@versatile_fida: #homemade #ferrerorocher #chocolate #Recipe #dessert #sweet #follow

versatile_fida
versatile_fida
Open In TikTok:
Region: PK
Monday 22 April 2024 15:11:27 GMT
10074
132
6
16

Music

Download

Comments

ch.saad.1234
Heer🦋 :
It I Bari chocolate
2026-01-01 14:00:23
0
shehnazgulgul
Surkhab gul :
👍
2025-09-06 15:04:20
0
sikander1316
rainbow 🌈 :
😁
2025-06-17 09:21:58
0
saimamunawar59
saimun :
😁
2025-05-21 06:51:27
0
halamahi842
Hala Mahi :
🥰🥰🥰🥰
2024-04-24 21:06:34
0
shazaibghoori
shazaib Ghouri :
😃😄😁😆😅😂🤣☺️😊😇🙂🙃😉😌🥰😋😛😝😜🤪😌😣😖😫😩🥺😎😔😟😔😞😟
2025-10-25 16:31:55
0
To see more videos from user @versatile_fida, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ویر جو 2005 کے زلزلے میں مظفراباد ائے تھے# یاسین ملک صاحب—وہ شخص جس نے 2005 کے زلزلے میں سرحدوں سے پہلے انسانیت کو دیکھا 8 اکتوبر 2005 کا وہ قیامت خیز زلزلہ آج بھی کشمیر کی تاریخ کا ایک ایسا دردناک باب ہے جسے بھلانا ممکن نہیں۔ مظفرآباد، باغ، بالاکوٹ اور آس پاس کے علاقوں میں بستیاں اجڑ گئیں، گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ مظفرآباد اس تباہی کے بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل تھا۔ اسی مشکل گھڑی میں کشمیر کے دونوں اطراف سے مدد کے ہاتھ ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ اُس وقت یاسین ملک صاحب نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ مصیبت میں گھرے اپنے کشمیری بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سری نگر سے متاثرین کے لیے امداد جمع کی گئی۔ اُس وقت کی رپورٹس کے مطابق یاسین ملک صاحب نے کشمیر اور بیرونِ ملک موجود اپنے حامیوں کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ روپے کی امداد اکٹھی کی، جس میں بڑی رقم متاثرین کے لیے خوراک اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے مقصد سے تھی۔ وہ اکتوبر 2005 میں پاکستان پہنچے اور مظفرآباد کے زلزلہ زدہ علاقوں کا رخ کیا۔ رپورٹس کے مطابق وہ کئی دن متاثرہ علاقوں میں موجود رہے، لوگوں سے ملے، ان کے حالات دیکھے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً سات دن زلزلہ متاثرین کے درمیان رہے اور امداد تقسیم کی۔ یہ صرف امداد کا سامان لے کر آنے کی بات نہیں تھی؛ یہ اُس وقت ایک ایسے رشتے کا اظہار تھا جو نقشوں اور لکیر سے بڑا ہوتا ہے—انسانیت، کشمیریت اور اپنے دکھ میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رشتہ۔ 2005 کے زلزلے نے بہت سے گھر اجاڑ دیے، مگر اسی سانحے نے یہ بھی دکھایا کہ کشمیری ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے راستے بھی انسانی ہمدردی اور امداد کے لیے کھولے گئے، تاکہ زلزلے سے متاثرہ خاندانوں تک مدد پہنچ سکے اور بچھڑے ہوئے لوگ ایک دوسرے کا حال جان سکیں۔ آج جب ہم اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں تو اُن لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے آرام سے زیادہ مصیبت زدہ انسانوں کے دکھ کو اہم سمجھا۔ یاسین ملک صاحب آج سلاخوں کے پیچھے ہیں، لیکن اُن کے ساتھ جڑی یہ انسانی یادیں کشمیر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ کشمیر کے لوگوں سے میری درد بھری گزارش ہے کہ یاسین ملک صاحب کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو برسوں سے قید میں ہے، جو اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی دیواروں کے پیچھے گزار رہا ہے، اور جس کے خاندان نے بھی طویل جدائی کا درد برداشت کیا ہے۔ ہمیں اُن لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو مشکل وقت میں ہمارے دکھ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ 2005 کے اُن شہداء کو سلام جنہوں نے زلزلے میں اپنی جانیں گنوائیں۔ اُن خاندانوں کو سلام جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ اُن رضاکاروں کو سلام جنہوں نے ملبے، بھوک، سردی اور خوف کے درمیان انسانیت کی خدمت کی۔ اور اُن تمام ہاتھوں کو سلام جو اُس وقت مظفرآباد کے زخمی انسانوں کے
ویر جو 2005 کے زلزلے میں مظفراباد ائے تھے# یاسین ملک صاحب—وہ شخص جس نے 2005 کے زلزلے میں سرحدوں سے پہلے انسانیت کو دیکھا 8 اکتوبر 2005 کا وہ قیامت خیز زلزلہ آج بھی کشمیر کی تاریخ کا ایک ایسا دردناک باب ہے جسے بھلانا ممکن نہیں۔ مظفرآباد، باغ، بالاکوٹ اور آس پاس کے علاقوں میں بستیاں اجڑ گئیں، گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے، ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہوگئے اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ مظفرآباد اس تباہی کے بدترین متاثرہ علاقوں میں شامل تھا۔ اسی مشکل گھڑی میں کشمیر کے دونوں اطراف سے مدد کے ہاتھ ایک دوسرے کی طرف بڑھے۔ اُس وقت یاسین ملک صاحب نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ مصیبت میں گھرے اپنے کشمیری بھائیوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ سری نگر سے متاثرین کے لیے امداد جمع کی گئی۔ اُس وقت کی رپورٹس کے مطابق یاسین ملک صاحب نے کشمیر اور بیرونِ ملک موجود اپنے حامیوں کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ روپے کی امداد اکٹھی کی، جس میں بڑی رقم متاثرین کے لیے خوراک اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کے مقصد سے تھی۔ وہ اکتوبر 2005 میں پاکستان پہنچے اور مظفرآباد کے زلزلہ زدہ علاقوں کا رخ کیا۔ رپورٹس کے مطابق وہ کئی دن متاثرہ علاقوں میں موجود رہے، لوگوں سے ملے، ان کے حالات دیکھے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ وہ تقریباً سات دن زلزلہ متاثرین کے درمیان رہے اور امداد تقسیم کی۔ یہ صرف امداد کا سامان لے کر آنے کی بات نہیں تھی؛ یہ اُس وقت ایک ایسے رشتے کا اظہار تھا جو نقشوں اور لکیر سے بڑا ہوتا ہے—انسانیت، کشمیریت اور اپنے دکھ میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا رشتہ۔ 2005 کے زلزلے نے بہت سے گھر اجاڑ دیے، مگر اسی سانحے نے یہ بھی دکھایا کہ کشمیری ایک دوسرے کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے راستے بھی انسانی ہمدردی اور امداد کے لیے کھولے گئے، تاکہ زلزلے سے متاثرہ خاندانوں تک مدد پہنچ سکے اور بچھڑے ہوئے لوگ ایک دوسرے کا حال جان سکیں۔ آج جب ہم اُن دنوں کو یاد کرتے ہیں تو اُن لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنے آرام سے زیادہ مصیبت زدہ انسانوں کے دکھ کو اہم سمجھا۔ یاسین ملک صاحب آج سلاخوں کے پیچھے ہیں، لیکن اُن کے ساتھ جڑی یہ انسانی یادیں کشمیر کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ کشمیر کے لوگوں سے میری درد بھری گزارش ہے کہ یاسین ملک صاحب کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو برسوں سے قید میں ہے، جو اپنی زندگی کے قیمتی سال جیل کی دیواروں کے پیچھے گزار رہا ہے، اور جس کے خاندان نے بھی طویل جدائی کا درد برداشت کیا ہے۔ ہمیں اُن لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے جو مشکل وقت میں ہمارے دکھ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ 2005 کے اُن شہداء کو سلام جنہوں نے زلزلے میں اپنی جانیں گنوائیں۔ اُن خاندانوں کو سلام جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ اُن رضاکاروں کو سلام جنہوں نے ملبے، بھوک، سردی اور خوف کے درمیان انسانیت کی خدمت کی۔ اور اُن تمام ہاتھوں کو سلام جو اُس وقت مظفرآباد کے زخمی انسانوں کے

About