@ruoyiyong3: 七天培植膜揭膜 #2025年了 只有你想不到的 没有做不到的 #科技改变生活时代引领潮流

yizuang
yizuang
Open In TikTok:
Region: MY
Sunday 05 January 2025 07:59:20 GMT
5532
82
8
24

Music

Download

Comments

bota_773
бота 🩷 :
在哪儿呢
2025-05-29 08:44:05
0
user6377191749040
user6377191749040حافظ محمدبحرع :
🥰🥰🥰
2025-01-05 13:45:31
0
xgh1_1
O :
Why don't you come to Saudi Arabia? You will make millions of money.
2025-04-28 11:59:22
0
kikong.tpdgmail.com
🇱🇦 ⚓ kikong ⚓ 🇱🇦⚓ :
🥰🥰👍👍👍
2025-01-05 13:01:41
0
sam.kia2
Sam Kia :
👍👍👍👍🥰🥰
2025-01-05 23:38:34
0
yhen579
🖤sweethurts🖤 :
how much in the Saudi Arabia
2025-04-20 18:14:19
0
bota_773
бота 🩷 :
那个地方买了呀
2025-05-29 08:44:28
0
To see more videos from user @ruoyiyong3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حدیث کی تشریح اس حدیثِ مبارک میں رسول اللہ ﷺ نے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے کے لیے بہت بڑی خوشخبری بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھنے میں ماہر ہے، وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے اٹکتا ہے، اسے پڑھنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ 📚 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 798 اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو قرآنِ مجید صحیح پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہو، وہ الفاظ ادا کرنے میں اٹکتا ہو یا بار بار کوشش کرنا پڑتی ہو، لیکن وہ قرآن پڑھنا نہیں چھوڑتا بلکہ محنت اور شوق کے ساتھ تلاوت کرتا رہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی اس کوشش کو ضائع نہیں فرماتا بلکہ اسے دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے خاص حوصلہ افزائی ہے جو قرآن پڑھنے میں کمزور ہیں۔ انہیں اپنی کمزوری کی وجہ سے قرآن کی تلاوت ترک نہیں کرنی چاہیے، بلکہ مسلسل مشق، درست تلفظ سیکھنے اور استاد سے اصلاح لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سبق: قرآن پڑھنے میں دشواری ہونا محرومی نہیں، بلکہ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ کوشش کرتا رہے تو یہی دشواری اس کے لیے اضافی اجر کا سبب بن سکتی ہے۔ لہٰذا قرآن کی تلاوت جاری رکھیں اور مشکل کی وجہ سے کبھی مایوس نہ ہوں۔
حدیث کی تشریح اس حدیثِ مبارک میں رسول اللہ ﷺ نے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے کے لیے بہت بڑی خوشخبری بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھنے میں ماہر ہے، وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن پڑھتے ہوئے اٹکتا ہے، اسے پڑھنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔ 📚 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 798 اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو قرآنِ مجید صحیح پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہو، وہ الفاظ ادا کرنے میں اٹکتا ہو یا بار بار کوشش کرنا پڑتی ہو، لیکن وہ قرآن پڑھنا نہیں چھوڑتا بلکہ محنت اور شوق کے ساتھ تلاوت کرتا رہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی اس کوشش کو ضائع نہیں فرماتا بلکہ اسے دوہرا اجر عطا فرماتا ہے۔ اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے خاص حوصلہ افزائی ہے جو قرآن پڑھنے میں کمزور ہیں۔ انہیں اپنی کمزوری کی وجہ سے قرآن کی تلاوت ترک نہیں کرنی چاہیے، بلکہ مسلسل مشق، درست تلفظ سیکھنے اور استاد سے اصلاح لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سبق: قرآن پڑھنے میں دشواری ہونا محرومی نہیں، بلکہ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ کوشش کرتا رہے تو یہی دشواری اس کے لیے اضافی اجر کا سبب بن سکتی ہے۔ لہٰذا قرآن کی تلاوت جاری رکھیں اور مشکل کی وجہ سے کبھی مایوس نہ ہوں۔

About