@labitandrew: Day 7 of trying to get the Jackpot in a 1930’s Slot Machine! #slotmachineguy #slotmachine #gambling #fyp #day7 #foryoupage

Andrew Labit
Andrew Labit
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 30 August 2022 19:33:36 GMT
50094
2136
18
1

Music

Download

Comments

legoking378
Anton - M🌕on B💣mb :
what happeed to the more futuristik slot mashiene? and haven't you won at this one?
2022-08-30 19:43:51
8
thomashonda7
thomashonda7 :
I hope u get it soon man
2022-08-30 19:38:49
6
peterpumpkineater69.9
toastedcarrotrockslookalike :
hi
2022-08-30 19:37:19
2
theo.tan1
Theo :
Second
2022-08-30 19:37:25
2
aviii791
. :
FIRST
2022-08-30 19:37:29
2
henderson_1222
Henderson_12 :
what is up
2022-08-30 19:50:06
2
winthropgrad05
Winthropgrad :
We will never forget the year 1996. Remember….. REMEMBER.
2022-08-30 20:00:48
2
i.rappeno
I.Rappeno :
First
2022-08-30 19:36:58
1
ysnk117
Yaseen :
4th
2022-08-30 19:45:31
1
ethanjcle
ethanjcle :
Hi
2022-08-30 19:46:26
1
lord_mebus
Lord_Mebus :
Hi
2022-08-30 20:34:08
1
harmz.fn
️ :
gl
2022-08-30 21:41:00
1
randomguy.75
... :
I thought it was on day 100 or something I haven't seen you in a month
2022-08-31 14:24:34
1
mariaolooya
mariaoloOya :
Try a magnet some of these old machines hit the JACKPOT!!!🥰🥰🥰🥰
2022-09-17 22:46:50
1
gohan_rice6
elijahschubick :
do you believe in god?
2022-10-04 15:21:21
1
To see more videos from user @labitandrew, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں نے وقت سے کہا تھا، گزر جا… وقت تو بے رحم تھا، گزر گیا۔ مگر میں؟ میں آج بھی وہیں کھڑی ہوں، اسی ایک لمحے میں جہاں میرا دل مرا تھا۔ لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ زخم جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ اور روح کے زخموں پر وقت مرہم نہیں رکھتا، بس انسان کو ان کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔ دن گزرتے رہے، موسم بدلتے رہے، لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھتے گئے، مگر میری زندگی کی گھڑی اُسی ایک لمحے پر آ کر رک گئی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ خود کو سمجھاؤں، کہ جو گزر گیا اسے گزر جانے دو، مگر دل کہاں مانتا ہے؟ کچھ لمحے گزر نہیں جاتے، وہ انسان کے اندر گھر کر لیتے ہیں۔ پھر چاہے برس بیت جائیں، ان کی چاپ دل کی خاموش گلیوں میں سنائی دیتی رہتی ہے۔ میں مسکراتی ہوں، باتیں کرتی ہوں، لوگوں کے درمیان بیٹھتی ہوں، اپنے حصے کے سارے کام بھی کرتی ہوں، مگر میرے اندر ایک جگہ ایسی ہے جہاں آج بھی سناٹا ہے۔ جہاں ایک ادھوری آواز ہے، ایک آخری نظر ہے، ایک ایسا درد ہے جسے میں نے کبھی کسی کے سامنے مکمل بیان نہیں کیا۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میں زندہ تو ہوں، مگر اپنی زندگی میں موجود نہیں ہوں۔ میرا وجود آج میں سانس لیتا ہے، مگر میرا دل اب بھی اُس گزرے ہوئے کل کی قبر پر بیٹھا ہے۔ میں نے وقت کو جانے دیا، یادوں کو دفن کرنے کی کوشش کی، خود کو بہت سمجھایا… مگر کچھ جدائیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ بس خاموش ہو جاتی ہیں۔ اور شاید میری سب سے بڑی اذیت یہی ہے کہ وقت گزر گیا، لوگ بدل گئے، زندگی آگے نکل گئی… مگر میں نہیں نکل سکی۔ میں آج بھی اسی لمحے میں دفن ہوں، جہاں کسی نے مجھ سے صرف ایک شخص نہیں چھینا تھا، بلکہ میرے اندر کا ایک پورا جہان چھین لیا تھا۔ وقت گزر گیا… مگر میں آج بھی وہیں ہوں، جہاں میرا دل آخری بار دھڑکا تھا، اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
میں نے وقت سے کہا تھا، گزر جا… وقت تو بے رحم تھا، گزر گیا۔ مگر میں؟ میں آج بھی وہیں کھڑی ہوں، اسی ایک لمحے میں جہاں میرا دل مرا تھا۔ لوگ کہتے ہیں وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، مگر شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ زخم جسم پر نہیں، روح پر لگتے ہیں۔ اور روح کے زخموں پر وقت مرہم نہیں رکھتا، بس انسان کو ان کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔ دن گزرتے رہے، موسم بدلتے رہے، لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھتے گئے، مگر میری زندگی کی گھڑی اُسی ایک لمحے پر آ کر رک گئی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ خود کو سمجھاؤں، کہ جو گزر گیا اسے گزر جانے دو، مگر دل کہاں مانتا ہے؟ کچھ لمحے گزر نہیں جاتے، وہ انسان کے اندر گھر کر لیتے ہیں۔ پھر چاہے برس بیت جائیں، ان کی چاپ دل کی خاموش گلیوں میں سنائی دیتی رہتی ہے۔ میں مسکراتی ہوں، باتیں کرتی ہوں، لوگوں کے درمیان بیٹھتی ہوں، اپنے حصے کے سارے کام بھی کرتی ہوں، مگر میرے اندر ایک جگہ ایسی ہے جہاں آج بھی سناٹا ہے۔ جہاں ایک ادھوری آواز ہے، ایک آخری نظر ہے، ایک ایسا درد ہے جسے میں نے کبھی کسی کے سامنے مکمل بیان نہیں کیا۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میں زندہ تو ہوں، مگر اپنی زندگی میں موجود نہیں ہوں۔ میرا وجود آج میں سانس لیتا ہے، مگر میرا دل اب بھی اُس گزرے ہوئے کل کی قبر پر بیٹھا ہے۔ میں نے وقت کو جانے دیا، یادوں کو دفن کرنے کی کوشش کی، خود کو بہت سمجھایا… مگر کچھ جدائیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ بس خاموش ہو جاتی ہیں۔ اور شاید میری سب سے بڑی اذیت یہی ہے کہ وقت گزر گیا، لوگ بدل گئے، زندگی آگے نکل گئی… مگر میں نہیں نکل سکی۔ میں آج بھی اسی لمحے میں دفن ہوں، جہاں کسی نے مجھ سے صرف ایک شخص نہیں چھینا تھا، بلکہ میرے اندر کا ایک پورا جہان چھین لیا تھا۔ وقت گزر گیا… مگر میں آج بھی وہیں ہوں، جہاں میرا دل آخری بار دھڑکا تھا، اور پھر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

About