@queenmom285: happy rakhshya Bandhan dai vai haru lai sadhai Khushi hunu satur haru dadha kada katus miss you all of you🥰🌹❤️@@Vpeshh @💫 kumkum 🐼 ❤️ @༄🅜🅞🅗🅘🅣༒꧂꧁༒☬𝔾𝕦𝕡𝕥𝕒☬ @🇸  🇦  🇲  🇮  🇷  🥀❤️🥀

Alisa🌺🌹♥️
Alisa🌺🌹♥️
Open In TikTok:
Region: NP
Thursday 31 August 2023 05:38:36 GMT
440
58
3
1

Music

Download

Comments

v_pesh
@Vpeshh :
❤❤
2023-08-31 05:49:04
1
meenapariya2
meenapariya2 :
👌👌👌👌❤️❤️❤️❤️
2023-08-31 16:40:06
1
roshangupta4985
Roshan Gupta :
♥️♥️♥️
2023-09-03 05:18:32
1
To see more videos from user @queenmom285, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ قول خودداری، وقار اور خاموشی کی طاقت کو خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاموش رہنے والا شخص کمزور ہے یا اس نے شکست تسلیم کر لی ہے، بلکہ بعض اوقات خاموشی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ ایسے شخص یا معاملے کو اپنی توجہ، وقت اور الفاظ کے قابل نہیں سمجھتا۔ ہر بحث کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ لوگ دلیل سے نہیں بلکہ ضد، غرور یا بدتمیزی سے بات کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاموشی بہترین جواب بن جاتی ہے۔ یہ الفاظ انسان کو یہ سبق بھی دیتے ہیں کہ اپنی عزتِ نفس کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص مسلسل بے ادبی، توہین یا غلط رویہ اختیار کرے تو اس کے ساتھ بحث کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنا زیادہ باوقار عمل ہے۔ خاموشی بعض اوقات الفاظ سے زیادہ گہرا اور مؤثر پیغام دیتی ہے، کیونکہ اس سے سامنے والے کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی باتوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ تاہم اس سوچ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہمیشہ خاموش رہنا ہی درست ہے۔ جہاں حق، انصاف، سچائی یا کسی مظلوم کے دفاع کی بات ہو وہاں خاموشی مناسب نہیں۔ ایسی جگہ اپنی بات کہنا ضروری ہے۔ لیکن ذاتی انا، فضول جھگڑوں اور بے مقصد بحثوں میں خاموشی اختیار کرنا عقل مندی اور پختگی کی نشانی ہے۔ مختصراً، اس قول کا پیغام یہ ہے کہ ہر شخص ہمارے جواب کا مستحق نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اپنی عزت، ذہنی سکون اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے خاموش رہنا ہی سب سے مضبوط اور بااثر جواب ہوتا ہے۔ حقیقی طاقت ہر بات کا جواب دینے میں نہیں بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہ جانا زیادہ بہتر ہے۔#fyp #foryou #motivation #inspiration #viral
یہ قول خودداری، وقار اور خاموشی کی طاقت کو خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاموش رہنے والا شخص کمزور ہے یا اس نے شکست تسلیم کر لی ہے، بلکہ بعض اوقات خاموشی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وہ ایسے شخص یا معاملے کو اپنی توجہ، وقت اور الفاظ کے قابل نہیں سمجھتا۔ ہر بحث کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ لوگ دلیل سے نہیں بلکہ ضد، غرور یا بدتمیزی سے بات کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں خاموشی بہترین جواب بن جاتی ہے۔ یہ الفاظ انسان کو یہ سبق بھی دیتے ہیں کہ اپنی عزتِ نفس کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی شخص مسلسل بے ادبی، توہین یا غلط رویہ اختیار کرے تو اس کے ساتھ بحث کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنا زیادہ باوقار عمل ہے۔ خاموشی بعض اوقات الفاظ سے زیادہ گہرا اور مؤثر پیغام دیتی ہے، کیونکہ اس سے سامنے والے کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی باتوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ تاہم اس سوچ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہمیشہ خاموش رہنا ہی درست ہے۔ جہاں حق، انصاف، سچائی یا کسی مظلوم کے دفاع کی بات ہو وہاں خاموشی مناسب نہیں۔ ایسی جگہ اپنی بات کہنا ضروری ہے۔ لیکن ذاتی انا، فضول جھگڑوں اور بے مقصد بحثوں میں خاموشی اختیار کرنا عقل مندی اور پختگی کی نشانی ہے۔ مختصراً، اس قول کا پیغام یہ ہے کہ ہر شخص ہمارے جواب کا مستحق نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اپنی عزت، ذہنی سکون اور وقار کو برقرار رکھنے کے لیے خاموش رہنا ہی سب سے مضبوط اور بااثر جواب ہوتا ہے۔ حقیقی طاقت ہر بات کا جواب دینے میں نہیں بلکہ یہ جاننے میں ہے کہ کہاں بولنا ہے اور کہاں خاموش رہ جانا زیادہ بہتر ہے۔#fyp #foryou #motivation #inspiration #viral

About