@gymnasticsworld18: Aliya Mustafina (Rusia) Vault AA #japon #cup #2009 #gymnastics #russia #women #paratii #fouryou #beautiful #fyp #wow #athletes #fouryoupagee

gymnastics world
gymnastics world
Open In TikTok:
Region: PE
Wednesday 14 February 2024 22:40:25 GMT
205916
1065
19
23

Music

Download

Comments

bobby.camerlinck
Bobby Camerlinck :
A gorgeous gymnastics champion...I absolutely love the baby blue and eggshell white leotards. Aliya Mustafina is perfection personified.
2025-01-04 01:05:53
3
mustafa.taskaya4
Mustafa Taskaya :
wooow
2025-09-04 16:28:57
0
mikewest10
mikewest10 :
Superb ❤️💙
2025-07-02 16:12:32
0
yapissdoliz
Cpakoeb :
😁
2025-10-30 22:21:02
1
user91119600095958
user91119600095958 :
😁
2025-10-28 09:25:08
0
musamusamusa.zter
lolo :
🥰
2025-08-12 21:52:35
0
kichougq45e
Dragonball :
🥰
2025-12-01 21:28:20
0
muharremkocyigit8
muharremkocyigit8 :
💋
2025-07-31 18:09:32
0
huseyin.kartal63
Huseyin Kartal :
💋
2025-09-12 08:16:12
0
dm_550i
Dimon :
🔥
2025-11-04 19:49:15
0
formen68ilker
Formen İlker :
👍
2025-08-08 05:59:43
0
user9872317408760
maestroo :
😁
2025-11-02 09:59:13
0
user4753860141686
Davud :
😳
2025-08-02 05:26:04
0
morademorad1
Morad Emorad :
🥰
2025-01-17 15:01:25
0
valdemarpdsantos
valdemarpdsantos :
♥️🌹😍
2025-07-04 08:10:02
0
rebecaolivas341
rov :
👌
2025-05-07 23:55:07
0
normangibb
Norman Gibb :
😁😁😁
2025-03-25 01:55:14
0
marvelousx9x9
MarvelousX9X9 :
😁
2025-02-17 18:40:55
0
juansanguinetti5
juansanguinetti5 :
en ropa interior
2024-09-01 17:00:51
1
user4753860141686
Davud :
ızppp99p8za9,,
2025-08-02 05:35:31
0
To see more videos from user @gymnasticsworld18, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شدید گرمی تھی، مکہ مکرمہ میں حاجیوں کا بے پناہ ہجوم تھا، مگر پانی نایاب ہو چکا تھا۔ لوگ ایک ایک گھونٹ پانی کے لیے پریشان تھے، کئی میل دور سے پانی لایا جا رہا تھا، انہی دنوں عباسی ملکہ زبیدہ بنتِ جعفر حج کے لیے مکہ پہنچیں۔ انہوں نے دیکھا کہ اللّٰہ کے مہمان پانی کی کمی کے باعث کس قدر مشقت اٹھا رہے ہیں۔ یہ منظر ان کے دل پر اتنا اثر کر گیا کہ انہوں نے فوراً ماہرین اور انجینئروں کو طلب کر لیا۔ انہوں نے پوچھا: “کیا کوئی ایسا راستہ نہیں کہ مکہ، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ تک ہمیشہ کے لیے پانی پہنچایا جا سکے؟” ماہرین نے نقشے بچھائے، زمین کا جائزہ لیا اور عرض کیا: “یہ ممکن تو ہے، مگر اس کے لیے دور دراز وادیِ حنین اور بعد میں وادیِ نعمان سے نہر نکالنی پڑے گی۔ پہاڑ کاٹنے ہوں گے، زیرِ زمین سرنگیں بنانی ہوں گی، کنویں کھودنے ہوں گے، اور اس پر بے پناہ دولت خرچ ہوگی۔” زبیدہ بنتِ جعفر نے ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کیا اور حکم دیا کہ کام فوراً شروع کیا جائے۔ پھر تقریباً تین سالوں تک ہزاروں مزدور، معمار، انجینئر اور کاریگر دن رات اس منصوبے پر کام کرتے رہے۔ پہاڑ تراشے گئے، زیرِ زمین سرنگیں کھودی گئیں، درجنوں کنویں، آبی ذخائر اور نہریں تعمیر کی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً 35 کلومیٹر طویل ایک عظیم آبی نظام وجود میں آیا، جس کے ذریعے وادیِ حنین اور بعد ازاں وادیِ نعمان سے پانی بغیر کسی مشینری کے قدرتی ڈھلوان کے ذریعے عرفات، مزدلفہ، منیٰ اور مکہ تک پہنچایا جانے لگا۔ اس طرح انجینئرنگ کا وہ شاہکار جس نے ہزار سال سے زائد عرصہ لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی، نہرِ زبیدہ کے نام سے بن کر تیار ہو گیا۔ جب نہر زبیدہ کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس منصوبے پر ہونے والے اخراجات کا مکمل حساب زبیدہ بنتِ جعفر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس زمانے میں اس پر تقریباً بیس لاکھ دینار خرچ ہو چکے تھے، جو اپنے دور کی ایک خطیر رقم تھی۔ روایت کے مطابق انہوں نے حساب نامہ ہاتھ میں لیا اور دریا میں پھینک دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا:** “یہ حساب میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور چھوڑتی ہوں۔”**  ان کی عظمت اس نہر تک محدود نہیں تھی بلکہ اپنے پانچویں حج کے دوران پانی کی یہی تکلیف دیکھ کر انہوں نے صرف مکہ ہی میں پانی کا انتظام نہیں کروایا بلکہ کوفہ سے مکہ تک تقریباً 900 میل طویل حج کے راستے پر کنویں، تالاب، بارش کے پانی کے ذخائر اور مسافروں کے لیے آرام گاہیں بھی تعمیر کروائیں۔ یہی تاریخی شاہراہ بعد میں دربِ زبیدہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ۔۔۔۔
شدید گرمی تھی، مکہ مکرمہ میں حاجیوں کا بے پناہ ہجوم تھا، مگر پانی نایاب ہو چکا تھا۔ لوگ ایک ایک گھونٹ پانی کے لیے پریشان تھے، کئی میل دور سے پانی لایا جا رہا تھا، انہی دنوں عباسی ملکہ زبیدہ بنتِ جعفر حج کے لیے مکہ پہنچیں۔ انہوں نے دیکھا کہ اللّٰہ کے مہمان پانی کی کمی کے باعث کس قدر مشقت اٹھا رہے ہیں۔ یہ منظر ان کے دل پر اتنا اثر کر گیا کہ انہوں نے فوراً ماہرین اور انجینئروں کو طلب کر لیا۔ انہوں نے پوچھا: “کیا کوئی ایسا راستہ نہیں کہ مکہ، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ تک ہمیشہ کے لیے پانی پہنچایا جا سکے؟” ماہرین نے نقشے بچھائے، زمین کا جائزہ لیا اور عرض کیا: “یہ ممکن تو ہے، مگر اس کے لیے دور دراز وادیِ حنین اور بعد میں وادیِ نعمان سے نہر نکالنی پڑے گی۔ پہاڑ کاٹنے ہوں گے، زیرِ زمین سرنگیں بنانی ہوں گی، کنویں کھودنے ہوں گے، اور اس پر بے پناہ دولت خرچ ہوگی۔” زبیدہ بنتِ جعفر نے ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ کا اظہار نہ کیا اور حکم دیا کہ کام فوراً شروع کیا جائے۔ پھر تقریباً تین سالوں تک ہزاروں مزدور، معمار، انجینئر اور کاریگر دن رات اس منصوبے پر کام کرتے رہے۔ پہاڑ تراشے گئے، زیرِ زمین سرنگیں کھودی گئیں، درجنوں کنویں، آبی ذخائر اور نہریں تعمیر کی گئیں، یہاں تک کہ تقریباً 35 کلومیٹر طویل ایک عظیم آبی نظام وجود میں آیا، جس کے ذریعے وادیِ حنین اور بعد ازاں وادیِ نعمان سے پانی بغیر کسی مشینری کے قدرتی ڈھلوان کے ذریعے عرفات، مزدلفہ، منیٰ اور مکہ تک پہنچایا جانے لگا۔ اس طرح انجینئرنگ کا وہ شاہکار جس نے ہزار سال سے زائد عرصہ لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی، نہرِ زبیدہ کے نام سے بن کر تیار ہو گیا۔ جب نہر زبیدہ کی تعمیر مکمل ہوئی تو اس منصوبے پر ہونے والے اخراجات کا مکمل حساب زبیدہ بنتِ جعفر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس زمانے میں اس پر تقریباً بیس لاکھ دینار خرچ ہو چکے تھے، جو اپنے دور کی ایک خطیر رقم تھی۔ روایت کے مطابق انہوں نے حساب نامہ ہاتھ میں لیا اور دریا میں پھینک دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا:** “یہ حساب میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور چھوڑتی ہوں۔”** ان کی عظمت اس نہر تک محدود نہیں تھی بلکہ اپنے پانچویں حج کے دوران پانی کی یہی تکلیف دیکھ کر انہوں نے صرف مکہ ہی میں پانی کا انتظام نہیں کروایا بلکہ کوفہ سے مکہ تک تقریباً 900 میل طویل حج کے راستے پر کنویں، تالاب، بارش کے پانی کے ذخائر اور مسافروں کے لیے آرام گاہیں بھی تعمیر کروائیں۔ یہی تاریخی شاہراہ بعد میں دربِ زبیدہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ۔۔۔۔

About