@italy: POV: The sun is shining, you’re out in nature, and you’re taking a morning dip in the pool to start your day. Life is good. 💚☀️🇮🇹 📍Umbria 📸 @Enrico Costantini

Italy
Italy
Open In TikTok:
Region: DE
Thursday 12 December 2024 00:19:57 GMT
9605
452
6
17

Music

Download

Comments

dirkpp17
Dirkpp :
😍😍😍
2024-12-12 00:37:27
0
chachedeguzman79
chache :
beautiful place
2024-12-12 12:54:41
0
marwasaeed148
Marwa Saeed :
♥️♥️♥️
2024-12-12 17:02:23
0
davidfred250
davidfred250 :
😍😍
2024-12-13 14:53:28
0
artiste1998
Artiste98 :
💚🤍❤️💚🤍❤️💚🤍❤️
2024-12-14 02:20:03
0
user4361594878225
user4361594878225 :
❤❤❤
2024-12-28 14:51:46
0
To see more videos from user @italy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں وہ بیٹی ہوں... جس کا بچپن وقت کی گرد میں کہیں بہت پیچھے رہ گیا۔ میں نے گڑیاوں سے کھیلنے کی عمر میں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا لیا۔ کسی نے مجھے بیٹھا کر زندگی نہیں سکھائی، کسی نے ہاتھ پکڑ کر راستہ نہیں دکھایا۔ بس حالات نے ایک ایک سبق اتنی سختی سے سکھایا کہ نہ سیکھنے کی گنجائش رہی، نہ انکار کی۔ مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے کب اپنی خواہشوں کو خاموش کرنا سیکھا، کب اپنی تھکن پر مسکرانا سیکھا، اور کب دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی ضرورتوں پر ترجیح دینا شروع کر دیا۔ شاید یہ سب اتنی خاموشی سے ہوا کہ مجھے خود بھی احساس نہ ہو سکا۔ میں وہ بیٹی ہوں جس سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ابھی بچی ہے یا بڑی ہو چکی ہے۔ بس وقت نے مجھے عمر سے پہلے بڑا کر دیا۔ میرے حصے میں کھیل کم آئے، فکر زیادہ آئی۔ لاڈ کم ملا، ذمہ داریاں زیادہ ملیں۔ خواب کم دیکھے، سمجھوتے زیادہ کیے۔ لوگ کہتے ہیں،
میں وہ بیٹی ہوں... جس کا بچپن وقت کی گرد میں کہیں بہت پیچھے رہ گیا۔ میں نے گڑیاوں سے کھیلنے کی عمر میں ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا لیا۔ کسی نے مجھے بیٹھا کر زندگی نہیں سکھائی، کسی نے ہاتھ پکڑ کر راستہ نہیں دکھایا۔ بس حالات نے ایک ایک سبق اتنی سختی سے سکھایا کہ نہ سیکھنے کی گنجائش رہی، نہ انکار کی۔ مجھے یاد بھی نہیں کہ میں نے کب اپنی خواہشوں کو خاموش کرنا سیکھا، کب اپنی تھکن پر مسکرانا سیکھا، اور کب دوسروں کی ضرورتوں کو اپنی ضرورتوں پر ترجیح دینا شروع کر دیا۔ شاید یہ سب اتنی خاموشی سے ہوا کہ مجھے خود بھی احساس نہ ہو سکا۔ میں وہ بیٹی ہوں جس سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ابھی بچی ہے یا بڑی ہو چکی ہے۔ بس وقت نے مجھے عمر سے پہلے بڑا کر دیا۔ میرے حصے میں کھیل کم آئے، فکر زیادہ آئی۔ لاڈ کم ملا، ذمہ داریاں زیادہ ملیں۔ خواب کم دیکھے، سمجھوتے زیادہ کیے۔ لوگ کہتے ہیں، "تم بہت مضبوط ہو۔" انہیں کیا معلوم کہ مضبوطی میری پسند نہیں تھی، میری مجبوری تھی۔ اگر میں نہ سنبھلتی تو شاید بہت کچھ بکھر جاتا۔ اس لیے میں نے اپنے آنسو چھپا کر دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں سجائیں، اپنے دکھ دل میں دفن کر کے سب کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کوئی صرف اتنا کہہ دے، "اب تم تھک گئی ہو، آؤ کچھ دیر آرام کر لو، اب سب کچھ تمہیں اکیلے نہیں سنبھالنا۔" مگر ایسی آوازیں اکثر صرف خواہش رہ جاتی ہیں۔ پھر بھی میں اپنے رب کی شکر گزار ہوں۔ انہی آزمائشوں نے مجھے صبر سکھایا، انہی ذمہ داریوں نے مجھے مضبوط بنایا، اور انہی تکلیفوں نے مجھے یہ یقین دیا کہ جس کے ساتھ اللہ ہو، وہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا۔ میں آج بھی وہی بیٹی ہوں... جس نے اپنے بچپن کی قیمت پر دوسروں کی آسانیاں خریدیں، مگر پھر بھی دل میں یہ امید زندہ ہے کہ ایک دن اللہ میری ہر خاموش قربانی، ہر چھپے ہوئے آنسو، اور ہر ادھوری خواہش کا ایسا صلہ دے گا کہ میرے دل سے صرف ایک ہی لفظ نکلے گا... "الحمدللہ... میرے رب نے میری ایک بھی قربانی ضائع نہیں ہونے دی۔" #Daughters #UrduQuotes #EmotionalWriting #Sabr #LifeReality

About