@gaia.vn18: Bộ vòi bơm hút dầu rửa bát Nâng Cấp nhà Gaia nhà nào cũng nên có [email protected] #bohutnuocruachen #bobomhutnuocruachen #voixitnuocruachen #voixitnuocruabat #voibomnuocruabat #dungculaynuocruachen #voilaynuocruachen #giadungtienich

Gaia.vn
Gaia.vn
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 04 December 2023 04:07:43 GMT
3420
9
2
32

Music

Download

Comments

thanh.thuy7583
Thanh thuy :
bn ạ
2024-03-02 08:38:15
0
To see more videos from user @gaia.vn18, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ بچ پڑھائی سے جی کیوں چرانے لگتے ہیں؟ 🤔 کیا واقعی بچے پڑھنا نہیں چاہتے، یا ہمارا پڑھانے اور سمجھانے کا انداز ان کی دلچسپی کم کر رہا ہوتا ہے؟ یاد رکھیے! ہر بچہ سیکھ سکتا ہے، لیکن ہر بچے کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہماری چند غیر ارادی عادتیں بچوں کے اندر سے سیکھنے کا شوق، اعتماد اور تجسس آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں وہ عام غلطیاں اور ان کے آسان، مؤثر حل! 👇 ❌ 1۔ ہر وقت ڈانٹنا اور غلطیوں پر تنقید کرنا جب بچہ بار بار غلطی کرنے پر ڈانٹ سنتا ہے تو وہ سوال پوچھنے اور نئی چیزیں سیکھنے سے ڈرنے لگتا ہے۔ ✅ حل: غلطی کو سیکھنے کا موقع بنائیں۔ بچے کو سمجھائیں کہ غلطیاں کرنا سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔ اس کی کوشش کی تعریف کریں اور نرمی سے درست طریقہ بتائیں۔ ❌ 2۔ دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا یہ کہنا کہ ”دیکھو، تمہارا بھائی کتنا اچھا پڑھتا ہے، تم کیوں نہیں پڑھ سکتے؟“ بچے کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ✅ حل: ہر بچے کا موازنہ صرف اس کی اپنی پچھلی کارکردگی سے کریں۔ اسے بتائیں کہ اس نے کہاں بہتری دکھائی ہے اور اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔ ❌ 3۔ پڑھائی کو بوجھ اور سزا بنا دینا اگر پڑھائی ہمیشہ دباؤ، لمبے اوقات اور سزا کے ساتھ جڑی ہو تو بچہ اسے خوشی کے بجائے مجبوری سمجھنے لگتا ہے۔ ✅ حل: پڑھائی کو دلچسپ بنائیں۔ کہانیوں، تصویروں، تعلیمی کھیلوں، عملی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کی مثالوں سے سکھائیں۔ مختصر وقفے بھی ضروری ہیں۔ ❌ 4۔ بچوں کے ہر سوال کو نظر انداز کرنا بچوں کے سوالات ان کے تجسس اور سیکھنے کی خواہش کی علامت ہیں۔ بار بار یہ کہنا کہ ”خاموش رہو، ابھی سوال مت کرو“ ان کی سوچنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔ ✅ حل: بچوں کے سوالات توجہ سے سنیں۔ اگر جواب معلوم نہ ہو تو ان کے ساتھ مل کر جواب تلاش کریں۔ انہیں سوچنے، دریافت کرنے اور اپنی رائے دینے کا موقع دیں۔ ❌ 5۔ صرف نمبروں اور نتائج پر توجہ دینا جب بچے کو یہ محسوس ہو کہ اس کی اہمیت صرف اچھے نمبروں سے ہے تو وہ علم حاصل کرنے کے بجائے صرف نمبر لینے کے لیے پڑھنے لگتا ہے۔ ✅ حل: نمبروں کے ساتھ محنت، مستقل مزاجی، تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھی سراہیں۔ ❌ 6۔ ہر وقت بچوں پر دباؤ ڈالنا مسلسل یہ کہنا کہ ”جلدی پڑھو، تمہیں سب کچھ یاد ہونا چاہیے“ بچے کو ذہنی طور پر تھکا سکتا ہے اور پڑھائی سے دور کر سکتا ہے۔ ✅ حل: بچے کی عمر، صلاحیت اور رفتار کے مطابق اہداف مقرر کریں۔ مشکل کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں اور ہر کامیاب قدم پر حوصلہ افزائی کریں۔ ❌ 7۔ بچوں کو خود سیکھنے کا موقع نہ دینا اگر ہم ہر سوال کا جواب خود دے دیں اور ہر کام کا طریقہ بھی خود بتائیں تو بچے کی خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ✅ حل: بچوں سے سوال کریں، انہیں سوچنے کا وقت دیں اور خود حل تلاش کرنے کی ترغیب دیں۔ مثال کے طور پر پوچھیں: ”تمہارے خیال میں اس مسئلے کو حل کرنے کا کوئی اور طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟“ 🌟 ایک بہترین استاد اور باشعور والدین کی پہچان کیا ہے؟ وہ بچے کو صرف سبق یاد نہیں کرواتے، بلکہ اس کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کرتے ہیں۔ وہ بچے کی بات سنتے ہیں، اس کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں، اسے احترام دیتے ہیں اور ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں بچہ بلا خوف سوال پوچھ سکے۔ یاد رکھیے! بچے کو پڑھائی سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایسا ماحول ضرور بنایا جا سکتا ہے جہاں وہ خوشی سے سیکھنا چاہے۔ ❤️ 👩‍🏫 اساتذہ کرام اور والدین کے لیے ایک اہم پیغام: بچے کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی بات سنیں، اس کی کوشش کو سراہیں اور اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ سیکھ سکتا ہے اور بہتر بن سکتا ہے۔ کبھی کبھی آپ کے چند نرم الفاظ، تھوڑا سا صبر اور سمجھانے کا بہتر انداز بچے کی پوری تعلیمی زندگی بدل سکتا ہے۔ 💬 آپ کی رائے کیا ہے؟ بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ آپ کے خیال میں کیا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں! 📌 اس ویڈیو کو والدین اور اساتذہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ہم مل کر بچوں کے لیے ایک مثبت، پُراعتماد اور دلچسپ تعلیمی ماحول بنا سکیں۔ ❤️ بچوں کو صرف کامیاب نہیں، بلکہ پُراعتماد، تخلیقی اور سیکھنے کا شوق رکھنے والا انسان بنائیں۔ #بچوں_کی_تعلیم #تدریسی_حکمت_عملیاں #والدین_کی_تربیت #اساتذہ #بچوں_کی_نفسیات
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ بچ پڑھائی سے جی کیوں چرانے لگتے ہیں؟ 🤔 کیا واقعی بچے پڑھنا نہیں چاہتے، یا ہمارا پڑھانے اور سمجھانے کا انداز ان کی دلچسپی کم کر رہا ہوتا ہے؟ یاد رکھیے! ہر بچہ سیکھ سکتا ہے، لیکن ہر بچے کا سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہماری چند غیر ارادی عادتیں بچوں کے اندر سے سیکھنے کا شوق، اعتماد اور تجسس آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں وہ عام غلطیاں اور ان کے آسان، مؤثر حل! 👇 ❌ 1۔ ہر وقت ڈانٹنا اور غلطیوں پر تنقید کرنا جب بچہ بار بار غلطی کرنے پر ڈانٹ سنتا ہے تو وہ سوال پوچھنے اور نئی چیزیں سیکھنے سے ڈرنے لگتا ہے۔ ✅ حل: غلطی کو سیکھنے کا موقع بنائیں۔ بچے کو سمجھائیں کہ غلطیاں کرنا سیکھنے کے عمل کا حصہ ہے۔ اس کی کوشش کی تعریف کریں اور نرمی سے درست طریقہ بتائیں۔ ❌ 2۔ دوسرے بچوں سے موازنہ کرنا یہ کہنا کہ ”دیکھو، تمہارا بھائی کتنا اچھا پڑھتا ہے، تم کیوں نہیں پڑھ سکتے؟“ بچے کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ✅ حل: ہر بچے کا موازنہ صرف اس کی اپنی پچھلی کارکردگی سے کریں۔ اسے بتائیں کہ اس نے کہاں بہتری دکھائی ہے اور اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے۔ ❌ 3۔ پڑھائی کو بوجھ اور سزا بنا دینا اگر پڑھائی ہمیشہ دباؤ، لمبے اوقات اور سزا کے ساتھ جڑی ہو تو بچہ اسے خوشی کے بجائے مجبوری سمجھنے لگتا ہے۔ ✅ حل: پڑھائی کو دلچسپ بنائیں۔ کہانیوں، تصویروں، تعلیمی کھیلوں، عملی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کی مثالوں سے سکھائیں۔ مختصر وقفے بھی ضروری ہیں۔ ❌ 4۔ بچوں کے ہر سوال کو نظر انداز کرنا بچوں کے سوالات ان کے تجسس اور سیکھنے کی خواہش کی علامت ہیں۔ بار بار یہ کہنا کہ ”خاموش رہو، ابھی سوال مت کرو“ ان کی سوچنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے۔ ✅ حل: بچوں کے سوالات توجہ سے سنیں۔ اگر جواب معلوم نہ ہو تو ان کے ساتھ مل کر جواب تلاش کریں۔ انہیں سوچنے، دریافت کرنے اور اپنی رائے دینے کا موقع دیں۔ ❌ 5۔ صرف نمبروں اور نتائج پر توجہ دینا جب بچے کو یہ محسوس ہو کہ اس کی اہمیت صرف اچھے نمبروں سے ہے تو وہ علم حاصل کرنے کے بجائے صرف نمبر لینے کے لیے پڑھنے لگتا ہے۔ ✅ حل: نمبروں کے ساتھ محنت، مستقل مزاجی، تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو بھی سراہیں۔ ❌ 6۔ ہر وقت بچوں پر دباؤ ڈالنا مسلسل یہ کہنا کہ ”جلدی پڑھو، تمہیں سب کچھ یاد ہونا چاہیے“ بچے کو ذہنی طور پر تھکا سکتا ہے اور پڑھائی سے دور کر سکتا ہے۔ ✅ حل: بچے کی عمر، صلاحیت اور رفتار کے مطابق اہداف مقرر کریں۔ مشکل کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں اور ہر کامیاب قدم پر حوصلہ افزائی کریں۔ ❌ 7۔ بچوں کو خود سیکھنے کا موقع نہ دینا اگر ہم ہر سوال کا جواب خود دے دیں اور ہر کام کا طریقہ بھی خود بتائیں تو بچے کی خود اعتمادی، فیصلہ سازی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ✅ حل: بچوں سے سوال کریں، انہیں سوچنے کا وقت دیں اور خود حل تلاش کرنے کی ترغیب دیں۔ مثال کے طور پر پوچھیں: ”تمہارے خیال میں اس مسئلے کو حل کرنے کا کوئی اور طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟“ 🌟 ایک بہترین استاد اور باشعور والدین کی پہچان کیا ہے؟ وہ بچے کو صرف سبق یاد نہیں کرواتے، بلکہ اس کے اندر سیکھنے کی محبت پیدا کرتے ہیں۔ وہ بچے کی بات سنتے ہیں، اس کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچانتے ہیں، اسے احترام دیتے ہیں اور ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں بچہ بلا خوف سوال پوچھ سکے۔ یاد رکھیے! بچے کو پڑھائی سے محبت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایسا ماحول ضرور بنایا جا سکتا ہے جہاں وہ خوشی سے سیکھنا چاہے۔ ❤️ 👩‍🏫 اساتذہ کرام اور والدین کے لیے ایک اہم پیغام: بچے کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی بات سنیں، اس کی کوشش کو سراہیں اور اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ سیکھ سکتا ہے اور بہتر بن سکتا ہے۔ کبھی کبھی آپ کے چند نرم الفاظ، تھوڑا سا صبر اور سمجھانے کا بہتر انداز بچے کی پوری تعلیمی زندگی بدل سکتا ہے۔ 💬 آپ کی رائے کیا ہے؟ بچوں کی پڑھائی میں دلچسپی کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ آپ کے خیال میں کیا ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں! 📌 اس ویڈیو کو والدین اور اساتذہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ہم مل کر بچوں کے لیے ایک مثبت، پُراعتماد اور دلچسپ تعلیمی ماحول بنا سکیں۔ ❤️ بچوں کو صرف کامیاب نہیں، بلکہ پُراعتماد، تخلیقی اور سیکھنے کا شوق رکھنے والا انسان بنائیں۔ #بچوں_کی_تعلیم #تدریسی_حکمت_عملیاں #والدین_کی_تربیت #اساتذہ #بچوں_کی_نفسیات

About