@syedking0070: #paiso ka swal #DilKiBaat #growmyaccount #viral

Syed king 007
Syed king 007
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 28 December 2022 06:25:21 GMT
630
146
6
1

Music

Download

Comments

ibrarshah1212
ibrarshah1212 :
emotional kar k akhir main kiya kr diya
2022-12-28 06:28:29
1
muhammadshahbazra93
shahbaz rana :
😂
2022-12-28 07:36:05
1
rajputasim3
rajputasim3 :
😋😋😋😋😂😂😂😂😂😎😎😎😎
2022-12-29 03:54:05
1
sarwat_sikandar
SᴀʀᴡᴀT SɪᴋᴀɴᴅᴀR Adv 🥷 :
❤❤❤
2023-01-11 04:24:37
0
sufyans522
SufyanAli :
way shah g
2023-06-25 11:17:39
0
zulfqarsaith1
zulfqarsaith91 :
😂
2023-07-12 05:22:40
0
To see more videos from user @syedking0070, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

غلط کو غلط کہنے کی قیمت ہمیشہ بہت بھاری ہوتی ہے، کیونکہ اس راہ میں اکثر تعلقات بھی ختم ہو جاتے ہیں اور رابطے بھی۔ ہر انسان سچائی کو پسند تو کرتا ہے، لیکن جب سچ کا آئینہ اس کی اپنی غلطی کو بے نقاب کرے تو وہ اسے برداشت نہیں کر پاتا۔  ہم سب اپنی روزمرہ زندگی میں مخلص اور کھرے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی مخلص ہمارے اپنے کسی غلط رویے یا خامی کی نشاندہی کرتا ہے، تو ہمارے تیور بدل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان میں اتنی اخلاقی جرات اور نفسیاتی وسعت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی غلطی کا سامنا کر سکے۔ جب کسی کے سامنے اس کا کوئی غلط فیصلہ یا رویہ رکھا جاتا ہے، تو اس کی انا فوراً دفاعی پوزیشن میں آ جاتی ہے اور وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے سچ بولنے والے سے فاصلہ اختیار کر لینا زیادہ آسان سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجداد کے دور سے لے کر آج کے جدید دور تک، حق گوئی کا راستہ ہمیشہ تنہائی کا راستہ رہا ہے۔ ہمارے اردگرد کے ماحول میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ اکثر ان مصلحت پسندوں کو اپنے قریب رکھتے ہیں جو ان کی ہر بات پر مہرِ تصدیق ثبت کریں۔ جب آپ کسی بھی جگہ، چاہے وہ خاندانی نظام ہو یا کام کی جگہ، کسی غلط بات کو غلط کہنے کا حوصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو بہت سے قریبی رشتوں اور دوستوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ سچائی کا سامنا کرنے سے اس حد تک خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ برسوں پرانے مخلصانہ تعلقات اور رابطوں کو صرف اس لیے توڑ دیتے ہیں تاکہ انہیں اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا پڑے۔ یہ رویہ ہمارے معاشرے کو ایک عجیب نفسیاتی کھوکھلے پن کی طرف لے جا رہا ہے، جہاں ہم سستے اور منافقانہ رابطوں کو تو برقرار رکھتے ہیں مگر سچی اور تعمیری گفتگو سے کتراتے ہیں۔ کسی بھی باشعور انسان اور مضبوط معاشرے کی تعمیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کریں کہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر سکیں۔ جب تک ہم غلط کو غلط کہنے والوں کو اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے ان کا شکریہ ادا کرنا نہیں سیکھیں گے، تب تک ہم اپنی خامیوں کے دائرے میں ہی گھومتے رہیں گے اور ہمارے تعلقات کی بنیاد کبھی پائیدار نہیں ہو سکے گی۔ آج خود سے یہ سوال کیجیے: جب کوئی مخلص انسان آپ کی کسی غلطی کی طرف اشارہ کرتا ہے، تو کیا آپ اس سے اپنا رابطہ توڑ لیتے ہیں یا اپنے رویے پر غور کرتے ہیں؟ کیا آپ کے تعلقات سچائی پر قائم ہیں یا صرف مصلحت پر؟ اگر اس گہرے تجزیے نے آپ کے دل کو چھو لیا ہے، تو اسے اپنے حلقے میں شیئر ضرور کریں تاکہ رشتوں اور تعلقات میں سچائی اور وسعت پیدا کرنے کا شعور عام ہو سکے۔ تحریر: وقاص صدیق | حرف ہنر اور احساس Follow & Promote  #وقاص_صدیق #حرف_ہنر_اور_احساس  #UrduLiterature #SocialAnalysis #urduquotes
غلط کو غلط کہنے کی قیمت ہمیشہ بہت بھاری ہوتی ہے، کیونکہ اس راہ میں اکثر تعلقات بھی ختم ہو جاتے ہیں اور رابطے بھی۔ ہر انسان سچائی کو پسند تو کرتا ہے، لیکن جب سچ کا آئینہ اس کی اپنی غلطی کو بے نقاب کرے تو وہ اسے برداشت نہیں کر پاتا۔ ہم سب اپنی روزمرہ زندگی میں مخلص اور کھرے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی کوئی مخلص ہمارے اپنے کسی غلط رویے یا خامی کی نشاندہی کرتا ہے، تو ہمارے تیور بدل جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان میں اتنی اخلاقی جرات اور نفسیاتی وسعت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی غلطی کا سامنا کر سکے۔ جب کسی کے سامنے اس کا کوئی غلط فیصلہ یا رویہ رکھا جاتا ہے، تو اس کی انا فوراً دفاعی پوزیشن میں آ جاتی ہے اور وہ اپنی اصلاح کرنے کے بجائے سچ بولنے والے سے فاصلہ اختیار کر لینا زیادہ آسان سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجداد کے دور سے لے کر آج کے جدید دور تک، حق گوئی کا راستہ ہمیشہ تنہائی کا راستہ رہا ہے۔ ہمارے اردگرد کے ماحول میں یہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ اکثر ان مصلحت پسندوں کو اپنے قریب رکھتے ہیں جو ان کی ہر بات پر مہرِ تصدیق ثبت کریں۔ جب آپ کسی بھی جگہ، چاہے وہ خاندانی نظام ہو یا کام کی جگہ، کسی غلط بات کو غلط کہنے کا حوصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو بہت سے قریبی رشتوں اور دوستوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ سچائی کا سامنا کرنے سے اس حد تک خوفزدہ ہوتے ہیں کہ وہ برسوں پرانے مخلصانہ تعلقات اور رابطوں کو صرف اس لیے توڑ دیتے ہیں تاکہ انہیں اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرنا پڑے۔ یہ رویہ ہمارے معاشرے کو ایک عجیب نفسیاتی کھوکھلے پن کی طرف لے جا رہا ہے، جہاں ہم سستے اور منافقانہ رابطوں کو تو برقرار رکھتے ہیں مگر سچی اور تعمیری گفتگو سے کتراتے ہیں۔ کسی بھی باشعور انسان اور مضبوط معاشرے کی تعمیر تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنے اندر اتنی ہمت پیدا کریں کہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کر سکیں۔ جب تک ہم غلط کو غلط کہنے والوں کو اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے ان کا شکریہ ادا کرنا نہیں سیکھیں گے، تب تک ہم اپنی خامیوں کے دائرے میں ہی گھومتے رہیں گے اور ہمارے تعلقات کی بنیاد کبھی پائیدار نہیں ہو سکے گی۔ آج خود سے یہ سوال کیجیے: جب کوئی مخلص انسان آپ کی کسی غلطی کی طرف اشارہ کرتا ہے، تو کیا آپ اس سے اپنا رابطہ توڑ لیتے ہیں یا اپنے رویے پر غور کرتے ہیں؟ کیا آپ کے تعلقات سچائی پر قائم ہیں یا صرف مصلحت پر؟ اگر اس گہرے تجزیے نے آپ کے دل کو چھو لیا ہے، تو اسے اپنے حلقے میں شیئر ضرور کریں تاکہ رشتوں اور تعلقات میں سچائی اور وسعت پیدا کرنے کا شعور عام ہو سکے۔ تحریر: وقاص صدیق | حرف ہنر اور احساس Follow & Promote #وقاص_صدیق #حرف_ہنر_اور_احساس #UrduLiterature #SocialAnalysis #urduquotes

About