@finleystevens1: when i miss you… #anime #animeedit #fyp #quote #yourname #Relationship

Finley
Finley
Open In TikTok:
Region: GB
Friday 29 November 2024 01:03:50 GMT
374080
23655
479
9229

Music

Download

Comments

meena.meena696
mena 🍂 :
When I miss you, I always do this🫂
2024-12-02 06:49:56
16
carla.peer
Carla Peer :
baby one love💯💯💯🥰🥰
2024-12-01 08:49:55
4
rose43683
m-rose❤❤❤ :
❤️❤️❤️same I.miss you❤️❤️❤️
2024-12-02 01:57:12
5
na_thanielll
nathan🦦 :
anime name?
2024-12-02 17:30:12
0
mhavic427
mhavic :
I miss u to person♥️
2024-12-03 10:08:54
1
angelaborgeryan
Angie :
Me too 🥰
2024-12-01 07:39:35
3
drewbaldbridge6040
drewbaldbridge6040 :
cute
2024-11-29 04:50:35
2
dwlce2311
D :
I deleted them...
2024-12-01 19:14:15
3
avacpt
Ava :
this is so heartwarming 💕
2024-12-02 15:04:09
2
chelspawn
SPAWN🥰😊🌈 :
Ill miss u
2024-12-02 08:38:54
1
al_khaldee
AL_KHALDEE :
Your name, I like this anime😌
2024-12-02 18:35:36
1
hazielparilla
mom of 2 ♂️♀️👶 :
I need you💽 I miss you🥺
2024-12-03 00:54:39
1
juliet.meng
Juliet Meng :
i love you my husband even we are in different world. I still love you and cherish my memories with you. How are you in above? i love you so much
2024-12-02 11:26:29
1
maximpales
Yami :
Real
2024-12-01 15:02:47
0
muimemoon
muimemoon :
Haha me 😭 I’m so pathetic 😫
2024-12-03 00:28:51
1
georgeta.gradinar
Georgeta Gradinaru :
qué precioso cariño ❤️❤️
2024-12-03 09:28:04
1
elisabethamoikon2
elisabethamoikon :
@je t'aime je t'aime mon cœur je t'aime aujourd'hui demain pour l'éternité tu me manques mon amour je🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
2024-12-01 23:03:05
1
iamliving_0
Kenny :
Awee babee i love youuj❤️
2024-12-05 04:25:41
0
jrdjacama1991
LELAKI TIADA USAHA :
.,i always do this... 😊😊
2024-12-05 10:26:49
0
joshuanicolas86
joshuanicolas86 :
whats the song
2024-12-14 23:24:47
0
alyaklapsic
Alja Klapsic Alya Angel :
2026-04-26 10:27:18
0
alyaklapsic
Alja Klapsic Alya Angel :
2026-04-26 10:27:15
0
kageabroad
Kage abroad (海外影) :
Everything reminds me of you
2025-11-14 06:49:22
0
shik_shaikh
Best_buddy :
Wow 🥰
2024-12-01 17:37:47
0
To see more videos from user @finleystevens1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

برطانوی شہزادےپرنس ولیم اور شہزادی کی بکنگھم پیلس سے روانگی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نظر سے گزری، جس میں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے سفر کے دوران سادگی، نظم و ضبط اور عوامی تکالیف کو مد نظر رکھنے  کا ایک انوکھا منظر دکھائی دیا۔۔۔۔۔محض دو  گاڑیوں پر مشتمل شاہی قافلہ، محدود سکیورٹی، ٹریفک کی مختصر اور ضرورت کے مطابق بندش، اور کہیں بھی غیر ضروری شور شرابہ، “ہٹو بچو” یا عوام کو طویل انتظار میں مبتلا کرنے کا خبط نظر نہیں آیا۔یہ منظر محض دو گاڑیوں یا کم پروٹوکول کا نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی اور معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاستی عہدہ یا شاہی حیثیت عوام سے برتری جتانے کی بجائے ذمہ داری، سادگی اور خدمت کا تقاضا کرتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں عام طور پر یہ اصول اہم سمجھا جاتا ہے کہ حکمران، وزراء، اعلیٰ حکام اور بااثر شخصیات کی سکیورٹی ضرور یقینی بنائی جائے، مگر اس کے نام پر عام شہریوں کی زندگی کو غیر ضروری طور پر مفلوج نہ کیا جائے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بعض اوقات صورتِ حال اس کے بالکل الٹ دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے سے عہدے پر فائز بعض افراد بھی ایسے پروٹوکول اور شاہانہ انداز کو ضروری سمجھنے لگتے ہیں کہ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، ایمبولینسز، مریض، طلبا، ملازمین اور عام مسافر ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوامی عہدہ خدمت کے بجائے خصوصی مراعات اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بعض سیاست دان، بااثر افراد اور اشرافیہ کے لوگ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شہریت حاصل کرنے، جائیدادیں خریدنے، کاروبار کرنے اور وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں تو فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ ان ممالک کے صاف ستھرے ماحول، مضبوط قانون، بہترین تعلیمی نظام، شفاف اداروں اور منظم معاشرتی زندگی کو پسند کرتے ہیں،اس کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان معاشروں کی اچھی اخلاقی اور انتظامی روایات کو اپنانے کی بھی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوامی عہدہ اختیار سے زیادہ ذمہ داری ہے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ سرکاری وسائل ذاتی نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوام کے وقت، سہولت اور عزت کا خیال رکھنا حکمرانی کا بنیادی اصول ہے؟ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے قانون کی پاسداری، اداروں کی مضبوطی، احتساب، سادگی اور عوامی حقوق کا احترام بھی شامل ہے۔ وہاں کسی عہدے دار کی اہمیت اس کے لمبے قافلے، سائرنوں یا سڑکیں بند کروانے سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی، ذمہ داری اور عوامی خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سکیورٹی ہر اہم شخصیت کا حق ہے اور بعض حالات میں خصوصی حفاظتی انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ تاہم سکیورٹی اور غیر ضروری شان و شوکت میں واضح فرق ہے۔ ایسا پروٹوکول جو عوام کی جان، وقت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرے، اس کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عوامی نمائندے اور سرکاری افسران جتنے زیادہ عوام کے قریب، سادہ مزاج اور جواب دہ ہوں گے، ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران، سیاست دان، وزراء، ارکانِ اسمبلی، اعلیٰ افسران اور بااثر طبقات بیرونِ ملک صرف جائیدادیں اور شہریت حاصل کرنے کو کامیابی نہ سمجھیں بلکہ وہاں کے نظم و ضبط، قانون کی بالادستی، سادگی، دیانت، عوامی خدمت اور قومی وسائل کے تحفظ سے بھی سبق سیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومیں صرف دوسرے ممالک کی ظاہری ترقی کی نقل سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان اقدار کو اپنانے سے آگے بڑھتی ہیں جو ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں عہدے کو خدمت، اختیار کو امانت اور عوام کو اصل مالک سمجھ لیا جائے تو نہ صرف غیر ضروری پروٹوکول میں کمی آئے گی بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سادگی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔ عوام کے لیے راستہ کھلا رکھنا، ان کے وقت کی قدر کرنا، قومی وسائل کو امانت سمجھنا اور اپنے منصب کو خدمت کے لیے استعمال کرنا ہی حقیقی عظمت ہے۔۔۔۔۔۔اور اسلام اسی کا داعی ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حکمرانوں، عوامی نمائندوں اور تمام ذمہ دار طبقات کو سادگی، دیانت، احساسِ ذمہ داری اور عوام کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے، اور ہمیں ایسی معاشرتی اقدار اپنانے کی توفیق دے جن سے پاکستان مضبوط، منظم اور خوشحال بن سکے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔۔  خیراندیش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفراقبال چوھدری ۔۔۔۔۔۔۔۔  #Protocol #prin
برطانوی شہزادےپرنس ولیم اور شہزادی کی بکنگھم پیلس سے روانگی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر نظر سے گزری، جس میں شاہی خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے سفر کے دوران سادگی، نظم و ضبط اور عوامی تکالیف کو مد نظر رکھنے کا ایک انوکھا منظر دکھائی دیا۔۔۔۔۔محض دو گاڑیوں پر مشتمل شاہی قافلہ، محدود سکیورٹی، ٹریفک کی مختصر اور ضرورت کے مطابق بندش، اور کہیں بھی غیر ضروری شور شرابہ، “ہٹو بچو” یا عوام کو طویل انتظار میں مبتلا کرنے کا خبط نظر نہیں آیا۔یہ منظر محض دو گاڑیوں یا کم پروٹوکول کا نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی اور معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ریاستی عہدہ یا شاہی حیثیت عوام سے برتری جتانے کی بجائے ذمہ داری، سادگی اور خدمت کا تقاضا کرتی ہے۔ ترقی یافتہ معاشروں میں عام طور پر یہ اصول اہم سمجھا جاتا ہے کہ حکمران، وزراء، اعلیٰ حکام اور بااثر شخصیات کی سکیورٹی ضرور یقینی بنائی جائے، مگر اس کے نام پر عام شہریوں کی زندگی کو غیر ضروری طور پر مفلوج نہ کیا جائے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں بعض اوقات صورتِ حال اس کے بالکل الٹ دکھائی دیتی ہے۔ چھوٹے سے عہدے پر فائز بعض افراد بھی ایسے پروٹوکول اور شاہانہ انداز کو ضروری سمجھنے لگتے ہیں کہ سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں، شہریوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، ایمبولینسز، مریض، طلبا، ملازمین اور عام مسافر ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عوامی عہدہ خدمت کے بجائے خصوصی مراعات اور طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن گیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بعض سیاست دان، بااثر افراد اور اشرافیہ کے لوگ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شہریت حاصل کرنے، جائیدادیں خریدنے، کاروبار کرنے اور وہاں کی سہولیات سے فائدہ اٹھانے میں تو فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ ان ممالک کے صاف ستھرے ماحول، مضبوط قانون، بہترین تعلیمی نظام، شفاف اداروں اور منظم معاشرتی زندگی کو پسند کرتے ہیں،اس کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان معاشروں کی اچھی اخلاقی اور انتظامی روایات کو اپنانے کی بھی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوامی عہدہ اختیار سے زیادہ ذمہ داری ہے؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ سرکاری وسائل ذاتی نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیا ہم نے یہ سیکھا کہ عوام کے وقت، سہولت اور عزت کا خیال رکھنا حکمرانی کا بنیادی اصول ہے؟ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا جدید ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے قانون کی پاسداری، اداروں کی مضبوطی، احتساب، سادگی اور عوامی حقوق کا احترام بھی شامل ہے۔ وہاں کسی عہدے دار کی اہمیت اس کے لمبے قافلے، سائرنوں یا سڑکیں بند کروانے سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی، ذمہ داری اور عوامی خدمت سے پہچانی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سکیورٹی ہر اہم شخصیت کا حق ہے اور بعض حالات میں خصوصی حفاظتی انتظامات ناگزیر ہوتے ہیں۔ تاہم سکیورٹی اور غیر ضروری شان و شوکت میں واضح فرق ہے۔ ایسا پروٹوکول جو عوام کی جان، وقت اور روزمرہ زندگی کو متاثر کرے، اس کا ازسرِنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ عوامی نمائندے اور سرکاری افسران جتنے زیادہ عوام کے قریب، سادہ مزاج اور جواب دہ ہوں گے، ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد بھی اتنا ہی مضبوط ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران، سیاست دان، وزراء، ارکانِ اسمبلی، اعلیٰ افسران اور بااثر طبقات بیرونِ ملک صرف جائیدادیں اور شہریت حاصل کرنے کو کامیابی نہ سمجھیں بلکہ وہاں کے نظم و ضبط، قانون کی بالادستی، سادگی، دیانت، عوامی خدمت اور قومی وسائل کے تحفظ سے بھی سبق سیکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قومیں صرف دوسرے ممالک کی ظاہری ترقی کی نقل سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان اقدار کو اپنانے سے آگے بڑھتی ہیں جو ترقی کی بنیاد بنتی ہیں۔ اگر ہمارے ہاں عہدے کو خدمت، اختیار کو امانت اور عوام کو اصل مالک سمجھ لیا جائے تو نہ صرف غیر ضروری پروٹوکول میں کمی آئے گی بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بھی کم ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سادگی کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ کردار کی علامت ہے۔ عوام کے لیے راستہ کھلا رکھنا، ان کے وقت کی قدر کرنا، قومی وسائل کو امانت سمجھنا اور اپنے منصب کو خدمت کے لیے استعمال کرنا ہی حقیقی عظمت ہے۔۔۔۔۔۔اور اسلام اسی کا داعی ہے۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حکمرانوں، عوامی نمائندوں اور تمام ذمہ دار طبقات کو سادگی، دیانت، احساسِ ذمہ داری اور عوام کی خدمت کا جذبہ عطا فرمائے، اور ہمیں ایسی معاشرتی اقدار اپنانے کی توفیق دے جن سے پاکستان مضبوط، منظم اور خوشحال بن سکے، آمین ثم آمین یارب العالمین۔۔ خیراندیش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظفراقبال چوھدری ۔۔۔۔۔۔۔۔ #Protocol #prin

About