@longchimsang: Cám choè hiển bảo khánh #longchimsang #camhienbaokhanh #camhiepdongnai #camchimchaomaothidau #longchimsang2 #longchimvaphukien #chimchaomao

Casichim
Casichim
Open In TikTok:
Region: VN
Monday 24 June 2024 15:07:51 GMT
18485
81
6
10

Music

Download

Comments

genuine_watch
Yêu cái đẹp :
Quá tốt luôn chị
2024-09-24 13:01:39
0
matliemtin7
Mât liem tin :
Gia bao nhiêu
2024-07-30 07:17:52
0
user2659405188679
Huy tang :
Muốn mua thì thế nào em ơi
2024-09-20 03:40:19
0
74hoang
Hoàng Hiep :
Cám choè lửa
2024-09-21 02:15:19
0
luongvantich11
luongvantich11 :
cám loại 1 bao nhiêu tiền gói vậy shop
2025-12-07 13:15:35
0
luongvantich11
luongvantich11 :
cám chim chòe lửa loại số 1 bao nhiêu tiền gói shop
2025-12-07 13:17:53
0
To see more videos from user @longchimsang, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*حال کا خیال۔۔۔۔۔۔📿🔥* لوگ اس بات پر ایمان رکھتے تو ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخت کی طرف سے کلام فرمایا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ ترجمہ:
*حال کا خیال۔۔۔۔۔۔📿🔥* لوگ اس بات پر ایمان رکھتے تو ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخت کی طرف سے کلام فرمایا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ﴿فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِيَ مِن شَاطِئِ الْوَادِ الْأَيْمَنِ فِي الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ ترجمہ: "پھر جب موسیٰ وہاں پہنچے تو وادی کے دائیں کنارے میں بابرکت جگہ پر ایک درخت کی طرف سے آواز دی گئی: اے موسیٰ! بے شک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا رب۔" (سورۂ القصص: 30) یہاں آواز درخت کی طرف سے آئی لیکن کلام درخت کا نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔ درخت صرف ایک پردہ اور ایک وسیلہ تھا۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آگ کی طرف رخ کیا اور اسی تجلی کے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام فرمایا۔ آگ خدا نہ تھی، درخت خدا نہ تھا، مگر اللہ نے اپنی قدرت سے انہیں اپنے کلام کے ظہور کا ذریعہ بنایا۔ پھر قرآن مجید ایک اور اصول بیان کرتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ﴾ ترجمہ: "کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا کوئی فرشتہ بھیج دے، پھر وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے۔۔بے شک وہ بلند مرتبہ اور بڑی حکمت والا ہے۔" (سورۂ الشوریٰ: 51) اب میرا سوال صرف اتنا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ درخت کو اپنے کلام کا پردہ بنا سکتا ہے، اگر آگ کو اپنی تجلی کا مظہر بنا سکتا ہے تو کیا اس کی قدرت کو کسی ایک مظہر تک محدود کیا جا سکتا ہے؟ پردہ تو پردہ ہے؛ اصل حقیقت اس ذات کی ہے جو پردے کے پیچھے کلام فرما رہی ہے۔ اسی مقام پر بہت سے لوگ حضرت منصور الحلاجؒ کے قول "أنا الحق" کو دیکھتے ہیں تو فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں۔۔۔ لیکن یہی لوگ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ اللہ اپنے کلام کے لیے پردہ اختیار فرماتا ہے۔ اہلِ ظاہر لفظ کو دیکھتے ہیں جبکہ اہلِ معرفت حال کو دیکھتے ہیں صوفیہ کی ایک بڑی جماعت نے منصور کے اس قول کو الوہیت کا دعویٰ نہیں، بلکہ فنا، استغراق اور غلبۂ حال کی کیفیت پر محمول کیا ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ انسان اللہ بن جاتا ہے یا بندہ رب ہو جاتا ہے۔۔۔ رب ہمیشہ رب ہے اور بندہ ہمیشہ بندہ۔ میری عرض صرف یہ ہے کہ اللہ جس چیز کو چاہے اپنے امر اور اپنے کلام کے اظہار کا وسیلہ بنا دے اس کی قدرت پر کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔ پردے بدلتے رہتے ہیں، مگر پردے کے پیچھے بولنے والی ذات ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔چاہے وہ پردہ کچھ بھی ہو سکتا ہے کچھ بھی سمجھنے والے سمجھ جائیں گے۔۔۔۔۔ من تن شدم تو جاں شدی من جاں شدم تو تن شدی۔۔۔ تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری۔۔۔ منیم او یارا منیم۔۔۔ حق موجود 🔥 سدا موجود 🔥 حق علی یا علی۔۔۔۔۔🔥♥️ حق زین یا زین العابدین سرکار ♥️ *از قلم جاوید فقیر چشتی نظامی فقیر در مرتضی فقیر قلندر است من درویش قلند ر منم عاشق حیدر خاک پائے کاملین نگاہ کاملین❤️‍🔥🙇🏻‍♂️* •┄┅┅❂❀❂❀❂┅┅┈•

About