@reyyyyyy_25:

re
re
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 21 August 2024 06:34:33 GMT
1366
132
0
7

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @reyyyyyy_25, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مجھے زندگی میں ہمیشہ سے احساس جرم میں مبتلا کردیا گیا ہے. اگرچہ میں اک معصوم بچی تھی اور شرارتوں کی حد تک میں نے کبھی ایسی شرارت نہیں کی کہ جس سے کسی کو نقصان ہو یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو. میں نے ہمیشہ سامنے والے سے محبت کی ہے اور کبھی بھی کسی سے نفرت کرنے کا خیال ذہن میں نہیں لایا... لیکن پتہ نہیں کیوں ہرکوئ مجھ سے ایسا برتاؤ کرتا رہا اور کرتے ہیں کہ جس سے مجھے اپنا اپ اک مجرم سا لگتا ہے... مجھے ان کے رویہ سے ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ شایدمجھ سے ایسا کوئ فعل سرزد ہوا ہے کہ کہ وہ ناقابل تلافی ہے... مجھ سے ایسا برتاؤ کیا گیا ہے کہ جس سے مجھ میں احساس کمتری پروان کرتی گئ اور احساس جرم تلے دبتی چلی گئی..۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں ہر کسی سے اچھے تعلقات استوار کرسکو لیکن افسوس یہ رہا ہے کہ یہ کاوش صرف میری ہی طرف سے تھی... انہوں نے ایسا کوئ فعل نہیں کیا کہ جس سے میری ہمت ہی بندھائ جا سکے... مجھے میری زندگی میں ہمیشہ نیچھا دکھانے کی کوشش کی اور یہ احساس لوگ دلاتے رہے ہیں کہ جس سے مجھ پر یہ ظاہر ہوتا رہا ہے کہ میری کوئ حیثیت نہیں... کیا مجھ جیسے لوگوں کا ہونا نا ہونا کوئ معنی نہیں رکھتی...؟ کیا ہم جیسو پر یزداں کرم تک نہیں کرتا...؟ اگر خدا ایسے حالات کا ذمہ دار ہے اوروہ میری اذمائش لے رہا ہیں تو... تو جانے یہ کیسی اذمائش ہیں جو مجھے اندر سے ختم کرنے کو چلا ہے... کیا ہم جیسو کے لۓ آہ بکا اور اپنے کمرے کے اک گوشہ میں بیٹھ کر سسکیاں لینے کے لۓ ہی پالا گیا ہے...؟ اور جو کہتے ہیں کہ مذہب سکوں سے بھرا ہے... تو یہ کیسا سکوں ہیں کہ مجھے راس تک نہ آرہا تھا،جب میں نے اسے تھامے رکھا تھا... کیا اس سے میں خود کو مرا ہوا سمجھوں... میں خود کو یہ سمجھوں کہ اب میری زندگی کا کوئ مقصد ہی نہیں...اور مجھے چلے جانا ہی چاہئے... از : محیبہ زینب
مجھے زندگی میں ہمیشہ سے احساس جرم میں مبتلا کردیا گیا ہے. اگرچہ میں اک معصوم بچی تھی اور شرارتوں کی حد تک میں نے کبھی ایسی شرارت نہیں کی کہ جس سے کسی کو نقصان ہو یا تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو. میں نے ہمیشہ سامنے والے سے محبت کی ہے اور کبھی بھی کسی سے نفرت کرنے کا خیال ذہن میں نہیں لایا... لیکن پتہ نہیں کیوں ہرکوئ مجھ سے ایسا برتاؤ کرتا رہا اور کرتے ہیں کہ جس سے مجھے اپنا اپ اک مجرم سا لگتا ہے... مجھے ان کے رویہ سے ایسا لگ رہا ہوتا ہے کہ شایدمجھ سے ایسا کوئ فعل سرزد ہوا ہے کہ کہ وہ ناقابل تلافی ہے... مجھ سے ایسا برتاؤ کیا گیا ہے کہ جس سے مجھ میں احساس کمتری پروان کرتی گئ اور احساس جرم تلے دبتی چلی گئی..۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ میں ہر کسی سے اچھے تعلقات استوار کرسکو لیکن افسوس یہ رہا ہے کہ یہ کاوش صرف میری ہی طرف سے تھی... انہوں نے ایسا کوئ فعل نہیں کیا کہ جس سے میری ہمت ہی بندھائ جا سکے... مجھے میری زندگی میں ہمیشہ نیچھا دکھانے کی کوشش کی اور یہ احساس لوگ دلاتے رہے ہیں کہ جس سے مجھ پر یہ ظاہر ہوتا رہا ہے کہ میری کوئ حیثیت نہیں... کیا مجھ جیسے لوگوں کا ہونا نا ہونا کوئ معنی نہیں رکھتی...؟ کیا ہم جیسو پر یزداں کرم تک نہیں کرتا...؟ اگر خدا ایسے حالات کا ذمہ دار ہے اوروہ میری اذمائش لے رہا ہیں تو... تو جانے یہ کیسی اذمائش ہیں جو مجھے اندر سے ختم کرنے کو چلا ہے... کیا ہم جیسو کے لۓ آہ بکا اور اپنے کمرے کے اک گوشہ میں بیٹھ کر سسکیاں لینے کے لۓ ہی پالا گیا ہے...؟ اور جو کہتے ہیں کہ مذہب سکوں سے بھرا ہے... تو یہ کیسا سکوں ہیں کہ مجھے راس تک نہ آرہا تھا،جب میں نے اسے تھامے رکھا تھا... کیا اس سے میں خود کو مرا ہوا سمجھوں... میں خود کو یہ سمجھوں کہ اب میری زندگی کا کوئ مقصد ہی نہیں...اور مجھے چلے جانا ہی چاہئے... از : محیبہ زینب

About