@ninfa.japah:

Ninfa Japa
Ninfa Japa
Open In TikTok:
Region: BR
Wednesday 13 November 2024 01:25:16 GMT
16111
147
3
7

Music

Download

Comments

drac_luck69
MK FF :
🥰🥰🥰
2024-11-16 07:21:50
0
victorpietro41
victorpietro41 :
😁😁😁
2024-11-17 05:37:13
0
deadznx
Deadznx :
Só joga no Google https://t.me/graph_dex_bot?start=6284547385 ...
2024-11-17 07:46:30
0
To see more videos from user @ninfa.japah, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

31 مارچ 2026 کو مردان کی تحصیل رستم کے علاقے ننگ آباد پلوڈھیری میں ماربل کی کان پر اچانک پہاڑ سے مٹی اور بھاری پتھروں کا تودہ آ گرا۔ جس کے نتیجے میں کان کولیپس کر گئ اور متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے اور کئی جان کی بازی ہار گئے۔ انہی مزدوروں میں ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے عبدالوہاب بھی تھے، جن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ ریسکیو اور تلاش کے دوران ایک ناقابلِ شناخت لاش برآمد ہوئی۔ عبدالوہاب کے اہلِ خانہ نے کپڑوں کی بنیاد پر اسے عبدالوہاب سمجھ لیا۔ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، تدفین بھی کر دی گئی اور خاندان نے اپنے بیٹے کی موت کا سوگ شروع کر دیا۔ لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ عبدالوہاب دراصل کان کے ملبے اور پتھروں کے درمیان زندہ پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ مسلسل 17 دن وہ کسی باقاعدہ خوراک کے بغیر رہے اور ان کے مطابق بارش کا پانی ان کی زندگی کا واحد سہارا بنتا رہا۔ شدید اندھیرے، بھوک اور باہر کی دنیا سے مکمل رابطہ منقطع ہونے کے باوجود انہیں امید تھی کہ وہ زندہ باہر نکلیں گے۔ 16 اپریل کو مسلسل کھدائی کے دوران مزدور اور ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا رہے تھے کہ اچانک اندر سے انسانی آواز سنائی دی—عبدالوہاب زندہ تھے اور باہر نکالنے کے لیے پکار رہے تھے۔ آواز سنتے ہی بھاری مشینری روک دی گئی تاکہ انہیں نقصان نہ پہنچے۔ وہاں موجود مزدوروں نے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا شروع کیا اور بالآخر 17 دن بعد عبدالوہاب کو زندہ باہر نکال لیا گیا۔ انہیں فوری طور پر مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔ جس شخص کا خاندان جنازہ پڑھ چکا تھا، جسے دفنا کر سوگ منا چکا تھا، وہ 17 دن بعد اسی کان کے ملبے سے زندہ واپس آ گیا۔ بعد میں حکام نے اس شخص کی اصل شناخت معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کیں جس کی لاش کو غلطی سے عبدالوہاب سمجھ کر دفن کیا گیا تھا۔ نمازِ جنازہ اور باقاعدہ تدفین ہونے کی تصدیق بھی رپورٹس سے ہوتی ہے؛ یعنی صرف قبر نہیں کھودی گئی تھی بلکہ ایک دوسری ناقابلِ شناخت لاش کو عبدالوہاب سمجھ کر دفن بھی کر دیا گیا تھا۔
31 مارچ 2026 کو مردان کی تحصیل رستم کے علاقے ننگ آباد پلوڈھیری میں ماربل کی کان پر اچانک پہاڑ سے مٹی اور بھاری پتھروں کا تودہ آ گرا۔ جس کے نتیجے میں کان کولیپس کر گئ اور متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے اور کئی جان کی بازی ہار گئے۔ انہی مزدوروں میں ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے عبدالوہاب بھی تھے، جن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ ریسکیو اور تلاش کے دوران ایک ناقابلِ شناخت لاش برآمد ہوئی۔ عبدالوہاب کے اہلِ خانہ نے کپڑوں کی بنیاد پر اسے عبدالوہاب سمجھ لیا۔ ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، تدفین بھی کر دی گئی اور خاندان نے اپنے بیٹے کی موت کا سوگ شروع کر دیا۔ لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ عبدالوہاب دراصل کان کے ملبے اور پتھروں کے درمیان زندہ پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ مسلسل 17 دن وہ کسی باقاعدہ خوراک کے بغیر رہے اور ان کے مطابق بارش کا پانی ان کی زندگی کا واحد سہارا بنتا رہا۔ شدید اندھیرے، بھوک اور باہر کی دنیا سے مکمل رابطہ منقطع ہونے کے باوجود انہیں امید تھی کہ وہ زندہ باہر نکلیں گے۔ 16 اپریل کو مسلسل کھدائی کے دوران مزدور اور ریسکیو اہلکار ملبہ ہٹا رہے تھے کہ اچانک اندر سے انسانی آواز سنائی دی—عبدالوہاب زندہ تھے اور باہر نکالنے کے لیے پکار رہے تھے۔ آواز سنتے ہی بھاری مشینری روک دی گئی تاکہ انہیں نقصان نہ پہنچے۔ وہاں موجود مزدوروں نے ہاتھوں سے ملبہ ہٹانا شروع کیا اور بالآخر 17 دن بعد عبدالوہاب کو زندہ باہر نکال لیا گیا۔ انہیں فوری طور پر مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا۔ جس شخص کا خاندان جنازہ پڑھ چکا تھا، جسے دفنا کر سوگ منا چکا تھا، وہ 17 دن بعد اسی کان کے ملبے سے زندہ واپس آ گیا۔ بعد میں حکام نے اس شخص کی اصل شناخت معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کیں جس کی لاش کو غلطی سے عبدالوہاب سمجھ کر دفن کیا گیا تھا۔ نمازِ جنازہ اور باقاعدہ تدفین ہونے کی تصدیق بھی رپورٹس سے ہوتی ہے؛ یعنی صرف قبر نہیں کھودی گئی تھی بلکہ ایک دوسری ناقابلِ شناخت لاش کو عبدالوہاب سمجھ کر دفن بھی کر دیا گیا تھا۔

About