، سچی فکر اور موت سے بالاتر اخلاقی فتح کی ایک بے مثال تصویر پیش کرتا ہے۔ اس واقعے اور قول کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ایک عام انسان کے لیے زندگی کی اہمیت صرف جسمانی طور پر زندہ رہنے میں ہوتی ہے، چاہے اس کے لیے اسے اپنے اصولوں کا سودا ہی کیوں نہ کرنا پڑے یا گناہ اور ذلت کی زندگی گزارنی پڑے۔ سقراط کے شاگرد صرف اس کے جسمانی وجود کو ختم ہوتے دیکھ کر رو رہے تھے اور ان کے نزدیک سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ ایک بے گناہ شخص کی جان لی جا رہی ہے۔ لیکن سقراط نے اپنے جواب سے کامیابی اور ناکامی کا پورا زاویہ ہی بدل دیا۔ سقراط کے نزدیک سب سے بڑی بدقسمتی یا تباہی یہ نہیں کہ انسان بے گناہ مارا جائے، بلکہ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اپنے نظریات، سچائی اور اخلاقیات سے مکر کر گناہ اور ناانصافی کی حالت میں زندگی گزارے یا مرے۔ سقراط نے اپنے شاگردوں کو یہ تلخ مگر عظیم سچائی سکھائی کہ مظلوم ہو کر مر جانا ظالم یا گناہ گار بن کر جینے سے ہزار درجے بہتر ہے۔ اگر وہ اپنے سچ سے پیچھے ہٹ جاتا، معافی مانگ لیتا یا اپنے اصولوں کی قربانی دے دیتا تو وہ گناہ گار بن جاتا۔ بے گناہ مارے جانے نے اس کے جسم کو تو ختم کر دیا، لیکن اس کے نظریے، اس کے سچ اور اس کی روح کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا عرصہ جیتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ کس حد تک اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔ جب انسان سچ کی راہ پر ہوتا ہے تو موت بھی اس کی شکست نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی فتح بن جاتی ہے۔ #foryour #fypppppppppppppppppppppppppppppp #trending #quotestory #quotes

About