@jessjuicem:

jessjuicem
jessjuicem
Open In TikTok:
Region: NZ
Wednesday 07 September 2022 01:33:08 GMT
3943
273
10
7

Music

Download

Comments

ienjoynaps
Sophie :
Facts
2022-09-07 05:34:26
1
jasminevroegop
jasminevroegop :
HELP HAHXHSHAHAHAHA
2022-09-07 03:34:24
1
sseptemberlily
sseptemberlily :
No way
2022-09-07 01:37:23
1
jasminevroegop
jasminevroegop :
JESS YOU LOOK SO GOOD
2022-09-07 03:34:43
1
To see more videos from user @jessjuicem, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہمیں عمل کرنے کی کھلی مہلت ہے لیکن کوئی فوری حساب نہیں، جبکہ مٹی کے نیچے ایک ایسی دنیا آباد ہے جہاں صرف حساب ہے اور عمل کی ایک سیکنڈ کی مہلت بھی نہیں۔ ہم روزانہ جس نماز کو
دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہمیں عمل کرنے کی کھلی مہلت ہے لیکن کوئی فوری حساب نہیں، جبکہ مٹی کے نیچے ایک ایسی دنیا آباد ہے جہاں صرف حساب ہے اور عمل کی ایک سیکنڈ کی مہلت بھی نہیں۔ ہم روزانہ جس نماز کو "کل پڑھیں گے" کہہ کر ٹال دیتے ہیں، مٹی کے نیچے سوئے ہوئے لوگ اس ایک وقت کی نماز کی اصلی قیمت دیکھ چکے ہیں۔ اگر آج وہ بول سکتے، تو وہ ہمیں کیا نصیحت کرتے؟ اس مضمون میں ہم شریعت کی روشنی میں اسی ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھائیں گے کہ آخر ایک وقت کی نماز کی اصلی اہمیت کیا ہے؟ [(:( دنیا کی حقیقت اور غفلت ):)] اللّٰہ رب العزت نے انسان کو دنیا میں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن دنیاوی مصروفیات کی وجہ سے انسان اکثر موت کی حقیقت اور نماز کو بھول جاتا ہے۔ انسان روزانہ دوسروں کو قبر میں اترتے دیکھتا ہے، لیکن اپنی موت سے غافل رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے ہم نماز کی اس حقیقی قیمت کا اندازہ نہیں لگا سکتے جس کا سامنا انسان کو مرنے کے فوراً بعد کرنا پڑتا ہے۔ [(:( قبر میں نماز کا ڈھال بننا ):)] شریعت کے مطابق، جب انسان کو قبر میں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے، تو اس کے ساتھ صرف اس کے اعمال جاتے ہیں۔ مستند احادیث میں واضح ہے کہ جب عذاب انسان کے سر کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کی "نماز" رکاوٹ بن کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے اور عذاب کو روک دیتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان پر واضح ہوتا ہے کہ دنیا میں پڑھی گئی نماز قبر کے عذاب سے بچانے کا کتنا بڑا ذریعہ ہے [(:( عمل کی مہلت کا ختم ہونا اور حسرت ):)] دنیا دارالامتحان (امتحان کی جگہ) ہے جہاں صرف عمل ہے اور حساب نہیں، جبکہ موت کے بعد صرف حساب ہے اور عمل کی کوئی مہلت نہیں۔ مٹی کے نیچے سوئے ہوئے لوگ دنیاوی مال و دولت کے لیے نہیں ترستے، بلکہ وہ نیکیوں کے لیے ترستے ہیں۔ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ اگر قبر والوں کو دنیا میں واپس آنے کی اجازت ملے، تو وہ دو رکعت نماز پڑھنے کو پوری دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ پسند کریں گے۔ موت کے بعد انسان ایک ایک سجدے کی حسرت کرتا ہے لیکن مہلت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ [(:( قیامت کے دن پہلا سوال ):)] شریعت کا بنیادی اصول ہے کہ قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔ اگر نماز کا حساب ٹھیک رہا تو وہ شخص کامیاب ہو گیا، اور اگر نماز کا حساب خراب ہوا تو وہ ناامید اور خسارے میں رہا۔ مٹی کے نیچے سوئے ہوئے لوگ اس حقیقت کا مشاہدہ کر چکے ہیں کہ کفر اور اسلام کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہی ہے۔ ایک وقت کی نماز کو ضائع کرنا آخرت کی ابدی زندگی کی بربادی کا سبب بنتا ہے۔ (:( حاصلِ کلام ):) جب تک انسان زندہ ہے، اس کے پاس توبہ اور نماز قائم کرنے کا وقت موجود ہے تاکہ وہ اللّٰہ پاک کو راضی کر سکے۔ مٹی کے نیچے جانے کے بعد صرف پچھتاوا ہوگا اور عمل کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔ اس لیے شریعت کا تقاضا ہے کہ موت آنے سے پہلے پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی کی جائے تاکہ اللّٰہ تعالٰی کے حضور سرخروئی، اور قبر و آخرت کے عذاب سے نجات مل سکے۔ طالب دُعا محمد عرفان 🤲 🥺 اس تحریر کو صرف اردو زبان میں پڑھیں ٹک ٹوک پر دوسری زبانوں میں ترجمہ نہ کریں کیونکہ یہ ترجمہ غلط کرتا ہے جزاک اللّٰہ خیرا 🤲 🫂 🥺 #IslamicReminder #IslamicMotivation #islamic_media #viral #IslamicPost

About