@lovewdc24: Sa una lang #CapCut #fyp

Love Juanich
Love Juanich
Open In TikTok:
Region: PH
Wednesday 28 December 2022 15:08:01 GMT
1162
90
3
0

Music

Download

Comments

jadebryan.94
jade :
Hanapin mo kase yung medyo badboy pero romantico 🤣🤣🤣
2022-12-29 00:14:22
0
wakandasoul1986
LagingTapat :
hi lovely☺️
2022-12-29 01:35:01
0
ronjiehshs
Jie :
🥰
2022-12-29 01:45:40
0
To see more videos from user @lovewdc24, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

احس صار مؤذي للعين🥲#fypシ #foryou #viral #rap3arab #anime يعد برج المملكة واحدًا من أبرز ما المعالم المعمارية في الرياض، ورمزا حديثا يعكس تطور المملكة العربية السعودية ونهضتها العمرانية. منذ افتتاحه، أصبح البرج وجهة رئيسية للسكان والزوار، ليس فقط لارتفاعه المميز، بل أيضًا لما يقدمه من مرافق متنوعة وتجربة فريدة. تم افتتاح برج المملكة عام 2002، وهو مشروعبرج المملكة واحدًا من أبرز المعالم المعمارية في الرياض، ورمزا حديثا يعكس تطور المملكة العربية السعودية ونهضتها العمرانية. منذ افتتاحه، أصبح البرج وجهة رئيسية للسكان والزوار، ليس فقط لارتفاعه المميز، بل أيضًا لما يقدمه من مرافق متنوعة وتجربة فريدة. تم افتتاح برج المملكة عام 2002، وهو مشروع تابع لشركة شركة المملكة القابضة التي يملكها الأمير الوليد بن طلال. يبلغ ارتفاع البرج حوالي 302 متر، ويتكون من 99 طابقا، ما جعله لفترة طويلة أحد أطول المباني في قدد الشرق الأوسط، تضميمه الفريد الذي يشتبه فتحة القوسة فلي عط أعلاه يميزه عن بقية ناطحات السلحاب، وقد صمم ليكون تحفة معمارية تجمع بين الحداثة والهوية المحلية. يضم البرج مجموعة واسعة من المرافق، منها مكاتب إدارية، وشقق سكنية فاخرة بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض الذي يعد من أفخم الفنادق في المدينة. كما يحتوي على مركز تسوق ضخم يعرف باسم مملكة مول، ويضم العديد من العلامات التجارية العالمية والمطاعم الراقية من أبرز معالم.... لا احد ياخذه بدون لايك بذمتك تابع لشركة شركة المملكة القابضة التي يملكها الأمير الوليد بن طلال. يبلغ ارتفاع البرج حوالي 302 متر، ويتكون من 99 طابقا، ما جعله لفترة طويلة أحد أطول المباني في قدد الشرق الأوسط، تضميمه الفريد الذي يشتبه فتحة القوسة فلي عط أعلاه يميزه عن بقية ناطحات السلحاب، وقد صمم ليكون تحفة معمارية تجمع بين الحداثة والهوية المحلية. يضم البرج مجموعة واسعة من المرافق، منها مكاتب إدارية، وشقق سكنية فاخرة بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض الذي يعد من أفخم الفنادق في المدينة. كما يحتوي على مركز تسوق ضخم يعرف باسم مملكة مول، ويضم العديد من العلامات التجارية العالمية والمطاعم الراقية من أبرز معالم....بالله عليك لايك وخذه
احس صار مؤذي للعين🥲#fypシ #foryou #viral #rap3arab #anime يعد برج المملكة واحدًا من أبرز ما المعالم المعمارية في الرياض، ورمزا حديثا يعكس تطور المملكة العربية السعودية ونهضتها العمرانية. منذ افتتاحه، أصبح البرج وجهة رئيسية للسكان والزوار، ليس فقط لارتفاعه المميز، بل أيضًا لما يقدمه من مرافق متنوعة وتجربة فريدة. تم افتتاح برج المملكة عام 2002، وهو مشروعبرج المملكة واحدًا من أبرز المعالم المعمارية في الرياض، ورمزا حديثا يعكس تطور المملكة العربية السعودية ونهضتها العمرانية. منذ افتتاحه، أصبح البرج وجهة رئيسية للسكان والزوار، ليس فقط لارتفاعه المميز، بل أيضًا لما يقدمه من مرافق متنوعة وتجربة فريدة. تم افتتاح برج المملكة عام 2002، وهو مشروع تابع لشركة شركة المملكة القابضة التي يملكها الأمير الوليد بن طلال. يبلغ ارتفاع البرج حوالي 302 متر، ويتكون من 99 طابقا، ما جعله لفترة طويلة أحد أطول المباني في قدد الشرق الأوسط، تضميمه الفريد الذي يشتبه فتحة القوسة فلي عط أعلاه يميزه عن بقية ناطحات السلحاب، وقد صمم ليكون تحفة معمارية تجمع بين الحداثة والهوية المحلية. يضم البرج مجموعة واسعة من المرافق، منها مكاتب إدارية، وشقق سكنية فاخرة بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض الذي يعد من أفخم الفنادق في المدينة. كما يحتوي على مركز تسوق ضخم يعرف باسم مملكة مول، ويضم العديد من العلامات التجارية العالمية والمطاعم الراقية من أبرز معالم.... لا احد ياخذه بدون لايك بذمتك تابع لشركة شركة المملكة القابضة التي يملكها الأمير الوليد بن طلال. يبلغ ارتفاع البرج حوالي 302 متر، ويتكون من 99 طابقا، ما جعله لفترة طويلة أحد أطول المباني في قدد الشرق الأوسط، تضميمه الفريد الذي يشتبه فتحة القوسة فلي عط أعلاه يميزه عن بقية ناطحات السلحاب، وقد صمم ليكون تحفة معمارية تجمع بين الحداثة والهوية المحلية. يضم البرج مجموعة واسعة من المرافق، منها مكاتب إدارية، وشقق سكنية فاخرة بالإضافة إلى فندق فورسيزونز الرياض الذي يعد من أفخم الفنادق في المدينة. كما يحتوي على مركز تسوق ضخم يعرف باسم مملكة مول، ويضم العديد من العلامات التجارية العالمية والمطاعم الراقية من أبرز معالم....بالله عليك لايك وخذه
سسکیاں لیتا ہے وجود میرا نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری رات کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب یہ شروع ہوتا ہے۔ کبھی آنکھ بند کرتے ہی، کبھی کسی معمولی سی آواز پر، کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے، اور کبھی بالکل بےسبب۔ بس ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر یادیں آتی ہیں۔ نرم نہیں۔ محبت بھری نہیں۔ درندوں کی طرح۔ ٹوٹ پڑتی ہیں مجھ پر، نوچتی ہیں، کاٹتی ہیں، اور جاتے جاتے میرے اندر کا وہ حصہ بھی ساتھ لے جاتی ہیں جسے میں دن بھر بڑی مشکل سے سلامت رکھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں وقت گزر گیا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے زخم بھی وقت کے ساتھ تھک جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم، کچھ زخم بھرنے کے بجائے آدمی کے اندر خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔ دن کو ہنس لیتا ہوں، لوگوں میں بیٹھ لیتا ہوں، باتیں کر لیتا ہوں، ایسے چلتا پھرتا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس رات ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دن بھر جس شخص کو میں زندہ رکھے پھر رہا تھا، وہ اندر سے کب کا زخمی پڑا ہے۔ کبھی کوئی جملہ تمہاری طرف لے جاتا ہے، کبھی کوئی آواز، کبھی وہی پرانی خاموشی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یادیں مجھ سے اجازت نہیں مانگتیں۔ انہیں معلوم ہے میں انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ آتی ہیں، بیٹھتی بھی نہیں، سیدھا وہیں ہاتھ ڈالتی ہیں جہاں زخم ابھی زندہ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ صرف یادیں ہیں، حقیقت نہیں۔ مگر دل منطق سے کہاں چلتا ہے؟ اسے تو وہی چہرہ یاد رہتا ہے، وہی آواز، وہی وقت، وہی شخص۔ اور پھر وہی سب کچھ ایک بار پھر میرے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جیسے وقت گزرا ہی نہ ہو۔ جیسے تم گئی ہی نہ ہو۔ جیسے میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان آخر یادوں سے بھی کب تک لڑ سکتا ہے؟ وہ دشمن بھی تو عجیب ہیں جنہیں ہم خود اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ انہیں نکالنے کی کوشش کرو تو وہ اور گہری اتر جاتی ہیں۔ بھلانا چاہو تو کوئی پرانا لمحہ سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اور اگر خود کو مصروف کر لو تو رات کو حساب لینے آ جاتی ہیں۔ دنیا سے تو چھپ سکتا ہوں، اپنی یادوں سے کہاں چھپوں؟ سو اب سسکنا بھی آتا ہے۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی کو بتائے۔ کیونکہ ہر درد سنایا بھی تو نہیں جا سکتا۔ کچھ تکلیفیں لفظوں میں آ جائیں تو چھوٹی لگنے لگتی ہیں، اور میں اپنی اذیت کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے صبح پھر وہی چہرہ لے کر اٹھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی انہیں یہی سمجھنے دیتا ہوں۔ کون ہر ایک کو بتائے کہ رات بھر کوئی شخص اپنے ہی ماضی کے ہاتھوں نوچا جاتا رہا ہے؟ کون سمجھائے کہ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں انسان کے اندر رہ کر بھی اسے جینے نہیں دیتیں۔ تم چلی گئیں۔ یہ حقیقت تھی۔ مگر تمہاری یادیں؟ وہ شاید میری سزا بن کر رہ گئیں۔ سسکیاں لیتا ہے وجود میرا، نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری۔
سسکیاں لیتا ہے وجود میرا نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری رات کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا جب یہ شروع ہوتا ہے۔ کبھی آنکھ بند کرتے ہی، کبھی کسی معمولی سی آواز پر، کبھی کسی خوشبو کے گزرنے سے، اور کبھی بالکل بےسبب۔ بس ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔ اور پھر یادیں آتی ہیں۔ نرم نہیں۔ محبت بھری نہیں۔ درندوں کی طرح۔ ٹوٹ پڑتی ہیں مجھ پر، نوچتی ہیں، کاٹتی ہیں، اور جاتے جاتے میرے اندر کا وہ حصہ بھی ساتھ لے جاتی ہیں جسے میں دن بھر بڑی مشکل سے سلامت رکھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں وقت گزر گیا ہے۔ شاید انہیں لگتا ہے زخم بھی وقت کے ساتھ تھک جاتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم، کچھ زخم بھرنے کے بجائے آدمی کے اندر خاموش رہنا سیکھ لیتے ہیں۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔ دن کو ہنس لیتا ہوں، لوگوں میں بیٹھ لیتا ہوں، باتیں کر لیتا ہوں، ایسے چلتا پھرتا ہوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ بس رات ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دن بھر جس شخص کو میں زندہ رکھے پھر رہا تھا، وہ اندر سے کب کا زخمی پڑا ہے۔ کبھی کوئی جملہ تمہاری طرف لے جاتا ہے، کبھی کوئی آواز، کبھی وہی پرانی خاموشی۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یادیں مجھ سے اجازت نہیں مانگتیں۔ انہیں معلوم ہے میں انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ آتی ہیں، بیٹھتی بھی نہیں، سیدھا وہیں ہاتھ ڈالتی ہیں جہاں زخم ابھی زندہ ہوتا ہے۔ میں نے کئی بار خود کو سمجھایا کہ یہ صرف یادیں ہیں، حقیقت نہیں۔ مگر دل منطق سے کہاں چلتا ہے؟ اسے تو وہی چہرہ یاد رہتا ہے، وہی آواز، وہی وقت، وہی شخص۔ اور پھر وہی سب کچھ ایک بار پھر میرے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔ جیسے وقت گزرا ہی نہ ہو۔ جیسے تم گئی ہی نہ ہو۔ جیسے میں آج بھی وہیں کھڑا ہوں جہاں تم نے مجھے چھوڑا تھا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں، انسان آخر یادوں سے بھی کب تک لڑ سکتا ہے؟ وہ دشمن بھی تو عجیب ہیں جنہیں ہم خود اپنے اندر جگہ دیتے ہیں۔ انہیں نکالنے کی کوشش کرو تو وہ اور گہری اتر جاتی ہیں۔ بھلانا چاہو تو کوئی پرانا لمحہ سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔ اور اگر خود کو مصروف کر لو تو رات کو حساب لینے آ جاتی ہیں۔ دنیا سے تو چھپ سکتا ہوں، اپنی یادوں سے کہاں چھپوں؟ سو اب سسکنا بھی آتا ہے۔ خاموشی سے۔ بغیر کسی کو بتائے۔ کیونکہ ہر درد سنایا بھی تو نہیں جا سکتا۔ کچھ تکلیفیں لفظوں میں آ جائیں تو چھوٹی لگنے لگتی ہیں، اور میں اپنی اذیت کو چھوٹا نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے صبح پھر وہی چہرہ لے کر اٹھتا ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں میں ٹھیک ہوں۔ میں بھی انہیں یہی سمجھنے دیتا ہوں۔ کون ہر ایک کو بتائے کہ رات بھر کوئی شخص اپنے ہی ماضی کے ہاتھوں نوچا جاتا رہا ہے؟ کون سمجھائے کہ کچھ لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کی یادیں انسان کے اندر رہ کر بھی اسے جینے نہیں دیتیں۔ تم چلی گئیں۔ یہ حقیقت تھی۔ مگر تمہاری یادیں؟ وہ شاید میری سزا بن کر رہ گئیں۔ سسکیاں لیتا ہے وجود میرا، نوچ کر کھا گئیں یادیں تیری۔

About