@sherbajimoebel: شحن فوري كريستالات#صمديات ألمانيا

Sherbaji Möbel
Sherbaji Möbel
Open In TikTok:
Region: DE
Tuesday 17 January 2023 20:14:38 GMT
17704
198
33
48

Music

Download

Comments

bono..m
Bono,M :
كتير حلوة ماشالله 😍
2023-01-17 20:41:53
1
sweeet_heaart
Sweet_heart :
ما شاء الله بتجنن 😍😍😍😍
2023-01-21 11:22:44
1
messon34
Messon Alhammod :
لو سمحت بدي فناجين
2023-01-17 23:09:10
0
reemalabraheem
reemalabraheem :
شو اسعارن
2023-10-04 06:37:54
0
19doaa
douaa :
في شحن؟
2023-01-17 20:20:08
0
963.nbras
963.nbras :
اخي ليش ما بتحط لعنوان
2023-01-18 13:28:30
0
25.nazli.6
25.nazli.6 :
ووو
2023-04-26 02:07:02
0
rawan.h96
ℛ𝒜𝒲𝒜ℰ𝒩96 :
وين مكانك
2023-01-25 22:58:34
0
muhammedkolaghas
🌼 :
بدي طقم
2024-01-04 12:28:12
0
bono..m
Bono,M :
تممم اكسبلووور👍🏻🔄
2023-01-17 20:42:03
1
bono..m
Bono,M :
بتجننننن🥺
2023-01-17 20:41:46
0
sameezjadi
Samee Zjadi :
🌹
2025-07-11 11:02:28
0
gena.saleeh
Gena Saleeh :
😂
2025-03-21 16:53:30
0
reda.alali
Reda.Alali :
❤️❤️
2023-01-17 20:31:55
0
19doaa
douaa :
😍😍
2023-01-17 20:19:46
0
dyijgi12e1zr
dyijgi12e1zr :
😁
2025-07-23 14:49:28
0
To see more videos from user @sherbajimoebel, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے بیٹوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ کاش وہ بیٹی ہوتے، لیکن بہت سی بیٹیوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور سوچا ہوگا کہ کاش وہ بیٹا ہوتیں… یہ سوچ اس لیے نہیں آتی کہ بیٹی ہونا کوئی کمی ہے، بلکہ اس لیے آتی ہے کہ ہمارے معاشرے نے کئی جگہوں پر بیٹی اور بیٹے کے لیے الگ الگ معیار بنا رکھے ہیں۔ ایک بیٹے کی غلطی کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ ایک بیٹی کے معمولی فیصلے پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ بیٹے کے خوابوں کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ بیٹی کے خوابوں کو کئی بار خاندان، رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کے درمیان دبا دیا جاتا ہے۔ ایک بیٹا رات دیر تک باہر رہے تو اسے آزادی سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک بیٹی وہی کرے تو اس پر کئی سوال کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ ایک بیٹے کے کیریئر، تعلیم اور خواہشات کو مستقبل کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے، مگر بیٹی کے خوابوں کو اکثر یہ کہہ کر محدود کر دیا جاتا ہے کہ
#ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے بیٹوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ کاش وہ بیٹی ہوتے، لیکن بہت سی بیٹیوں نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور سوچا ہوگا کہ کاش وہ بیٹا ہوتیں… یہ سوچ اس لیے نہیں آتی کہ بیٹی ہونا کوئی کمی ہے، بلکہ اس لیے آتی ہے کہ ہمارے معاشرے نے کئی جگہوں پر بیٹی اور بیٹے کے لیے الگ الگ معیار بنا رکھے ہیں۔ ایک بیٹے کی غلطی کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ ایک بیٹی کے معمولی فیصلے پر بھی سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ بیٹے کے خوابوں کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ بیٹی کے خوابوں کو کئی بار خاندان، رسم و رواج اور لوگوں کی باتوں کے درمیان دبا دیا جاتا ہے۔ ایک بیٹا رات دیر تک باہر رہے تو اسے آزادی سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک بیٹی وہی کرے تو اس پر کئی سوال کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ ایک بیٹے کے کیریئر، تعلیم اور خواہشات کو مستقبل کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے، مگر بیٹی کے خوابوں کو اکثر یہ کہہ کر محدود کر دیا جاتا ہے کہ "اب تو ایک دن گھر چلا جانا ہے۔" حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بیٹی ہونا کسی بھی طرح کم تر ہونا نہیں۔ بیٹیاں وہ ہوتی ہیں جو اپنے والدین کے چہروں کی مسکراہٹ کے لیے اپنی خواہشیں قربان کر دیتی ہیں، جو دوسروں کے گھروں کو اپنا گھر بنا لیتی ہیں، جو رشتوں کو جوڑنے کے لیے خود کو بدل لیتی ہیں، اور جو خاموشی سے بہت سی ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں۔ مسئلہ بیٹی ہونے میں نہیں، مسئلہ اس سوچ میں ہے جو بیٹی کو بوجھ اور بیٹے کو سہارا سمجھتی ہے۔ وقت بدل رہا ہے، مگر ابھی بھی بہت سے گھروں میں بیٹیوں کو برابر کے مواقع، اعتماد اور آزادی کی ضرورت ہے۔ ایک خوبصورت معاشرہ وہ نہیں جہاں بیٹیوں کو بیٹا بننے کی خواہش ہو، بلکہ وہ ہے جہاں ہر بیٹی فخر سے کہہ سکے کہ "مجھے بیٹی ہونے پر خوشی ہے۔" کیونکہ بیٹیاں کسی سے کم نہیں ہوتیں، فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں برابر کا یقین دلانے کی ضرورت ہوتی ہ

About