@user5153993241564: Đầm lụa tôn dáng xinh xỉu như tỷ tỷ douyin 🤍🤍 #xuhuong#thoitrang#douyin

M.Thư shop
M.Thư shop
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 03 May 2024 02:44:56 GMT
3546
26
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user5153993241564, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک ملحد کا اعتراض اور اس کا جواب  دنیا دارالاسباب ہے دعاء، وظیفہ کیساتھ اسباب استعمال کرنیکا  اسلام میں حکم ہے اس سے انکار جھالت اور الحاد ہے الجواب بتوفیق اللہ عزوجل
ایک ملحد کا اعتراض اور اس کا جواب دنیا دارالاسباب ہے دعاء، وظیفہ کیساتھ اسباب استعمال کرنیکا اسلام میں حکم ہے اس سے انکار جھالت اور الحاد ہے الجواب بتوفیق اللہ عزوجل "مولوی کی سیکیورٹی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا آیت الکرسی پر کوئی یقین نہیں۔" یہ اعتراض درست نہیں، کیونکہ یہ غلط قیاس پر مبنی ہے۔ اس کا مدلل جواب درج ذیل ہے: جواب: آیت الکرسی اللہ کی حفاظت کا عظیم سبب ہے، مگر اسلام نے صرف دعا پر اکتفا کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ خود رسول اللہ ﷺ جنگوں میں زرہ پہنتے تھے، خود حفاظتی انتظام کرتے تھے، پہرہ مقرر فرماتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ کا اللہ پر سب سے زیادہ توکل تھا ۔ غزوۂ احد میں آپ ﷺ نے دو زرہیں پہنیں۔ ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں قیام کیا اور رہنمائی کے لیے ماہر راستہ شناس کی خدمات حاصل کیں۔ یہ سب حفاظتی اسباب تھے، نہ کہ ایمان کی کمزوری ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ﴾ "ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک ہو سکے طاقت تیار رکھو۔" (سورۃ الأنفال: 60) حدیث شریف میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اپنی اونٹنی کو پہلے باندھو، پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔" (ترمذی خلاصہ: آیت الکرسی پر ایمان رکھنا اور اس کی تلاوت کرنا ایک عبادت ہے، جبکہ جان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی یا دیگر جائز اسباب اختیار کرنا بھی شریعت کا حکم ہے۔ اسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں، بلکہ توکل کا حصہ ہے۔ لہٰذا کسی کی سیکیورٹی دیکھ کر اس کے ایمان پر اعتراض کرنا درست نہیں۔منقول

About