@yuliamala777: #україна #війна #всебудеукраїна🇺🇦💙💛 #🇺🇦🇺🇦🇺🇦🇺🇦🇺🇦🇺🇦🇺🇦 #армія #дорога #жара #спека #зітхання #перемога #ukraine #military #медик #combatmedic #славаукраїні #героямслава #🇺🇦 #♥️#українка #рек

Юлія
Юлія
Open In TikTok:
Region: UA
Saturday 13 April 2024 09:55:51 GMT
3196752
127920
1522
3980

Music

Download

Comments

user4477236376185
юра :
Шукайте в кабінеті тцк, кабінет 6
2024-04-13 10:32:41
178
stephen.bond7
Stephen Bond :
I love you your amazing
2024-04-13 21:21:18
1
titino.tellez
Titino Tellez :
hola cómo estás me gusta mucho
2024-04-16 02:02:41
4
ap5391
Andreas P :
Ok 🤔
2024-04-15 17:21:43
0
yaroslav18100
yaroslav18100 :
и ?
2024-04-16 09:18:02
0
mosiiich
МІФ :
🫡
2024-04-15 22:56:30
0
zmiy.go.rynych
Ruslan Nychyporenko :
Це саме миле відео з тобою, в хорошому сенсі🥰💐💐💐
2024-04-13 12:25:55
0
sebastian_ok2
pelaiitoo :
mi amorrrr
2024-04-13 21:08:28
1
litychui_90
Litychui_90 :
Мені соромно за коментарі «недо» мужиків
2024-04-15 19:46:38
0
juanmanuelsanzzeg
Juan Manuel Sanz Zeg :
Slava ukraine
2024-04-13 12:36:35
0
user5376151717878
КАЖДЫЙ ВЫБИРАЕТ СВОЙ ПУТЬ :
отработала😂😂😂
2024-04-13 10:31:23
215
omarov_o6
OMAROV :
slava Ukraine
2024-04-14 04:36:29
1
sergocecxladze4
serii 01 :
slava ukraine krasotka
2024-04-13 19:42:47
0
titino.tellez
Titino Tellez :
está bueno me gusta 😍
2024-04-14 02:45:31
1
starfactswonder
StarFactsWonder :
кадировці будуть задоволені
2024-04-15 04:26:15
106
valokaxelo
valo.kaxelo :
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
2024-04-14 05:18:17
1
deboshir0102
deboshir :
😂😂😂😂
2024-04-14 15:54:08
1
user717805039
Vadim :
🥰🥰🥰
2024-04-13 10:28:12
1
user6015292782383
Vlad :
🥰🥰🥰
2024-04-13 10:37:18
1
pato68023
pato :
🥰🥰🥰
2024-04-13 10:04:47
1
isaaccotarelo0
isaaccotarelo370 :
🇲🇽♥️♥️♥️😘😘😘
2024-04-17 18:03:10
1
karl_200188
karl :
🥰🥰🥰
2024-04-22 13:35:58
0
user1596998494670
Максим Бондар :
🥰🥰🥰
2024-04-13 10:28:59
0
To see more videos from user @yuliamala777, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

چارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طرف آواز میں گھبراہٹ تھی۔ یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج جاری تھا۔ صورتحال کشیدہ تھی اور لیفٹیننٹ کرنل کی اہلیہ اس دوران وہاں موجود تھیں۔ یہ وہ موقع تھا جب ایک شوہر کے سامنے دو راستے تھے۔ وہ گھر پر رہتے اور معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس پر چھوڑ دیتے یا وہاں پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اس ہجوم سے نکالتے۔ ڈاکٹر آئینہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس افیئرز کی انچارج ہیں۔ طلباء کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم سے ان کی تلخ کلامی ہوئی۔ طالب علم سے کہا گیا کہ وہ اس شعبے کا نہیں تو یہاں کیوں موجود ہے؟ بات بڑھتی گئی۔ طالب علم خاتون افسر کے قریب آیا تو ڈاکٹر آئینہ نے اسے خبردار کیا کہ اگر وہ ایک انچ بھی مزید آگے بڑھا تو وہ اسے تھپڑ مار دیں گی۔ اس کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔ پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار وہاں پہنچے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ وردی میں تھے اور ذاتی گاڑی پر فوجی رینک بھی نمایاں تھے۔ قانونی اور ادارہ جاتی اعتبار سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انہیں ایسی صورتحال میں کس طریقے سے پہنچنا چاہیے تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کو معاملہ سنبھالنے دیتے۔ لیکن وہ موقع پر خلاف قانون پہنچ گئے۔ جب بھی کسی بھی افسر(یا کسی اور محکمے کے ملازم) کو اپنی اہلیہ کی ایسی کال آئے کہ وہ مشتعل ہجوم کے درمیان ہے تو عین ممکن ہے کہ اس لمحے وہ اپنے عہدے سے پہلے شوہر بن جائے۔  ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ہجوم سے باہر لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران کچھ طلباء ڈاکٹر آئینہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس دوران ہاتھا پائی بڑھ گئی۔ ویڈیوز میں ایک موقع پر دیکھا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا اور ان کی وردی پھٹ گئی۔ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار کے پاس ذاتی پستول موجود تھا لیکن وہ یونیورسٹی پہنچتے وقت اسے لہراتے ہوئے اندر داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اہلیہ کو ہجوم سے نکالتے وقت بھی ہتھیار نہیں نکالا لیکن جب صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچی، اہلیہ کو دھکے دیے جاتے دیکھنے اور اپنی وردی پھٹنے کے بعد انہوں نے پستول نکالا اور فائرنگ کر دی۔ اب اس واقعے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ قانون یہ طے کرے گا کہ ہتھیار نکالنے اور فائر کرنے کے وقت خطرہ کس نوعیت کا تھا، کیا طاقت کا استعمال ضرورت کے مطابق تھا یا نہیں؟ ایک فوجی افسر کس طرح یونیورسٹی میں ذاتی اسلحہ سمیت داخل ہوا اور وہ بھی باوردی ہو کر؟ یہ معاملات طے ہونے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔ یونیورسٹی کے چند طلباء سے بات ہوئی ہے۔ یہاں زیادہ تر طلباء پشتون تھے اور براہ راست ہاتھاپائی کرنے والا نوجوان بھی پشتون ہے۔ اب بعض سوشل میڈیا صارفین کے لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ایک فوجی افسر یونیورسٹی میں کس حیثیت سے پہنچا، ہتھیار کیوں نکالا یا فائرنگ کی قانونی حیثیت کیا تھی؟ ان کے لیے اصل موضوع یہ بن گیا ہے کہ ایک نوجوان کرنل کے گریبان تک پہنچ گیا وغیرہ وغیرہ۔۔ اس نوجوان کو ’غیرت مند پشتون‘ قرار دینے والے بھی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اسی کہانی کا دوسرا کردار بھی تو پشتون ہے۔ وہی اسفندیار جس نے اپنی اہلیہ کو مشتعل ہجوم کے درمیان سے نکالنے کی کوشش کی، وہی شخص جس نے 26 سال فوج میں گزارے، وہی چارسدہ کا پشتون جس کے سامنے اس وقت اپنی وردی، عہدہ اور ملازمت سے زیادہ اپنی اہلیہ کی سلامتی کا سوال تھا۔۔۔ اس واقعے کو سیاسی عینک سے دیکھنے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ پھر حقیقت کے مختلف حصے نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر معاملے کو فوج مخالف سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی ہیں جو محض اس لیے ہر فوجی اقدام کو درست سمجھ لیتے ہیں کہ سامنے والا وردی میں ہے۔ دونوں رویے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ کسی طالب علم کا ایک فوجی افسر کے گریبان تک ہاتھ پہنچانا قابلِ تحسین نہیں ہوسکتا، ٹھیک اسی طرح کسی فوجی افسر کا عہدہ اسے قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔  پولیس موقع پر کیوں موجود نہیں تھی؟ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو کس نے اور کس حیثیت سے اندر آنے دیا؟ ہاتھا پائی میں پہل کس نے کی؟ ہتھیار نکالنے اور ہوائی فائر کرنے کے وقت خطرہ کیا تھا اور کیا یہ کوئی قانونی جواز پیش کرتا ہے؟؟ اور کیا اس پورے واقعے میں کس فریق نے قانون کی خلاف ورزی کی؟ ان سوالوں کے جواب تفتیش سے ملنے چاہییں سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹس کر دینے سے نہیں۔۔ #SarhadUniversity #islamabad #PakistanArmy
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طرف آواز میں گھبراہٹ تھی۔ یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج جاری تھا۔ صورتحال کشیدہ تھی اور لیفٹیننٹ کرنل کی اہلیہ اس دوران وہاں موجود تھیں۔ یہ وہ موقع تھا جب ایک شوہر کے سامنے دو راستے تھے۔ وہ گھر پر رہتے اور معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس پر چھوڑ دیتے یا وہاں پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اس ہجوم سے نکالتے۔ ڈاکٹر آئینہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس افیئرز کی انچارج ہیں۔ طلباء کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم سے ان کی تلخ کلامی ہوئی۔ طالب علم سے کہا گیا کہ وہ اس شعبے کا نہیں تو یہاں کیوں موجود ہے؟ بات بڑھتی گئی۔ طالب علم خاتون افسر کے قریب آیا تو ڈاکٹر آئینہ نے اسے خبردار کیا کہ اگر وہ ایک انچ بھی مزید آگے بڑھا تو وہ اسے تھپڑ مار دیں گی۔ اس کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔ پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار وہاں پہنچے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ وردی میں تھے اور ذاتی گاڑی پر فوجی رینک بھی نمایاں تھے۔ قانونی اور ادارہ جاتی اعتبار سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انہیں ایسی صورتحال میں کس طریقے سے پہنچنا چاہیے تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کو معاملہ سنبھالنے دیتے۔ لیکن وہ موقع پر خلاف قانون پہنچ گئے۔ جب بھی کسی بھی افسر(یا کسی اور محکمے کے ملازم) کو اپنی اہلیہ کی ایسی کال آئے کہ وہ مشتعل ہجوم کے درمیان ہے تو عین ممکن ہے کہ اس لمحے وہ اپنے عہدے سے پہلے شوہر بن جائے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ہجوم سے باہر لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران کچھ طلباء ڈاکٹر آئینہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس دوران ہاتھا پائی بڑھ گئی۔ ویڈیوز میں ایک موقع پر دیکھا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا اور ان کی وردی پھٹ گئی۔ لیفٹننٹ کرنل اسفندیار کے پاس ذاتی پستول موجود تھا لیکن وہ یونیورسٹی پہنچتے وقت اسے لہراتے ہوئے اندر داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اہلیہ کو ہجوم سے نکالتے وقت بھی ہتھیار نہیں نکالا لیکن جب صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچی، اہلیہ کو دھکے دیے جاتے دیکھنے اور اپنی وردی پھٹنے کے بعد انہوں نے پستول نکالا اور فائرنگ کر دی۔ اب اس واقعے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ قانون یہ طے کرے گا کہ ہتھیار نکالنے اور فائر کرنے کے وقت خطرہ کس نوعیت کا تھا، کیا طاقت کا استعمال ضرورت کے مطابق تھا یا نہیں؟ ایک فوجی افسر کس طرح یونیورسٹی میں ذاتی اسلحہ سمیت داخل ہوا اور وہ بھی باوردی ہو کر؟ یہ معاملات طے ہونے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔ یونیورسٹی کے چند طلباء سے بات ہوئی ہے۔ یہاں زیادہ تر طلباء پشتون تھے اور براہ راست ہاتھاپائی کرنے والا نوجوان بھی پشتون ہے۔ اب بعض سوشل میڈیا صارفین کے لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ایک فوجی افسر یونیورسٹی میں کس حیثیت سے پہنچا، ہتھیار کیوں نکالا یا فائرنگ کی قانونی حیثیت کیا تھی؟ ان کے لیے اصل موضوع یہ بن گیا ہے کہ ایک نوجوان کرنل کے گریبان تک پہنچ گیا وغیرہ وغیرہ۔۔ اس نوجوان کو ’غیرت مند پشتون‘ قرار دینے والے بھی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اسی کہانی کا دوسرا کردار بھی تو پشتون ہے۔ وہی اسفندیار جس نے اپنی اہلیہ کو مشتعل ہجوم کے درمیان سے نکالنے کی کوشش کی، وہی شخص جس نے 26 سال فوج میں گزارے، وہی چارسدہ کا پشتون جس کے سامنے اس وقت اپنی وردی، عہدہ اور ملازمت سے زیادہ اپنی اہلیہ کی سلامتی کا سوال تھا۔۔۔ اس واقعے کو سیاسی عینک سے دیکھنے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ پھر حقیقت کے مختلف حصے نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر معاملے کو فوج مخالف سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی ہیں جو محض اس لیے ہر فوجی اقدام کو درست سمجھ لیتے ہیں کہ سامنے والا وردی میں ہے۔ دونوں رویے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ کسی طالب علم کا ایک فوجی افسر کے گریبان تک ہاتھ پہنچانا قابلِ تحسین نہیں ہوسکتا، ٹھیک اسی طرح کسی فوجی افسر کا عہدہ اسے قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ پولیس موقع پر کیوں موجود نہیں تھی؟ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو کس نے اور کس حیثیت سے اندر آنے دیا؟ ہاتھا پائی میں پہل کس نے کی؟ ہتھیار نکالنے اور ہوائی فائر کرنے کے وقت خطرہ کیا تھا اور کیا یہ کوئی قانونی جواز پیش کرتا ہے؟؟ اور کیا اس پورے واقعے میں کس فریق نے قانون کی خلاف ورزی کی؟ ان سوالوں کے جواب تفتیش سے ملنے چاہییں سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹس کر دینے سے نہیں۔۔ #SarhadUniversity #islamabad #PakistanArmy

About