Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@decnic_jp: It was all an illusion x #streeto #lexusis200 #1gfepower #drifting #cartok #nostalgia #2000s #nfstreetteam #ukcarsscene #boosted #turbo #portcarscene
Dec 🦝
Open In TikTok:
Region: GB
Saturday 21 October 2023 12:19:06 GMT
3212
336
0
12
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.44MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.32MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @decnic_jp, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
#ремонт #ремонтквартирыподключ #ремонтсвоимируками #рекомендации #лайвперепродажи
✌🏻 #พิกัดลับพิษณุโลก
#quangbinh
#اغاني_سودانية #سوداني #موسيقى_سودانية #newmusic #tiktokmusic #fyp
#tik_tok
#birdslife #cartoonforkids #foryoupage❤️❤️ #foryou #viral یہ ایک درد بھری اور حیران کن داستان ہے: آخری خط سردیوں کی ایک اداس شام تھی۔ بارش کی بوندیں پرانی کھڑکی پر ایسے دستک دے رہی تھیں جیسے کوئی برسوں پرانا دکھ واپس لوٹ آیا ہو۔ عارف اپنے کمرے کے ایک کونے میں بیٹھا ماں کی پرانی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔ ماں کو دنیا سے گئے ہوئے پانچ سال گزر چکے تھے، مگر اس کے دل کا زخم آج بھی تازہ تھا۔ اس دن ڈاکیا ایک زرد لفافہ دے گیا۔ لفافے پر عارف کا نام ماں کی ہی لکھائی میں درج تھا۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ ماں تو پانچ سال پہلے دفن ہو چکی تھی۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے خط کھولا۔ "میرے پیارے عارف، اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو تو میں اس دنیا میں نہیں ہوں گی۔ مجھے معلوم تھا کہ میری بیماری مجھے زیادہ وقت نہیں دے گی۔ اس لیے میں نے یہ خط تمہارے لیے چھوڑ دیا ہے۔ بیٹا، مجھے ایک سچ بتانا ہے۔ تم میرے حقیقی بیٹے نہیں ہو۔ پچیس سال پہلے ایک خوفناک حادثے کے بعد میں نے ایک ننھے بچے کو سڑک کنارے روتے دیکھا تھا۔ اس کے ماں باپ موقع پر ہی دم توڑ چکے تھے۔ میں اسے گھر لے آئی۔ میں بانجھ تھی، مگر خدا نے تمہیں میری جھولی میں ڈال دیا۔ میں نے تمہیں اپنے خون سے نہیں، اپنے دل سے پالا ہے۔ مجھے ہمیشہ ڈر رہا کہ کہیں تم مجھ سے نفرت نہ کرنے لگو، اس لیے یہ راز کبھی نہ بتا سکی۔" خط یہاں ختم نہیں ہوا تھا۔ نیچے ایک اور سطر لکھی تھی: "اور ایک بات اور... تمہارا حقیقی باپ زندہ تھا۔ وہ ہر سال تمہاری سالگرہ پر دور کھڑا تمہیں دیکھنے آتا تھا، مگر کبھی ہمت نہ کر سکا کہ تمہیں اپنا کہے۔" عارف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کی پوری زندگی ایک لمحے میں بدل گئی تھی۔ خط کے ساتھ ایک تصویر بھی تھی۔ تصویر میں ایک اجنبی شخص دور کھڑا مسکرا رہا تھا، اور سامنے پانچ سالہ عارف کیک کاٹ رہا تھا۔ تصویر کے پیچھے ایک تاریخ لکھی تھی۔ وہی تاریخ... جس دن ماں کا انتقال ہوا تھا۔ عارف نے تصویر کو سینے سے لگا لیا۔ اس کے دل میں ہزار سوال تھے۔ وہ شخص کون تھا؟ کہاں گیا؟ زندہ بھی تھا یا نہیں؟ اگلے دن اس نے تصویر میں موجود شخص کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ کئی مہینوں کی جستجو کے بعد اسے معلوم ہوا کہ وہ شخص دو سال پہلے ایک سرکاری اسپتال میں تنہا مر چکا تھا۔ اس کے سامان میں صرف ایک چیز ملی تھی: عارف کی بچپن سے جوانی تک کی تصویروں سے بھری ایک ڈائری۔ ہر تصویر کے نیچے ایک ہی جملہ لکھا تھا: "میں تمہارا باپ ہوں، مگر تمہاری خوشی کے لیے ہمیشہ اجنبی رہوں گا۔" اس لمحے عارف ٹوٹ گیا۔ اسے احساس ہوا کہ زندگی میں دو لوگ ایسے تھے جنہوں نے اسے بے پناہ محبت دی—ایک ماں، جس نے اسے جنم نہیں دیا تھا، اور ایک باپ، جس نے اسے پا کر بھی کبھی اپنا حق نہیں جتایا۔ کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو مل کر نہیں، بچھڑ کر اپنی گہرائی ثابت کرتی ہیں۔یہ کہانی حیرت، جدائی، قربانی اور خاموش محبت کے درد سے بھری ہوئی ہے۔
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy