@alezha.obukhov: Мамино 34-летнее сокровище. Серия 1

Алежа Обухов (старый аккаунт)
Алежа Обухов (старый аккаунт)
Open In TikTok:
Region: BY
Sunday 28 April 2024 09:24:42 GMT
2727911
230870
2127
19817

Music

Download

Comments

carspotaltay
✝️alekss?✝️ :
пахнет 200 сериями
2024-04-28 19:41:08
8409
krueleaw
кариша♻️ :
я видел сон,очень старый сон...
2024-04-28 16:11:32
3812
user6500711000158
user6500711000158 :
че
2024-04-28 09:28:16
39
the_king_209
n2tearsss :
йомайо опять залипнем на місяців 2
2024-04-28 11:13:43
1860
fixcrafton_lite
Фикс :
восстало из мёртвых
2024-04-30 03:18:37
15
bs_floxyyy
FloXy :
Ой-ой-ой ой
2024-05-12 09:11:02
19
a.m._stanotk_po_metally
🍀【-】 :
неужели всё так плохо?
2024-04-29 08:02:33
23
bingobro0_2
Bingobro :
цок цок, у него появилась она
2024-05-05 20:25:29
26
k1raqueen6
k1raqueen :
меня смущает надпись снижу "что такое приквел" 💀
2024-05-29 01:01:02
23
slimshady_071
slimshady :
деньги кончились
2024-04-28 13:12:30
31
artblackrussia
Blazzzer :
*пошли флешбеки*
2024-04-28 12:51:07
43
papaczlugs2
papaczlugs2 :
чо
2024-04-28 15:27:52
40
wolf_hcr2
бⷬлⷷаⷥгⷶоⷮеꙺ дⷯеⷪлⷯьⷧцⷪеⷡ :
олд
2024-04-28 13:54:09
34
_milki_chan_
_milki_chan_ :
буду олдом!
2024-04-28 13:51:27
35
lil_2711
стефан растафарай☝🏿🇯🇲 :
эщкере посхалочко с первой серии
2024-04-28 14:21:17
42
myxaa303
volleymyxa :
ураааа
2024-04-28 13:08:14
41
keri316
Keri31 :
ураааа
2024-04-28 09:51:45
39
rituzaxdd
ритуза хрюша 0 _0 :
ЧОЧОЧЧОВЯООЧЧОЧО
2024-04-28 10:46:54
38
dylcleb2e9ok
трурилижн ひ :
что..
2024-04-28 17:09:20
39
..nepo0
Ne1spit :
оставлю свой след
2024-04-28 09:53:44
42
_ptanos_
Ptanos :
Наконец-то, Наконец-то есть цель жить
2024-04-28 11:43:15
45
zxcb3rserki
zxcarbuz :
На леню из кухни похож почти всем но не внешностью
2024-04-29 09:27:34
31
dreamer_df
dreamer_df :
Снова дом всё тоже дом...
2024-05-10 18:32:49
36
666_bomzh_228
Мактрахер 228 :
каша ты?
2024-04-28 13:45:09
25
loxlow7
luinor :
Почему-то прям знал, что будет приквел
2024-04-28 14:54:42
29
To see more videos from user @alezha.obukhov, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*وہ خلا جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔* والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اولاد کو اچھا کھانا، اچھے کپڑے، تعلیم اور چند بنیادی سہولیات فراہم کرکے انہوں نے والدین ہونے کا حق ادا کردیا۔ بے شک یہ سب بہت ضروری ہے، لیکن ایک بچے کی پرورش صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں۔ ایک بچے کو روٹی، کپڑے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ محبت، توجہ، جذباتی تحفظ، اعتماد اور ایک محفوظ تعلق بھی چاہیے ہوتا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ والدین اپنی اولاد کے لیے بے شمار قربانیاں دیتے ہیں۔ اپنی خواہشات دباتے ہیں، اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ لیکن اکثر اسی جہدوجہد میں وہ ایک بہت اہم چیز بھول جاتے ہیں — اور وہ ہے “اپنی موجودگی”۔ ایک بچے کے لیے پوری دنیا صرف دو چہروں میں بسی ہوتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی نظروں میں اپنی اہمیت تلاش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے، سمجھا جائے، سراہا جائے، اس کے جذبات کو اہمیت دی جائے۔ لیکن جب والدین مسلسل مصروفیت، سختی، تنقید یا بے توجہی میں الجھے رہتے ہیں تو بچہ آہستہ آہستہ اپنی ذات میں سمٹنے لگتا ہے۔ ایسے بچے بظاہر خاموش، فرمانبردار یا سمجھدار نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے وہ محبت، توجہ اور قبولیت کے بھوکے ہوتے ہیں۔ پھر جب زندگی میں باہر سے کوئی انسان چند نرم الفاظ، تھوڑی سی توجہ یا اپنائیت دیتا ہے تو وہ فوراً اُس سے جذباتی طور پر جڑ جاتے ہیں، کیونکہ وہ خلا برسوں سے ان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ یہ خلا صرف بچپن تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگ بڑے ہوکر بھی ہر تعلق میں وہی محبت، توجہ اور قبولیت ڈھونڈتے رہتے ہیں جو انہیں بچپن میں نہیں ملی ہوتی۔ لیکن کوئی بھی انسان والدین کی اُس کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کرسکتا، اسی لیے وہ اندرونی خلا اکثر باقی رہتا ہے۔ ایسے بچے جب جوان ہوتے ہیں تو یا تو حد سے زیادہ جذباتی وابستگی کا شکار ہو جاتے ہیں، یا پھر مکمل طور پر خود کو لوگوں سے دور کرلیتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں انہیں نظر انداز نہ کردیا جائے، چھوڑ نہ دیا جائے، یا ان کے جذبات کی قدر نہ کی جائے۔ یہی خوف ان کے تعلقات، اعتماد اور ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔ جو بچہ اپنے والدین کے ساتھ جذباتی طور پر محفوظ تعلق قائم نہیں کر پاتا، وہ بعد کی زندگی میں ہر رشتے میں شکوک، خوف، غیر یقینی اور جذباتی عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے۔ وہ بار بار خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کی منظوری ڈھونڈتا ہے، اور معمولی بے توجہی بھی اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے والدین بچوں کی کامیابیوں سے زیادہ ان کی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ تعریف کم، تنقید زیادہ کی جاتی ہے۔ اکثر بچوں کا دوسروں سے موازنہ کیا جاتا ہے، ان کے جذبات کو “ڈرامہ” یا “نافرمانی” سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی چیزیں ایک بچے کی خود اعتمادی، ذہنی صحت اور شخصیت کو گہرے طور پر متاثر کرتی ہیں۔ ایک بچہ صرف یہ نہیں چاہتا کہ اس کے والدین اس کے لیے خرچ کریں، بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ:  اس کی بات سنی جائے، اس کے جذبات کو اہم سمجھا جائے، غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے سمجھایا جائے، اسے دوسروں سے موازنہ نہ کیا جائے، اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ صرف کامیابی کی صورت میں نہیں بلکہ ہر حال میں قابلِ محبت ہے۔ یاد رکھیں، بچے والدین کی ہر بات نہیں یاد رکھتے، لیکن اُن کا لہجہ، رویّہ اور احساس ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ بچپن میں ملنے والی محبت انسان کی پوری شخصیت کی بنیاد بنتی ہے۔ اور بچپن میں ملنے والی محرومیاں اکثر عمر بھر انسان کے اندر خاموش زخم بن کر رہتی ہیں۔ منقول  #writing #motivationurdu #urduquotes #foryou #viral
*وہ خلا جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔* والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اولاد کو اچھا کھانا، اچھے کپڑے، تعلیم اور چند بنیادی سہولیات فراہم کرکے انہوں نے والدین ہونے کا حق ادا کردیا۔ بے شک یہ سب بہت ضروری ہے، لیکن ایک بچے کی پرورش صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں۔ ایک بچے کو روٹی، کپڑے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ محبت، توجہ، جذباتی تحفظ، اعتماد اور ایک محفوظ تعلق بھی چاہیے ہوتا ہے۔ میں مانتی ہوں کہ والدین اپنی اولاد کے لیے بے شمار قربانیاں دیتے ہیں۔ اپنی خواہشات دباتے ہیں، اپنی ضروریات قربان کرتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں تاکہ ان کے بچے ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔ لیکن اکثر اسی جہدوجہد میں وہ ایک بہت اہم چیز بھول جاتے ہیں — اور وہ ہے “اپنی موجودگی”۔ ایک بچے کے لیے پوری دنیا صرف دو چہروں میں بسی ہوتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی نظروں میں اپنی اہمیت تلاش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے، سمجھا جائے، سراہا جائے، اس کے جذبات کو اہمیت دی جائے۔ لیکن جب والدین مسلسل مصروفیت، سختی، تنقید یا بے توجہی میں الجھے رہتے ہیں تو بچہ آہستہ آہستہ اپنی ذات میں سمٹنے لگتا ہے۔ ایسے بچے بظاہر خاموش، فرمانبردار یا سمجھدار نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے وہ محبت، توجہ اور قبولیت کے بھوکے ہوتے ہیں۔ پھر جب زندگی میں باہر سے کوئی انسان چند نرم الفاظ، تھوڑی سی توجہ یا اپنائیت دیتا ہے تو وہ فوراً اُس سے جذباتی طور پر جڑ جاتے ہیں، کیونکہ وہ خلا برسوں سے ان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ یہ خلا صرف بچپن تک محدود نہیں رہتا بلکہ انسان کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ بہت سے لوگ بڑے ہوکر بھی ہر تعلق میں وہی محبت، توجہ اور قبولیت ڈھونڈتے رہتے ہیں جو انہیں بچپن میں نہیں ملی ہوتی۔ لیکن کوئی بھی انسان والدین کی اُس کمی کو مکمل طور پر پورا نہیں کرسکتا، اسی لیے وہ اندرونی خلا اکثر باقی رہتا ہے۔ ایسے بچے جب جوان ہوتے ہیں تو یا تو حد سے زیادہ جذباتی وابستگی کا شکار ہو جاتے ہیں، یا پھر مکمل طور پر خود کو لوگوں سے دور کرلیتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں انہیں نظر انداز نہ کردیا جائے، چھوڑ نہ دیا جائے، یا ان کے جذبات کی قدر نہ کی جائے۔ یہی خوف ان کے تعلقات، اعتماد اور ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔ جو بچہ اپنے والدین کے ساتھ جذباتی طور پر محفوظ تعلق قائم نہیں کر پاتا، وہ بعد کی زندگی میں ہر رشتے میں شکوک، خوف، غیر یقینی اور جذباتی عدم تحفظ کا شکار رہتا ہے۔ وہ بار بار خود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، دوسروں کی منظوری ڈھونڈتا ہے، اور معمولی بے توجہی بھی اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے والدین بچوں کی کامیابیوں سے زیادہ ان کی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں۔ تعریف کم، تنقید زیادہ کی جاتی ہے۔ اکثر بچوں کا دوسروں سے موازنہ کیا جاتا ہے، ان کے جذبات کو “ڈرامہ” یا “نافرمانی” سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی چیزیں ایک بچے کی خود اعتمادی، ذہنی صحت اور شخصیت کو گہرے طور پر متاثر کرتی ہیں۔ ایک بچہ صرف یہ نہیں چاہتا کہ اس کے والدین اس کے لیے خرچ کریں، بلکہ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ: اس کی بات سنی جائے، اس کے جذبات کو اہم سمجھا جائے، غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے سمجھایا جائے، اسے دوسروں سے موازنہ نہ کیا جائے، اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ صرف کامیابی کی صورت میں نہیں بلکہ ہر حال میں قابلِ محبت ہے۔ یاد رکھیں، بچے والدین کی ہر بات نہیں یاد رکھتے، لیکن اُن کا لہجہ، رویّہ اور احساس ہمیشہ یاد رکھتے ہیں۔ بچپن میں ملنے والی محبت انسان کی پوری شخصیت کی بنیاد بنتی ہے۔ اور بچپن میں ملنے والی محرومیاں اکثر عمر بھر انسان کے اندر خاموش زخم بن کر رہتی ہیں۔ منقول #writing #motivationurdu #urduquotes #foryou #viral

About