@wwwwjuri: Aぇ!group #aぇgroup #正門良規 #末澤誠也 #草間リチャード敬太 #小島健 #佐野晶哉

Juri☆
Juri☆
Open In TikTok:
Region: JP
Friday 20 September 2024 09:51:38 GMT
6188
180
5
2

Music

Download

Comments

user21996810622151
りお :
めいっぱい
2024-09-20 09:58:03
3
user21996810622151
りお :
コラボ
2024-09-20 09:58:07
3
user21996810622151
りお :
かんさい
2024-09-20 09:58:14
3
user21996810622151
りお :
なにわ男子
2024-09-20 09:58:20
3
user21605278371107
かにゃん :
🥰
2025-12-20 14:40:52
0
To see more videos from user @wwwwjuri, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

زندگی میں دو باتیں سب سے زیادہ مشکل ہوتی ہیں۔ ایک کسی اجنبی سے پہلی بار بات شروع کرنا، اور دوسری اس شخص سے “خدا حافظ” کہنا جس سے دل کی گہرائیوں میں محبت ہو۔ اجنبی سے بات کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک جھجک ہوتی ہے، ایک خوف ہوتا ہے کہ کہیں بات غلط نہ ہو جائے، کہیں سامنے والا ہمیں رد نہ کر دے، کہیں ہماری سادگی یا انداز مذاق نہ بن جائے۔ ہر لفظ سوچ کر نکلتا ہے، ہر جملہ احتیاط سے ادا ہوتا ہے، اور دل کے اندر ایک ہلکی سی گھبراہٹ ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی اجنبیت ختم ہو جاتی ہے، اور بات چیت ایک عادت بن جاتی ہے، پھر تعلق جنم لیتا ہے، اور وہی اجنبی کسی دن بہت قریب آ جاتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل وہ لمحہ ہوتا ہے جب کسی اپنے کو الوداع کہنا پڑتا ہے۔ وہ شخص جو کبھی اجنبی تھا، اب دل کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر بات ادھوری لگتی ہے، اس کی خاموشی بھی محسوس ہوتی ہے، اور اس کی موجودگی زندگی کا سکون بن جاتی ہے۔ پھر اچانک ایک دن وہی رشتہ، وہی قربت، وہی باتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ “خدا حافظ” صرف ایک لفظ نہیں ہوتا، یہ ایک ٹوٹتا ہوا احساس ہوتا ہے۔ اس میں یادیں بھی ہوتی ہیں، امیدیں بھی ہوتی ہیں، اور ایک خاموش سا درد بھی ہوتا ہے۔ انسان چاہ کر بھی اس لمحے کو آسان نہیں بنا سکتا، کیونکہ دل پہلے ہی اس جدائی کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہوتا ہے۔ اجنبی سے بات کرنا مشکل ہے، مگر ممکن ہے۔ لیکن اپنے سے جدا ہونا مشکل نہیں، ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ کیونکہ اجنبی صرف ایک آغاز ہوتا ہے، اور “خدا حافظ” اکثر ایک مکمل کہانی کا اختتام ہوتا ہے۔ زندگی شاید اسی لیے خوبصورت بھی ہے اور تکلیف دہ بھی کہ یہ ہمیں لوگوں سے ملاتی بھی ہے، اور پھر انہی لوگوں سے جدا ہونا بھی سکھاتی ہے۔
زندگی میں دو باتیں سب سے زیادہ مشکل ہوتی ہیں۔ ایک کسی اجنبی سے پہلی بار بات شروع کرنا، اور دوسری اس شخص سے “خدا حافظ” کہنا جس سے دل کی گہرائیوں میں محبت ہو۔ اجنبی سے بات کرنا اس لیے مشکل ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک جھجک ہوتی ہے، ایک خوف ہوتا ہے کہ کہیں بات غلط نہ ہو جائے، کہیں سامنے والا ہمیں رد نہ کر دے، کہیں ہماری سادگی یا انداز مذاق نہ بن جائے۔ ہر لفظ سوچ کر نکلتا ہے، ہر جملہ احتیاط سے ادا ہوتا ہے، اور دل کے اندر ایک ہلکی سی گھبراہٹ ساتھ چل رہی ہوتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ یہی اجنبیت ختم ہو جاتی ہے، اور بات چیت ایک عادت بن جاتی ہے، پھر تعلق جنم لیتا ہے، اور وہی اجنبی کسی دن بہت قریب آ جاتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل وہ لمحہ ہوتا ہے جب کسی اپنے کو الوداع کہنا پڑتا ہے۔ وہ شخص جو کبھی اجنبی تھا، اب دل کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر بات ادھوری لگتی ہے، اس کی خاموشی بھی محسوس ہوتی ہے، اور اس کی موجودگی زندگی کا سکون بن جاتی ہے۔ پھر اچانک ایک دن وہی رشتہ، وہی قربت، وہی باتیں ختم ہونے لگتی ہیں۔ “خدا حافظ” صرف ایک لفظ نہیں ہوتا، یہ ایک ٹوٹتا ہوا احساس ہوتا ہے۔ اس میں یادیں بھی ہوتی ہیں، امیدیں بھی ہوتی ہیں، اور ایک خاموش سا درد بھی ہوتا ہے۔ انسان چاہ کر بھی اس لمحے کو آسان نہیں بنا سکتا، کیونکہ دل پہلے ہی اس جدائی کو قبول کرنے سے انکار کر رہا ہوتا ہے۔ اجنبی سے بات کرنا مشکل ہے، مگر ممکن ہے۔ لیکن اپنے سے جدا ہونا مشکل نہیں، ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ کیونکہ اجنبی صرف ایک آغاز ہوتا ہے، اور “خدا حافظ” اکثر ایک مکمل کہانی کا اختتام ہوتا ہے۔ زندگی شاید اسی لیے خوبصورت بھی ہے اور تکلیف دہ بھی کہ یہ ہمیں لوگوں سے ملاتی بھی ہے، اور پھر انہی لوگوں سے جدا ہونا بھی سکھاتی ہے۔

About