Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@amma1955719: #CapCut
༄𝔅𝔩𝔞𝔠𝔨᭄𝕼𝖚𝖊𝖊𝖓ツ
Open In TikTok:
Region: LK
Friday 15 November 2024 04:18:38 GMT
2460
986
0
3
Music
Download
No Watermark .mp4 (
0.44MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
0.53MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @amma1955719, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
xinh và xịn ✨ #xh #fyp #matemade #vitien #vitiennu
Ngerinya kesurupan jin kafir lagi sholat pun di ganggu😱 #MunafikMelawanIblis #BahayaJadiMunafik #MunafiknyaIndo #kesurupan #filmhoror #rekomendasifilm #masukberanda #fyp
ہجرتِ مدینہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے یا کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش کا نام نہیں تھا۔ یہ کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین اور دل سوز موڑ تھا جہاں حق کو زندہ رکھنے کے لیے اپنوں، گھر بار اور یادوں کی قربانی دی گئی۔ یہ سفرِ عشق تھا، جس کی ایک ایک منزل ایمان والوں کی روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جن کا تصور ہی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ صحابہ کرام کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا، اور بائیکاٹ کر کے شعبِ ابی طالب میں درختوں کے پتے کھانے پر مجبور کیا گیا۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا اور قریشِ مکہ نے دارالندوہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی جان لینے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے حبیب ﷺ کو مکہ چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ یہ نبوت کا تیرہواں سال تھا، جب کفر نے فیصلہ کیا کہ اب اسلام کے سورج کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا جائے۔ قریش کے خوں خوار تلوار بازوں نے رات کے اندھیرے میں نبی کریم ﷺ کے کاشانۂ مبارک کو گھیر لیا۔ وہ صرف اس انتظار میں تھے کہ کب آقا ﷺ باہر نکلیں اور وہ حملہ کر دیں۔ بسترِ رسولؐ پر موت کی سیج: اس خوفناک رات، جانِ کائنات ﷺ نے اپنے وفادار چچا زاد، مولا علیؓ کو بلایا اور فرمایا: "علی! میرے بستر پر میری یہ ہری چادر اوڑھ کر سو جاؤ، اور صبح مکہ والوں کی امانتیں لوٹا کر مدینہ آ جانا۔" ذرا تصور کیجیے، باہر موت کا گھیرا تھا، لیکن مولا علیؓ فرماتے ہیں کہ زندگی میں جتنی پرسکون نیند مجھے اس رات مصطفیٰ ﷺ کے بستر پر آئی، کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ صادق و امین ﷺ نے کہہ دیا ہے کہ "صبح امانتیں لوٹا کر آنا"، یعنی میری زندگی کی ضمانت خود زبانِ رسالت نے دے دی تھی۔ دشمنوں کی آنکھوں میں دھول: رات کا پچھلا پہر ہوا، تو اللہ کے حکم سے آقا ﷺ اپنے گھر سے باہر آئے۔ آپ ﷺ نے زمین سے ایک مٹھی خاک لی، سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں اور وہ مٹی ان ظالموں کی طرف پھینک دی۔ قدرت کا ایسا معجزہ ہوا کہ ان سب کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے، وہ اپنی تلواریں تھامے ساکت کھڑے رہے، اور کائنات کے تاجدار ﷺ ان کے درمیان سے انتہائی وقار کے ساتھ گزر گئے۔ اپنے گھر سے نکل کر آپ ﷺ نے الحزورہ کے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے آبائی شہر، خانہ کعبہ اور مکہ کی پہاڑیوں کی طرف دیکھا۔ مکہ کی مٹی کو دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، دل بھر آیا اور زبانِ مبارک سے وہ تڑپا دینے والے الفاظ نکلے جو قیامت تک وطن کی محبت کی سب سے بڑی دلیل بن گئے: "اے مکہ! خدا کی قسم تو مجھے دنیا بھر کی زمین سے زیادہ پیاری ہے، اگر میری قوم مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتی، تو میں تیرے سوا کبھی کسی اور جگہ کو اپنا مسکن نہ بناتا۔" تصور کیجیے، وہ نبی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے، انہیں انہی کے شہر کے لوگوں نے رات کے اندھیرے میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ سفرِ ہجرت کا آغاز ہوا تو رفیقِ سفر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ قریش کے تعاقب سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے غارِ ثور میں پناہ لی۔ عشقِ صدیقی کا امتحان: غار میں داخل ہونے سے پہلے حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ہاتھوں سے غار کے سوراخوں کو صاف کیا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر بند کیا تاکہ کوئی موذی جانور رسول ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ ایک سوراخ باقی رہ گیا تو وہاں اپنی ایڑی رکھ دی۔ سانپ نے وہاں ڈسا تو صدیقِ اکبرؓ کے جسم میں زہر دوڑ گیا، لیکن اس ڈر سے پاؤں نہیں ہلایا کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے۔ آنکھوں سے نکلنے والے پگھلے ہوئے آنسو جب رخسارِ مصطفیٰ ﷺ پر گرے، تو کائنات نے وہ جاں نثاری دیکھی جو پھر کبھی نہ دیکھی گئی۔ دوسری طرف مدینہ کے انصار روزانہ شہر سے باہر نکل کر تپتی دھوپ میں آقا ﷺ کا انتظار کرتے۔ جب آپ ﷺ کا ناقہ مدینہ کی حدود میں داخل ہوا، تو "طلع البدر علینا" کے ترانے گونج اٹھے۔ مدینہ پہنچ کر تاریخِ انسانی کا وہ معجزہ رونما ہوا جسے مواخاتِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ مکہ سے آنے والے مہاجرین کے پاس کچھ نہ تھا، انصار نے اپنے دل اور گھروں کے دروازے کھول دیے۔ ایک انصاری نے کہا: "یہ میرا گھر ہے، آدھا تمہارا۔ یہ میرا مال ہے، آدھا تمہارا۔" 🖤 حتمی پیغام: ہجرتِ مدینہ کا یہ سفر سکھاتا ہے کہ اسلام قربانی مانگتا ہے۔ مہاجرین نے کلمے کی خاطر گھر لٹا دیے اور انصار نے دین کی خاطر محبتیں نچھاور کر دیں۔ آج ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے اندر اپنی انا اور مفادات کو خیرباد کہنے کا جذبہ موجود ہے؟ اس پیغامِ محبت کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے ریپوسٹ کا آپشن قابلِ استعمال ہے ۔۔جزاکم اللہ خیراً کثیراً محمد سعید احمد ۔۔۔
i’m going private in 10 hours follow before you can’t get in anymore
nếu trời muốn giúp bạn ắt sẽ mài dỗ bạn trước
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy