@user61777754514368:

😘😍سیانی سی اک پاگل لڑکی ❤𝒻
😘😍سیانی سی اک پاگل لڑکی ❤𝒻
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 29 November 2023 13:57:04 GMT
103
21
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user61777754514368, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

caption پھر ہماری کہانی الوداع کہے بغیر ہی ختم ہو گئی۔ نہ کوئی آخری ملاقات ہوئی، نہ کوئی آخری بار ایک دوسرے کو جی بھر کر دیکھا، نہ تم نے کہا کہ اب تمہیں میری ضرورت نہیں، اور نہ میں یہ کہہ سکی کہ تمہارے جانے کے بعد میرے اندر کتنا کچھ مر جائے گا۔ بس ایک دن ہماری باتوں کے درمیان خاموشی آ گئی، پھر وہ خاموشی فاصلے بنی اور فاصلے اتنے گہرے ہو گئے کہ آخرکار ہماری پوری کہانی ہی ان میں دفن ہو گئی۔ میں دل میں بہت سے گلے شکوے دفن کر گئی، وہ سوال بھی جن کے جواب شاید تمہارے پاس کبھی تھے ہی نہیں، وہ شکایتیں بھی جنہیں میں نے اس خوف سے زبان نہیں دی کہ کہیں تم مجھ سے مزید دور نہ ہو جاؤ۔ میں نے کتنی بار چاہا کہ تمہیں روک کر پوچھوں، آخر میری محبت کہاں کم پڑ گئی تھی؟ میری وفا میں کیا کمی تھی؟ میری دعاؤں، انتظاروں اور تمہیں سمجھنے کی کوششوں میں آخر کون سی ایسی بات تھی جو تمہارے دل تک نہ پہنچ سکی؟ مگر ہر بار اپنے ہی لفظوں کو واپس دل میں اتار لیا، کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے شکوے بھی تمہارے لیے بوجھ نہ بن جائیں۔ تمہیں کھونے سے پہلے ہی میں تمہیں بچانے میں لگی رہی، اور اسی کوشش میں خود کو ہارتی چلی گئی۔ عجیب بات ہے نا، کچھ لوگ ہماری زندگی سے جاتے ہوئے دروازہ تک نہیں بند کرتے، بس یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی آئے ہی نہ ہوں، مگر ان کے جانے کے بعد بھی ان کی موجودگی ہمارے اندر برسوں رہتی ہے۔ تم بھی ایسے ہی گئے، بغیر الوداع کہے، بغیر یہ جانے کہ تمہارے بعد میں نے کتنی راتیں جاگ کر گزاریں، کتنی بار تمہاری پرانی باتیں پڑھ کر خود کو سمجھایا کہ شاید سب ٹھیک ہو جائے، کتنی بار فون کی اسکرین دیکھ کر دل کو یہ جھوٹی تسلی دی کہ شاید آج تمہارا پیغام آ جائے۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انتظار کرتے کرتے دل تھک گیا، آنکھیں تھک گئیں، دعائیں تھک گئیں اور آخرکار میں بھی تھک گئی۔ اب شکایت تم سے نہیں، بس افسوس اس بات کا ہے کہ جس شخص کے ساتھ میں نے زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے، اسی کے ساتھ اپنی کہانی کا اختتام بھی نہ دیکھ سکی۔ تم میرے لیے صرف ایک شخص نہیں تھے، تم ایک احساس تھے، ایک عادت تھے، ایک ایسا خواب تھے جسے میں نے حقیقت سمجھ کر جیا تھا۔ اسی لیے تمہارے جانے کا دکھ صرف تمہارے جانے کا دکھ نہیں تھا، بلکہ ان تمام خوابوں کے ٹوٹنے کا ماتم بھی تھا جو تمہارے نام سے جڑے ہوئے تھے۔ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے، شاید اس لیے نہیں کہ تم نے جو کیا وہ بھول گئی ہوں، بلکہ اس لیے کہ اب میں اپنے دل میں تمہاری دی ہوئی تکلیف کا بوجھ مزید نہیں اٹھانا چاہتی۔ کچھ گلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان زبان پر لائے بغیر ہی دفن کر دیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ سامنے والا اب اتنا اپنا نہیں رہا کہ اس سے حساب مانگا جا سکے۔ سو میں نے بھی سب کچھ خاموشی سے دفن کر دیا؛ اپنی محبت، اپنی شکایتیں، اپنے سوال، اپنا انتظار اور وہ آخری امید بھی کہ شاید کبھی تم پلٹ کر آؤ گے اور کہو گے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اب اگر کبھی ہماری یاد آئے گی تو شاید دل ایک لمحے کے لیے ضرور اداس ہوگا، مگر میں تمہیں پکاروں گی نہیں۔ کیونکہ کچھ کہانیاں واپس جا کر مکمل نہیں کی جاتیں، انہیں بس دل کے کسی خاموش کونے میں رکھ کر زندگی کے ساتھ آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ ہماری کہانی بھی شاید ایسی ہی تھی؛ بہت محبت سے شروع ہوئی، بہت خاموشی میں بکھری اور آخر میں ایک ایسے الوداع پر ختم ہوئی جو کبھی کہا ہی نہیں گیا۔ ✍️
caption پھر ہماری کہانی الوداع کہے بغیر ہی ختم ہو گئی۔ نہ کوئی آخری ملاقات ہوئی، نہ کوئی آخری بار ایک دوسرے کو جی بھر کر دیکھا، نہ تم نے کہا کہ اب تمہیں میری ضرورت نہیں، اور نہ میں یہ کہہ سکی کہ تمہارے جانے کے بعد میرے اندر کتنا کچھ مر جائے گا۔ بس ایک دن ہماری باتوں کے درمیان خاموشی آ گئی، پھر وہ خاموشی فاصلے بنی اور فاصلے اتنے گہرے ہو گئے کہ آخرکار ہماری پوری کہانی ہی ان میں دفن ہو گئی۔ میں دل میں بہت سے گلے شکوے دفن کر گئی، وہ سوال بھی جن کے جواب شاید تمہارے پاس کبھی تھے ہی نہیں، وہ شکایتیں بھی جنہیں میں نے اس خوف سے زبان نہیں دی کہ کہیں تم مجھ سے مزید دور نہ ہو جاؤ۔ میں نے کتنی بار چاہا کہ تمہیں روک کر پوچھوں، آخر میری محبت کہاں کم پڑ گئی تھی؟ میری وفا میں کیا کمی تھی؟ میری دعاؤں، انتظاروں اور تمہیں سمجھنے کی کوششوں میں آخر کون سی ایسی بات تھی جو تمہارے دل تک نہ پہنچ سکی؟ مگر ہر بار اپنے ہی لفظوں کو واپس دل میں اتار لیا، کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے شکوے بھی تمہارے لیے بوجھ نہ بن جائیں۔ تمہیں کھونے سے پہلے ہی میں تمہیں بچانے میں لگی رہی، اور اسی کوشش میں خود کو ہارتی چلی گئی۔ عجیب بات ہے نا، کچھ لوگ ہماری زندگی سے جاتے ہوئے دروازہ تک نہیں بند کرتے، بس یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے کبھی آئے ہی نہ ہوں، مگر ان کے جانے کے بعد بھی ان کی موجودگی ہمارے اندر برسوں رہتی ہے۔ تم بھی ایسے ہی گئے، بغیر الوداع کہے، بغیر یہ جانے کہ تمہارے بعد میں نے کتنی راتیں جاگ کر گزاریں، کتنی بار تمہاری پرانی باتیں پڑھ کر خود کو سمجھایا کہ شاید سب ٹھیک ہو جائے، کتنی بار فون کی اسکرین دیکھ کر دل کو یہ جھوٹی تسلی دی کہ شاید آج تمہارا پیغام آ جائے۔ لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا جب انتظار کرتے کرتے دل تھک گیا، آنکھیں تھک گئیں، دعائیں تھک گئیں اور آخرکار میں بھی تھک گئی۔ اب شکایت تم سے نہیں، بس افسوس اس بات کا ہے کہ جس شخص کے ساتھ میں نے زندگی کے خوبصورت خواب دیکھے، اسی کے ساتھ اپنی کہانی کا اختتام بھی نہ دیکھ سکی۔ تم میرے لیے صرف ایک شخص نہیں تھے، تم ایک احساس تھے، ایک عادت تھے، ایک ایسا خواب تھے جسے میں نے حقیقت سمجھ کر جیا تھا۔ اسی لیے تمہارے جانے کا دکھ صرف تمہارے جانے کا دکھ نہیں تھا، بلکہ ان تمام خوابوں کے ٹوٹنے کا ماتم بھی تھا جو تمہارے نام سے جڑے ہوئے تھے۔ میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے، شاید اس لیے نہیں کہ تم نے جو کیا وہ بھول گئی ہوں، بلکہ اس لیے کہ اب میں اپنے دل میں تمہاری دی ہوئی تکلیف کا بوجھ مزید نہیں اٹھانا چاہتی۔ کچھ گلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان زبان پر لائے بغیر ہی دفن کر دیتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ سامنے والا اب اتنا اپنا نہیں رہا کہ اس سے حساب مانگا جا سکے۔ سو میں نے بھی سب کچھ خاموشی سے دفن کر دیا؛ اپنی محبت، اپنی شکایتیں، اپنے سوال، اپنا انتظار اور وہ آخری امید بھی کہ شاید کبھی تم پلٹ کر آؤ گے اور کہو گے کہ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اب اگر کبھی ہماری یاد آئے گی تو شاید دل ایک لمحے کے لیے ضرور اداس ہوگا، مگر میں تمہیں پکاروں گی نہیں۔ کیونکہ کچھ کہانیاں واپس جا کر مکمل نہیں کی جاتیں، انہیں بس دل کے کسی خاموش کونے میں رکھ کر زندگی کے ساتھ آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ ہماری کہانی بھی شاید ایسی ہی تھی؛ بہت محبت سے شروع ہوئی، بہت خاموشی میں بکھری اور آخر میں ایک ایسے الوداع پر ختم ہوئی جو کبھی کہا ہی نہیں گیا۔ ✍️

About