@bayashatalibek: Дәмді лағман жеймін десеңіздер тек қана лағман жасайтын бір жер бар Осы адресте: проспект Рыскулова 143/3 Барып дәм татып көріңіздер

Bayashat_qarabala
Bayashat_qarabala
Open In TikTok:
Region: KZ
Wednesday 31 May 2023 14:24:14 GMT
20288
437
4
21

Music

Download

Comments

indira_anuar2
indira_84 :
кай кала?
2023-05-31 14:40:09
0
khabib_bb
📼🔢 :
қаи қала
2023-06-01 03:24:36
0
khabib_bb
📼🔢 :
қадрис
2023-06-01 03:24:50
0
To see more videos from user @bayashatalibek, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اذیت کے دن اکیلے گزار کے ہم نے....!  آپ کے ہونے نہ ہونے پر مٹی ڈال دی....! ہم کبھی بھی کسی شخص سے نہیں تھکتے، بلکہ اس انتظار سے تھک جاتے ہیں، جو ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ جنم لیتا ہے... اور پھر ہر رات خاموشی میں مر جاتا ہے۔ اذیت کے دن... جب انسان اکیلے گزارتا ہے..تو پھر اسکے اندر بہت کچھ بدلنے لگتا ہے۔ یہ درد انسان کو رُلا رُلا کر نہیں مارتا بلکہ آہستہ آہستہ... انسان کی سوچ، اس کی ترجیحات، اور اس کے اندر کی دنیا بدل دیتا ہے۔ پھر ایک دن... شعور، جذبات پر غالب آ جاتا ہے۔ اب نہ انتظار باقی رہتا ہے... نہ شکوہ... نہ کسی وضاحت کی خواہش... نہ واپسی کی امید۔ صرف ایک عجیب سا سکون... جیسے دل نے خاموشی سے مان لیا ہو... کہ ہر تعلق کو آخر تک لے جانا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟؟ دل میری جان، مر گیا کب کا!  یہ نفرت نہیں... بےحسی بھی نہیں... یہ مسلسل ٹوٹنے کے بعد حاصل ہونے والا وہ سکون ہے... پھر انسان کسی کو اپنی زندگی سے نہیں نکالتا... بس خود جو اس کے اثر سے آزاد کروا لیتا ہے اور شاید زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ بھی یہی ہوتا ہے... جب انسان محبت کو نہیں... بلکہ اس سے وابستہ ہر امید کو دفن کر دیتا ہے۔ کیونکہ بعض فیصلے... محبت ختم ہونے کے بعد نہیں کیے جاتے... بلکہ... خود کو بچانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ گونج ڈاکٹر عفان قیصر
اذیت کے دن اکیلے گزار کے ہم نے....! آپ کے ہونے نہ ہونے پر مٹی ڈال دی....! ہم کبھی بھی کسی شخص سے نہیں تھکتے، بلکہ اس انتظار سے تھک جاتے ہیں، جو ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ جنم لیتا ہے... اور پھر ہر رات خاموشی میں مر جاتا ہے۔ اذیت کے دن... جب انسان اکیلے گزارتا ہے..تو پھر اسکے اندر بہت کچھ بدلنے لگتا ہے۔ یہ درد انسان کو رُلا رُلا کر نہیں مارتا بلکہ آہستہ آہستہ... انسان کی سوچ، اس کی ترجیحات، اور اس کے اندر کی دنیا بدل دیتا ہے۔ پھر ایک دن... شعور، جذبات پر غالب آ جاتا ہے۔ اب نہ انتظار باقی رہتا ہے... نہ شکوہ... نہ کسی وضاحت کی خواہش... نہ واپسی کی امید۔ صرف ایک عجیب سا سکون... جیسے دل نے خاموشی سے مان لیا ہو... کہ ہر تعلق کو آخر تک لے جانا ضروری نہیں ہوتا۔ آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں؟؟ دل میری جان، مر گیا کب کا! یہ نفرت نہیں... بےحسی بھی نہیں... یہ مسلسل ٹوٹنے کے بعد حاصل ہونے والا وہ سکون ہے... پھر انسان کسی کو اپنی زندگی سے نہیں نکالتا... بس خود جو اس کے اثر سے آزاد کروا لیتا ہے اور شاید زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ بھی یہی ہوتا ہے... جب انسان محبت کو نہیں... بلکہ اس سے وابستہ ہر امید کو دفن کر دیتا ہے۔ کیونکہ بعض فیصلے... محبت ختم ہونے کے بعد نہیں کیے جاتے... بلکہ... خود کو بچانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ گونج ڈاکٹر عفان قیصر

About