@cupwasherstore_: So clean#foryou #CleanTok #fy #tiktokmademebuyit #viral #goodthing #glassrinser

Cupwasher_
Cupwasher_
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 04 February 2023 17:03:37 GMT
38843
580
13
78

Music

Download

Comments

zephilo
Amor Fati :
This is nice and all but you forgot to clean the rim of the cup where ppls mouths been on
2023-02-07 21:10:39
6
lagerz9
wweltyy :
how he save a lot of water?
2023-02-05 12:55:18
3
cacauarmy1
Army.cacau :
Nome por favor😁 name please, maybe I'll buy it...
2023-02-05 13:29:18
0
matty.aris
Matty boi :
Please do a soda stream bottle
2023-02-06 01:06:35
0
goodthings_share6
sharing goodthing :
🥰good
2023-02-06 12:37:08
0
kdawgggy
Kdawg🤫🤫 :
I ordered one and never received it
2023-02-09 15:11:49
0
user48190960208286
amoranteb :
🥰
2025-05-29 10:24:40
0
To see more videos from user @cupwasherstore_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ خوابوں کی سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ یادوں کی کھڑکیاں گرد سے بھر گئیں۔ انتظار کی شامیں زرد شفق میں تحلیل ہو گئیں۔ دریچوں کے چراغ بجھ گئے۔ خاموشیوں کے سائے بڑھ گئے۔ دل کی دھڑکنوں نے تھکن اوڑھ لی۔ پیاسے لب دعا سے بھی خالی ہو گئے۔ خواہشوں کی کلیاں سوکھ کے جھڑ گئیں۔ نظر کے افق پہ اندھیرے اتر گئے۔ امید کے صحرا میں کوئی سایہ نہ رہا۔ پھولوں کی خوشبو پتھروں میں دفن ہو گئی۔ محبت کی صورت بھی اجنبی لگنے لگی۔ یقین کے چہرے پہ دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجر کی ساعتیں لہو روتی رہیں۔ یاد کی بارش میں موسم بھی بکھر گیا۔ کرب کی لکیر ماتھے پہ گہری ہو گئی۔ نگاہوں کا سمندر سوکھ گیا۔ چاہت کی کشتیاں ڈوب گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوابوں کی روشنی تھیں جو ہر لمحہ تیری جھلک کی آرزو میں نم رہتی تھیں، اب محرومی کی خاک اوڑھ کر بجھ گئی ہیں۔ انتظار کے ریگ زار نے ان کے جادو کو سلب کر لیا ہے۔ برسوں کی پیاس جب دید کے قطرے سے نہ بجھ سکی تو نگاہوں کی تازگی بھی مرجھا گئی۔ وہ منظر جو کبھی رنگین تھا اب سیاه پردوں میں ڈھل گیاہے۔   یہ آنکھیں اب تیری تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی تھکن میں الجھ کر کنارہ کر چکی ہیں۔ یہ نہ تو سوال کرتی ہیں نہ جواب چاہتی ہیں، بس خاموشی کے بوجھ تلے جھک کر ہجر کی اذیت کو تقدیر مان چکی ہیں۔
یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ خوابوں کی سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ یادوں کی کھڑکیاں گرد سے بھر گئیں۔ انتظار کی شامیں زرد شفق میں تحلیل ہو گئیں۔ دریچوں کے چراغ بجھ گئے۔ خاموشیوں کے سائے بڑھ گئے۔ دل کی دھڑکنوں نے تھکن اوڑھ لی۔ پیاسے لب دعا سے بھی خالی ہو گئے۔ خواہشوں کی کلیاں سوکھ کے جھڑ گئیں۔ نظر کے افق پہ اندھیرے اتر گئے۔ امید کے صحرا میں کوئی سایہ نہ رہا۔ پھولوں کی خوشبو پتھروں میں دفن ہو گئی۔ محبت کی صورت بھی اجنبی لگنے لگی۔ یقین کے چہرے پہ دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجر کی ساعتیں لہو روتی رہیں۔ یاد کی بارش میں موسم بھی بکھر گیا۔ کرب کی لکیر ماتھے پہ گہری ہو گئی۔ نگاہوں کا سمندر سوکھ گیا۔ چاہت کی کشتیاں ڈوب گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئی۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوابوں کی روشنی تھیں جو ہر لمحہ تیری جھلک کی آرزو میں نم رہتی تھیں، اب محرومی کی خاک اوڑھ کر بجھ گئی ہیں۔ انتظار کے ریگ زار نے ان کے جادو کو سلب کر لیا ہے۔ برسوں کی پیاس جب دید کے قطرے سے نہ بجھ سکی تو نگاہوں کی تازگی بھی مرجھا گئی۔ وہ منظر جو کبھی رنگین تھا اب سیاه پردوں میں ڈھل گیاہے۔ یہ آنکھیں اب تیری تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی تھکن میں الجھ کر کنارہ کر چکی ہیں۔ یہ نہ تو سوال کرتی ہیں نہ جواب چاہتی ہیں، بس خاموشی کے بوجھ تلے جھک کر ہجر کی اذیت کو تقدیر مان چکی ہیں۔

About