@itstamhn: luyện phỏng vấn deloitte sẽ như thế nào

tamhn
tamhn
Open In TikTok:
Region: CA
Wednesday 31 July 2024 05:26:33 GMT
10698
137
5
6

Music

Download

Comments

mayystudies
mayystudies :
Theo anh nên đi Hàn hay các nước ở Châu Âu như Phần Lan ạ
2024-08-01 03:13:09
2
liuhui928
Liuhui :
😁
2025-05-18 03:35:14
0
hiunguyxn25
hiunguyxn :
anh nghĩ sao về ngành đầu tư tài chính ạ? em tính kết hợp học cfa ạ
2024-07-31 15:39:48
0
To see more videos from user @itstamhn, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جو شخص عشقِ الٰہی اختیار کرتا ہے، وہ ساری کائنات پر حکمران ہو جاتا ہے، اور انسان کائنات پر حکمران نہیں ہو سکتا جب تک وہ زمان و مکان پر حکمران نہ ہو۔ صوفیائے کرام کے نزدیک اس جملے کا ظاہری مطلب دنیاوی سلطنت نہیں، بلکہ باطنی غلبہ ہے۔ جب بندہ اپنے نفس، خواہشات اور انا کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے تو اس کا دل دنیا کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ پھر وہ مخلوق کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ صرف خالق کا طالب بنتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے دل پر عشقِ الٰہی کی حکومت قائم ہو جاتی ہے، اور جس دل پر اللہ کی حکومت ہو جائے، دنیا کی حکومتیں اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جو شخص عشقِ الٰہی اختیار کرتا ہے، وہ ساری کائنات پر حکمران ہو جاتا ہے، اور انسان کائنات پر حکمران نہیں ہو سکتا جب تک وہ زمان و مکان پر حکمران نہ ہو۔ صوفیائے کرام کے نزدیک اس جملے کا ظاہری مطلب دنیاوی سلطنت نہیں، بلکہ باطنی غلبہ ہے۔ جب بندہ اپنے نفس، خواہشات اور انا کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دیتا ہے تو اس کا دل دنیا کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔ پھر وہ مخلوق کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ صرف خالق کا طالب بنتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے دل پر عشقِ الٰہی کی حکومت قائم ہو جاتی ہے، اور جس دل پر اللہ کی حکومت ہو جائے، دنیا کی حکومتیں اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ" (یونس: 62) یعنی بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دل کو اللہ کے حوالے کر دیا، اس لیے زمانے کے نشیب و فراز ان کے باطن کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ" (الأعراف: 128) زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ صوفیاء اس آیت کی باطنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اصل وراثت زمین کی نہیں، بلکہ دلوں کی ہے۔ جو اللہ کا ہو جاتا ہے، اللہ لوگوں کے دل اس کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں آتا ہے: "میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں..." (صحیح بخاری) یہ قرب ہی وہ مقام ہے جہاں بندے کی خواہش اللہ کی رضا میں فنا ہو جاتی ہے۔ یہی حقیقی آزادی ہے۔ البتہ "زمان و مکان پر حکمران" ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان واقعی وقت یا کائنات کے قوانین پر اختیار حاصل کر لیتا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق زمان و مکان کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ صوفیانہ زبان میں اس سے مراد یہ ہے کہ عارف اپنے ماضی کے غم، مستقبل کی فکر اور دنیا کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ ہر لمحہ اللہ کی حضوری میں جیتا ہے، اس لیے وقت اسے نہیں چلاتا، بلکہ وہ ہر وقت کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حضرت مولانا رومیؒ نے فرمایا: "جس نے اپنے نفس کو فتح کر لیا، اس نے ایسی سلطنت پائی جس کے سامنے دنیا کی بادشاہیاں بھی ہیچ ہیں۔" پس عشقِ الٰہی انسان کو دنیا کا بادشاہ نہیں بناتا، بلکہ اپنے نفس کا فاتح بنا دیتا ہے، اور یہی سب سے بڑی بادشاہی ہے۔ جب دل اللہ کے نور سے آباد ہو جائے تو کائنات کی ہر چیز اس بندے کو اپنے رب کی نشانی دکھائی دیتی ہے، اور وہ بندہ ظاہری اقتدار نہیں، بلکہ قربِ الٰہی کی لازوال دولت حاصل کر لیتا ہے۔ #sufism #sufilines #goviral #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight

About