@wesam19845: #تصاميم #ابداع #صور #خواطر #fyp #الهاشتاقات #CapCut #explore #fypシ

Wessam
Wessam
Open In TikTok:
Region: SA
Tuesday 20 December 2022 19:41:53 GMT
306
2
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @wesam19845, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

caption اس کے ساتھ لڑائی تو بہت چھوٹی سی تھی، اتنی کہ شاید کسی اور رشتے میں ہوتی تو چند لمحوں کی ناراضی کے بعد ختم بھی ہو جاتی، مگر میرے لیے وہ ایک معمولی سی لڑائی نہیں تھی، کیونکہ اُس چھوٹی سی تلخی میں میں نے اُس کے اندر دبی ہوئی بہت گہری نفرت کو دیکھ لیا تھا۔ وہ نفرت جس کا مجھے کبھی گمان تک نہیں ہوا تھا، وہ بے زاری جو شاید جانے کب سے اُس کے دل کے کسی کونے میں پل رہی تھی اور میں محبت کے بھروسے پر اسے نظرانداز کرتی رہی۔ اُس دن اُس کے چند لفظوں نے میرے اندر برسوں سے بنے ہوئے یقین کو ایک ہی لمحے میں ہلا کر رکھ دیا۔ مجھے تکلیف اس بات کی نہیں ہوئی کہ ہماری لڑائی ہوئی، تکلیف تو یہ دیکھ کر ہوئی کہ جس شخص کے لہجے میں کبھی میرے لیے محبت، اپنائیت اور فکر ہوا کرتی تھی، اُس کے لہجے میں میرے لیے اتنی سختی کہاں سے آ گئی؟ میں سوچتی رہی کہ آخر میں نے ایسا کیا کھو دیا کہ اُس کے دل میں میرے لیے محبت کی جگہ اتنی بے زاری نے لے لی۔ شاید کچھ لوگ ایک دم نہیں بدلتے، وہ آہستہ آہستہ اپنے دل سے ہمیں نکالتے رہتے ہیں اور ہم اُن کے ہر بدلتے رویے کو حالات، مصروفیت، تھکن یا وقتی غصے کا نام دے کر خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں۔ میں بھی یہی کرتی رہی۔ اُس کے بدلتے لہجے کو نظرانداز کیا، اُس کی خاموشیوں کو سمجھنے کی کوشش کی، اُس کی دوریوں کے لیے بہانے تراشے، صرف اس لیے کہ میرے دل کو یہ ماننا مشکل تھا کہ جس شخص کو میں نے اتنی سچائی سے چاہا، اُس کے دل میں شاید میرے لیے وہ جگہ باقی ہی نہیں رہی۔ مگر اُس ایک چھوٹی سی لڑائی نے جیسے میرے سامنے وہ حقیقت رکھ دی جس سے میں مدتوں بھاگتی رہی تھی۔ مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ کبھی کبھی رشتے کسی بڑی وجہ سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ ایک معمولی سا لمحہ صرف اُس حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے جو بہت پہلے اندر ہی اندر مر چکی ہوتی ہے۔ اُس دن میں اُس کے الفاظ سے کم اور اُن کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت سے زیادہ ٹوٹی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے میں اُس شخص کے سامنے کھڑی ہوں جسے میں جانتی تو بہت تھی، مگر شاید کبھی سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔ سب سے زیادہ اذیت اس بات کی تھی کہ میں اُس کے دل میں محبت ڈھونڈتی رہی اور وہاں شاید میرے لیے صرف ایک بوجھ، ایک شکایت یا ایک ایسی موجودگی رہ گئی تھی جس سے وہ چھٹکارا چاہتا تھا۔ میں نے اُس دن بحث نہیں کی، وضاحتیں نہیں مانگیں، اپنے حق میں دلائل نہیں دیے، کیونکہ بعض حقیقتیں سن کر نہیں، محسوس کر کے سمجھ آ جاتی ہیں۔ اور جب انسان کسی کے لہجے میں اپنے لیے محبت سے زیادہ نفرت دیکھ لے تو پھر سوال بھی بے معنی لگنے لگتے ہیں۔ میں خاموش ہو گئی، مگر اُس خاموشی کے اندر بہت کچھ ٹوٹتا رہا۔ شاید وہ لڑائی واقعی چھوٹی تھی، مگر اُس نے میرے اندر اُس شخص کے بارے میں جو تصور تھا، اسے ہمیشہ کے لیے بڑا سا زخم دے دیا۔ اب مجھے سمجھ آتا ہے کہ بعض اوقات ہم کسی انسان کے جانے سے نہیں ٹوٹتے، ہم اُس حقیقت کے سامنے آنے سے ٹوٹتے ہیں کہ وہ شخص ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی کب کا ہم سے دور جا چکا تھا۔ ✍️
caption اس کے ساتھ لڑائی تو بہت چھوٹی سی تھی، اتنی کہ شاید کسی اور رشتے میں ہوتی تو چند لمحوں کی ناراضی کے بعد ختم بھی ہو جاتی، مگر میرے لیے وہ ایک معمولی سی لڑائی نہیں تھی، کیونکہ اُس چھوٹی سی تلخی میں میں نے اُس کے اندر دبی ہوئی بہت گہری نفرت کو دیکھ لیا تھا۔ وہ نفرت جس کا مجھے کبھی گمان تک نہیں ہوا تھا، وہ بے زاری جو شاید جانے کب سے اُس کے دل کے کسی کونے میں پل رہی تھی اور میں محبت کے بھروسے پر اسے نظرانداز کرتی رہی۔ اُس دن اُس کے چند لفظوں نے میرے اندر برسوں سے بنے ہوئے یقین کو ایک ہی لمحے میں ہلا کر رکھ دیا۔ مجھے تکلیف اس بات کی نہیں ہوئی کہ ہماری لڑائی ہوئی، تکلیف تو یہ دیکھ کر ہوئی کہ جس شخص کے لہجے میں کبھی میرے لیے محبت، اپنائیت اور فکر ہوا کرتی تھی، اُس کے لہجے میں میرے لیے اتنی سختی کہاں سے آ گئی؟ میں سوچتی رہی کہ آخر میں نے ایسا کیا کھو دیا کہ اُس کے دل میں میرے لیے محبت کی جگہ اتنی بے زاری نے لے لی۔ شاید کچھ لوگ ایک دم نہیں بدلتے، وہ آہستہ آہستہ اپنے دل سے ہمیں نکالتے رہتے ہیں اور ہم اُن کے ہر بدلتے رویے کو حالات، مصروفیت، تھکن یا وقتی غصے کا نام دے کر خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں۔ میں بھی یہی کرتی رہی۔ اُس کے بدلتے لہجے کو نظرانداز کیا، اُس کی خاموشیوں کو سمجھنے کی کوشش کی، اُس کی دوریوں کے لیے بہانے تراشے، صرف اس لیے کہ میرے دل کو یہ ماننا مشکل تھا کہ جس شخص کو میں نے اتنی سچائی سے چاہا، اُس کے دل میں شاید میرے لیے وہ جگہ باقی ہی نہیں رہی۔ مگر اُس ایک چھوٹی سی لڑائی نے جیسے میرے سامنے وہ حقیقت رکھ دی جس سے میں مدتوں بھاگتی رہی تھی۔ مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ کبھی کبھی رشتے کسی بڑی وجہ سے نہیں ٹوٹتے، بلکہ ایک معمولی سا لمحہ صرف اُس حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے جو بہت پہلے اندر ہی اندر مر چکی ہوتی ہے۔ اُس دن میں اُس کے الفاظ سے کم اور اُن کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت سے زیادہ ٹوٹی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے میں اُس شخص کے سامنے کھڑی ہوں جسے میں جانتی تو بہت تھی، مگر شاید کبھی سمجھ ہی نہیں پائی تھی۔ سب سے زیادہ اذیت اس بات کی تھی کہ میں اُس کے دل میں محبت ڈھونڈتی رہی اور وہاں شاید میرے لیے صرف ایک بوجھ، ایک شکایت یا ایک ایسی موجودگی رہ گئی تھی جس سے وہ چھٹکارا چاہتا تھا۔ میں نے اُس دن بحث نہیں کی، وضاحتیں نہیں مانگیں، اپنے حق میں دلائل نہیں دیے، کیونکہ بعض حقیقتیں سن کر نہیں، محسوس کر کے سمجھ آ جاتی ہیں۔ اور جب انسان کسی کے لہجے میں اپنے لیے محبت سے زیادہ نفرت دیکھ لے تو پھر سوال بھی بے معنی لگنے لگتے ہیں۔ میں خاموش ہو گئی، مگر اُس خاموشی کے اندر بہت کچھ ٹوٹتا رہا۔ شاید وہ لڑائی واقعی چھوٹی تھی، مگر اُس نے میرے اندر اُس شخص کے بارے میں جو تصور تھا، اسے ہمیشہ کے لیے بڑا سا زخم دے دیا۔ اب مجھے سمجھ آتا ہے کہ بعض اوقات ہم کسی انسان کے جانے سے نہیں ٹوٹتے، ہم اُس حقیقت کے سامنے آنے سے ٹوٹتے ہیں کہ وہ شخص ہمارے ساتھ رہتے ہوئے بھی کب کا ہم سے دور جا چکا تھا۔ ✍️
من الداخل. بدلاً من التركيز على ما ينقصك، ابدأ بتقدير ما تملكه الآن. • تمرين بسيط: دوّن كل يوم ثلاثة أشياء بسيطة جعلتك تبتسم (كوب قهوة، رسالة من صديق، أو حتى لحظة هدوء). هذا يدرب عقلك على رصد الإيجابيات وسط الضجيج. • توقف عن المقارنة: تذكر أن وسائل التواصل الاجتماعي تعرض
من الداخل. بدلاً من التركيز على ما ينقصك، ابدأ بتقدير ما تملكه الآن. • تمرين بسيط: دوّن كل يوم ثلاثة أشياء بسيطة جعلتك تبتسم (كوب قهوة، رسالة من صديق، أو حتى لحظة هدوء). هذا يدرب عقلك على رصد الإيجابيات وسط الضجيج. • توقف عن المقارنة: تذكر أن وسائل التواصل الاجتماعي تعرض "أفضل اللقطات" فقط، فلا تقارن كواليس حياتك المتعبة بعروض الآخرين المثالية. 2. إدارة العقل والمشاعر أفكارك هي التي تلون عالمك؛ إذا كانت سوداوية، سيصبح العالم باهتًا. • عش اللحظة: القلق هو عيش في المستقبل الذي لم يأتِ بعد، والندم هو عيش في الماضي الذي انتهى. ركز على "الآن". • تقبل المشاعر: الحياة ليست سعادة دائمة. من الطبيعي أن تحزن أو تغضب، تقبل هذه المشاعر وأعطِ نفسك حقها في التعبير ثم امضِ قدمًا. 3. الاستثمار في العلاقات الإنسان كائن اجتماعي بطبعه، وجود دائرة داعمة هو سر الصمود النفسي. • النوعية لا الكمية: صديق واحد حقيقي يفهم صمتك خير من مئة صديق للمجاملات. • العطاء: مساعدة الآخرين تعزز هرمونات السعادة (الإندورفين). اصنع يومًا جميلًا لشخص آخر، وستجد أن يومك أصبح أجمل تلقائيًا. #outfitideast #مشاهير_تيك_توك_مشاهير_العرب 💜🌺 #اخوتي #الشعب_الصيني_مال

About