@user53444474205265:

Said A.L.E.B
Said A.L.E.B
Open In TikTok:
Region: MA
Saturday 06 July 2024 13:53:53 GMT
92
15
4
16

Music

Download

Comments

hd78832
HD :
❤️
2024-07-06 16:59:16
1
spider6491
Spider :
🥰🥰
2024-07-06 22:28:29
1
kamalbahy
Kamal bahy :
🥰🥰🥰
2024-07-07 08:45:19
0
aycha.hatimi
Aycha Hatimi😍 :
🥰🥰🥰
2024-07-07 14:23:02
0
To see more videos from user @user53444474205265, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عشق، وہ راز ہے جو ہر آنکھ کو دکھائی نہیں دیتا عشق بدصورت نظروں سے پوشیدہ اور حقیر دلوں کی سماعت سے دور ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ عشق کوئی چھپی ہوئی چیز ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے دیکھنے کے لیے آنکھ نہیں، دل کی بصیرت چاہیے، اور اسے سننے کے لیے کان نہیں، باطن کی پاکیزگی چاہیے۔ عشق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کو اپنی خواہش سے نہیں، محبوب کی رضا سے پہچاننے لگے۔ جب محبت نفس کی طلب سے بلند ہو کر اللہ کی رضا کا وسیلہ بن جائے تو وہ صرف جذبہ نہیں رہتی، عبادت کی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی حلاوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں، اور جو کسی سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرے، وہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 43a یہی وہ نکتہ ہے جہاں صوفیانہ عشق کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ عشق کا ذائقہ زبان سے نہیں، دل سے چکھا جاتا ہے۔ دنیا کی زبانیں اس کا ذکر کر سکتی ہیں، مگر اس کی حلاوت اسی دل کو ملتی ہے جو اپنے اندر سے کینہ، تکبر، حسد اور خود غرضی کو نکالنے کی کوشش کرے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک اور مقام پر فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر دل سے رضا اختیار کی، اس نے ایمان کا ذائقہ پا لیا۔ صحیح مسلم، حدیث 34 پس عشق کی پہلی نشانی شور نہیں، رضا ہے۔ دوسری نشانی دعویٰ نہیں، وفا ہے۔ تیسری نشانی خواہش نہیں، اطاعت ہے۔ اور چوتھی نشانی یہ ہے کہ محبوب کی رضا اپنی خواہش پر مقدم ہو جائے۔ اسی لیے ہر شخص عشق کا نام تو لے سکتا ہے، مگر ہر شخص اس کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا۔ جس دل پر نفس کی گرد جمی ہو، وہاں عشق کی روشنی کیسے اترے؟ جس زبان پر دوسروں کی تحقیر ہو، وہ محبت کی مٹھاس کو کیسے پہچانے؟ اور جس نگاہ میں صرف ظاہر ہو، وہ باطن کے حسن کو کہاں دیکھ سکے؟ حقیقی عشق انسان کو دوسروں سے بڑا نہیں بناتا، بلکہ اسے اپنے نفس کے سامنے چھوٹا کر دیتا ہے۔ وہ انسان کو نرم کرتا ہے، عاجز کرتا ہے، معاف کرنا سکھاتا ہے، اور دل میں مخلوق کے لیے خیر پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے اہل دل کہتے ہیں کہ عشق کی پہچان محبوب کا نام لینے میں نہیں، بلکہ محبوب کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے میں ہے۔ اور شاید اسی راز کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے؟ ان کے لیے اللہ کی طرف سے خاص سایہ ہوگا۔ صحیح مسلم، حدیث 2566 لہٰذا عشق بدصورت نظروں سے واقعی پوشیدہ ہے، مگر اس لیے نہیں کہ عشق کمزور ہے۔ عشق تو اتنا پاک ہے کہ ناپاک نگاہ اسے پہچان نہیں سکتی۔ عشق شیطانی زبان کا ذائقہ نہیں، کیونکہ شیطان کی زبان میں خود پسندی ہے اور عشق کی زبان میں فنا۔ وہاں
عشق، وہ راز ہے جو ہر آنکھ کو دکھائی نہیں دیتا عشق بدصورت نظروں سے پوشیدہ اور حقیر دلوں کی سماعت سے دور ہوتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ عشق کوئی چھپی ہوئی چیز ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے دیکھنے کے لیے آنکھ نہیں، دل کی بصیرت چاہیے، اور اسے سننے کے لیے کان نہیں، باطن کی پاکیزگی چاہیے۔ عشق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کو اپنی خواہش سے نہیں، محبوب کی رضا سے پہچاننے لگے۔ جب محبت نفس کی طلب سے بلند ہو کر اللہ کی رضا کا وسیلہ بن جائے تو وہ صرف جذبہ نہیں رہتی، عبادت کی کیفیت اختیار کر لیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی حلاوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں، اور جو کسی سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرے، وہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے۔ صحیح مسلم، حدیث 43a یہی وہ نکتہ ہے جہاں صوفیانہ عشق کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ عشق کا ذائقہ زبان سے نہیں، دل سے چکھا جاتا ہے۔ دنیا کی زبانیں اس کا ذکر کر سکتی ہیں، مگر اس کی حلاوت اسی دل کو ملتی ہے جو اپنے اندر سے کینہ، تکبر، حسد اور خود غرضی کو نکالنے کی کوشش کرے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک اور مقام پر فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان کر دل سے رضا اختیار کی، اس نے ایمان کا ذائقہ پا لیا۔ صحیح مسلم، حدیث 34 پس عشق کی پہلی نشانی شور نہیں، رضا ہے۔ دوسری نشانی دعویٰ نہیں، وفا ہے۔ تیسری نشانی خواہش نہیں، اطاعت ہے۔ اور چوتھی نشانی یہ ہے کہ محبوب کی رضا اپنی خواہش پر مقدم ہو جائے۔ اسی لیے ہر شخص عشق کا نام تو لے سکتا ہے، مگر ہر شخص اس کا ذائقہ نہیں چکھ سکتا۔ جس دل پر نفس کی گرد جمی ہو، وہاں عشق کی روشنی کیسے اترے؟ جس زبان پر دوسروں کی تحقیر ہو، وہ محبت کی مٹھاس کو کیسے پہچانے؟ اور جس نگاہ میں صرف ظاہر ہو، وہ باطن کے حسن کو کہاں دیکھ سکے؟ حقیقی عشق انسان کو دوسروں سے بڑا نہیں بناتا، بلکہ اسے اپنے نفس کے سامنے چھوٹا کر دیتا ہے۔ وہ انسان کو نرم کرتا ہے، عاجز کرتا ہے، معاف کرنا سکھاتا ہے، اور دل میں مخلوق کے لیے خیر پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے اہل دل کہتے ہیں کہ عشق کی پہچان محبوب کا نام لینے میں نہیں، بلکہ محبوب کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے میں ہے۔ اور شاید اسی راز کی طرف حدیث اشارہ کرتی ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے؟ ان کے لیے اللہ کی طرف سے خاص سایہ ہوگا۔ صحیح مسلم، حدیث 2566 لہٰذا عشق بدصورت نظروں سے واقعی پوشیدہ ہے، مگر اس لیے نہیں کہ عشق کمزور ہے۔ عشق تو اتنا پاک ہے کہ ناپاک نگاہ اسے پہچان نہیں سکتی۔ عشق شیطانی زبان کا ذائقہ نہیں، کیونکہ شیطان کی زبان میں خود پسندی ہے اور عشق کی زبان میں فنا۔ وہاں "میں" کم ہوتی ہے اور "تو" باقی رہتا ہے۔ عشق وہ مقام ہے جہاں دل محبوب کو پانے سے پہلے خود کو کھونا سیکھتا ہے، اور جب خودی کی دیوار گرتی ہے تو محبت کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔

About