@bodycamcopsfft: she crashes then fled #creatorsearchinsights #copsoftiktok #bikevscops #policeofficer #part2ofthevideoijustwatched #carcrash #fyppppppppppppppppppppppp #fypage #part2 #taser

Bodycamcops
Bodycamcops
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 19 October 2024 19:09:22 GMT
7577
135
5
4

Music

Download

Comments

freddygrom
freddy :
Democrat !
2024-10-26 12:17:52
1
amierickson810
amierickson810 :
take a chill pill
2024-10-30 04:28:29
0
hervelebrun6
Herve LeBrun :
white girl white cops 🚔🚓 no racist white people same shit
2024-10-24 11:48:46
0
farezgeneralcontruction1
FAREZGENERALCONSTRUCTION :
😁😁😁😂😂😂😂
2024-10-19 19:23:26
0
abdulwarahiman
👑Panjshir🥊Boy👑 :
😂
2024-11-03 19:07:21
0
To see more videos from user @bodycamcopsfft, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

انیس سال تک میں نے اپنی بہن کے بیٹے کو پالا… پھر اُس کے کانووکیشن پر ایک کیک نے مجھے اندر سے توڑ دیا۔ میرا نام مائرہ ہے۔ لوگ مجھے دانیال کی خالہ کہتے ہیں۔ دانیال کی پیدائش کے وقت میری عمر 24 سال تھی۔ میری بڑی بہن نادیہ کی شادی ٹوٹ چکی تھی اور وہ ذہنی طور پر بہت پریشان تھی۔ ایک رات اُس نے نومولود دانیال کو میری گود میں دیا اور کہا: “مائرہ، ذرا اسے سنبھال لو…” اگلی صبح وہ گھر چھوڑ کر جا چکی تھی۔ صرف ایک پیغام چھوڑا: “دانیال کا خیال رکھنا۔” سب نے کہا تھا، “چند دن کی بات ہے، نادیہ واپس آ جائے گی۔” مگر چند دن، مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔ میں نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی، نوکری کی، دانیال کی فیسیں دیں، راتوں کو اُس کی بیماری میں جاگتی رہی۔ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قدم پر اُس کے ساتھ رہی۔ وہ مجھے ہمیشہ “خالہ” کہتا تھا۔ ایک دن بچپن میں اُس نے پہلی بار مجھے “ماما” کہا تو امی نے فوراً اسے سمجھایا: “یہ خالہ ہیں، تمہاری امی نادیہ ہے۔” میں مسکرا دی… مگر اُس رات چھپ کر بہت روئی۔ انیس سال بعد دانیال کا کانووکیشن تھا۔ میں نے نیا سوٹ پہنا اور فخر سے اُسے گاؤن میں دیکھا۔ اچانک ہال کے دروازے پر میری نظر پڑی۔ نادیہ واپس آ چکی تھی۔ انیس سال بعد۔ اُس کے ہاتھ میں ایک کیک تھا، جس پر لکھا تھا: “دانیال کو اُس کی اصل ماں کی طرف سے مبارکباد” میں خاموشی سے بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد دانیال کا نام گولڈ میڈل کے لیے پکارا گیا۔ وہ اسٹیج پر گیا، میڈل لیا اور مائیک کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر اُس نے میری طرف دیکھا اور کہا: “میری کامیابی کے پیچھے ایک ایسی عورت ہے جس نے اپنی زندگی میرے لیے روک دی۔” ہال خاموش ہو گیا۔ “میں انہیں خالہ کہتا ہوں، کیونکہ مجھے یہی لفظ سکھایا گیا تھا۔ لیکن میرے لیے ماں وہ ہے جو بچے کے مشکل وقت میں اُس کے ساتھ کھڑی رہے۔” پھر اُس نے جیب سے اپنا بچپن کا پرانا زرد کمبل نکالا۔ “یہ کمبل میری خالہ نے سنبھال کر رکھا۔ جیسے انہوں نے میری پوری زندگی سنبھال کر رکھی۔” اُس کی آواز بھرّا گئی۔ “آج میں سب کے سامنے کہنا چاہتا ہوں… میری ڈگری مائرہ یوسف کے نام ہے۔ میری خالہ کے نام… میری ماں کے نام۔” پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ نادیہ خاموش کھڑی تھی۔ بعد میں اُس نے دانیال سے کہا: “بیٹا، میں تمہاری ماں ہوں۔” دانیال نے احترام سے جواب دیا: “آپ میری پیدائش کا حصہ ہیں… لیکن مائرہ میری زندگی کا حصہ ہیں۔” کیک وہیں پڑا تھا۔ “اصل ماں” کے الفاظ کریم میں دھندلے ہونے لگے تھے۔ گھر آ کر دانیال نے اپنی ڈگری میرے کمرے میں رکھ دی۔ میں نے کہا: “یہ اپنے کمرے میں رکھو۔” وہ مسکرایا: “میرا کمرہ بھی تو آپ نے ہی بنایا ہے۔” پھر اُس نے مجھے دیکھا اور پہلی بار، پورے شعور کے ساتھ کہا: “امی…” انیس سال پہلے ایک بچہ میری گود میں رکھا گیا تھا۔ لوگوں نے کہا تھا: “چند دن سنبھال لو۔” مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ چند دن… میری پوری زندگی بن جائیں گے۔
انیس سال تک میں نے اپنی بہن کے بیٹے کو پالا… پھر اُس کے کانووکیشن پر ایک کیک نے مجھے اندر سے توڑ دیا۔ میرا نام مائرہ ہے۔ لوگ مجھے دانیال کی خالہ کہتے ہیں۔ دانیال کی پیدائش کے وقت میری عمر 24 سال تھی۔ میری بڑی بہن نادیہ کی شادی ٹوٹ چکی تھی اور وہ ذہنی طور پر بہت پریشان تھی۔ ایک رات اُس نے نومولود دانیال کو میری گود میں دیا اور کہا: “مائرہ، ذرا اسے سنبھال لو…” اگلی صبح وہ گھر چھوڑ کر جا چکی تھی۔ صرف ایک پیغام چھوڑا: “دانیال کا خیال رکھنا۔” سب نے کہا تھا، “چند دن کی بات ہے، نادیہ واپس آ جائے گی۔” مگر چند دن، مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل گئے۔ میں نے اپنی پڑھائی چھوڑ دی، نوکری کی، دانیال کی فیسیں دیں، راتوں کو اُس کی بیماری میں جاگتی رہی۔ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک ہر قدم پر اُس کے ساتھ رہی۔ وہ مجھے ہمیشہ “خالہ” کہتا تھا۔ ایک دن بچپن میں اُس نے پہلی بار مجھے “ماما” کہا تو امی نے فوراً اسے سمجھایا: “یہ خالہ ہیں، تمہاری امی نادیہ ہے۔” میں مسکرا دی… مگر اُس رات چھپ کر بہت روئی۔ انیس سال بعد دانیال کا کانووکیشن تھا۔ میں نے نیا سوٹ پہنا اور فخر سے اُسے گاؤن میں دیکھا۔ اچانک ہال کے دروازے پر میری نظر پڑی۔ نادیہ واپس آ چکی تھی۔ انیس سال بعد۔ اُس کے ہاتھ میں ایک کیک تھا، جس پر لکھا تھا: “دانیال کو اُس کی اصل ماں کی طرف سے مبارکباد” میں خاموشی سے بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد دانیال کا نام گولڈ میڈل کے لیے پکارا گیا۔ وہ اسٹیج پر گیا، میڈل لیا اور مائیک کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر اُس نے میری طرف دیکھا اور کہا: “میری کامیابی کے پیچھے ایک ایسی عورت ہے جس نے اپنی زندگی میرے لیے روک دی۔” ہال خاموش ہو گیا۔ “میں انہیں خالہ کہتا ہوں، کیونکہ مجھے یہی لفظ سکھایا گیا تھا۔ لیکن میرے لیے ماں وہ ہے جو بچے کے مشکل وقت میں اُس کے ساتھ کھڑی رہے۔” پھر اُس نے جیب سے اپنا بچپن کا پرانا زرد کمبل نکالا۔ “یہ کمبل میری خالہ نے سنبھال کر رکھا۔ جیسے انہوں نے میری پوری زندگی سنبھال کر رکھی۔” اُس کی آواز بھرّا گئی۔ “آج میں سب کے سامنے کہنا چاہتا ہوں… میری ڈگری مائرہ یوسف کے نام ہے۔ میری خالہ کے نام… میری ماں کے نام۔” پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ نادیہ خاموش کھڑی تھی۔ بعد میں اُس نے دانیال سے کہا: “بیٹا، میں تمہاری ماں ہوں۔” دانیال نے احترام سے جواب دیا: “آپ میری پیدائش کا حصہ ہیں… لیکن مائرہ میری زندگی کا حصہ ہیں۔” کیک وہیں پڑا تھا۔ “اصل ماں” کے الفاظ کریم میں دھندلے ہونے لگے تھے۔ گھر آ کر دانیال نے اپنی ڈگری میرے کمرے میں رکھ دی۔ میں نے کہا: “یہ اپنے کمرے میں رکھو۔” وہ مسکرایا: “میرا کمرہ بھی تو آپ نے ہی بنایا ہے۔” پھر اُس نے مجھے دیکھا اور پہلی بار، پورے شعور کے ساتھ کہا: “امی…” انیس سال پہلے ایک بچہ میری گود میں رکھا گیا تھا۔ لوگوں نے کہا تھا: “چند دن سنبھال لو۔” مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ چند دن… میری پوری زندگی بن جائیں گے۔

About