@shayistakhan...804:

🇦🇫...شایسته خان...🇦🇫
🇦🇫...شایسته خان...🇦🇫
Open In TikTok:
Region: PK
Tuesday 21 January 2025 13:23:28 GMT
285
61
38
1

Music

Download

Comments

user58480677240312
ارمانی💔💔 :
💕💕💕
2025-01-25 03:30:54
0
babukhan__950
🦅 بابو 💪خان 👑 :
🤣🤣🤣
2025-01-23 08:21:10
0
user15662116096306
اﺯاد خان :
💖💖💖💖
2025-01-23 18:36:39
0
user15662116096306
اﺯاد خان :
💓💓💓
2025-01-23 18:37:07
0
user15662116096306
اﺯاد خان :
💝💝💝
2025-01-23 18:37:14
0
user15662116096306
اﺯاد خان :
🥰🥰🥰
2025-01-23 18:37:17
0
user569300420349
user569300420349 :
🥰🥰🥰
2025-01-24 06:16:11
0
user569300420349
user569300420349 :
🤔🤔🤔
2025-01-24 06:16:14
0
habib.khan72a
habib khan :
💔💔💔
2025-01-24 14:36:48
0
user58480677240312
ارمانی💔💔 :
👍👍👍
2025-01-25 03:30:50
0
babukhan__950
🦅 بابو 💪خان 👑 :
❤❤❤
2025-01-23 08:20:59
0
user3279539969110
🍂شیر یف ⛓️ملنگ 🍂 :
😁😁😁
2025-01-27 12:53:35
0
razasfghn
Raza khan :
💘💘💘
2025-02-07 17:44:34
0
user75180299661928
شيرخان کوچي :
🥰🥰🥰🥰
2025-02-21 18:00:35
0
user75180299661928
شيرخان کوچي :
🥰🥰🥰🥰🥰
2025-02-21 18:00:38
0
user75180299661928
شيرخان کوچي :
🥰🥰🥰😁😁😁
2025-02-21 18:00:40
0
user75180299661928
شيرخان کوچي :
😋
2025-02-21 18:00:45
0
user75180299661928
شيرخان کوچي :
😁😁😁🥰🥰🥰🥰
2025-02-21 18:00:49
0
user75180299661928
شيرخان کوچي :
😁😁
2025-02-21 18:00:51
0
khan.g1234615
@Khan G1234 :
💚💚💚
2025-01-22 09:42:21
0
user8538118129104
سعید❤کوچیوال❤ :
💞💞💞
2025-01-21 13:26:41
0
shergill7599
shergill :
🤪🤪🤪
2025-01-21 13:30:39
0
zubairmohmand675
🌷𝒁𝑼𝑩𝑨𝑰𝑹🌷 :
👍👍👍
2025-01-21 13:33:43
0
user8652658573206
سردار احمدزی :
👍👍👍
2025-01-21 15:03:22
0
user8652658573206
سردار احمدزی :
💞💞💞
2025-01-21 15:03:25
0
To see more videos from user @shayistakhan...804, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350
پہلے مصرعے میں بیٹوں کا ذکر ہے کہ جن کو پال پوس کر بڑا کیا، پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں، وہ شادی کے بعد اپنی بیویوں اور بچوں کی دنیا میں ایسے مگن ہوئے کہ انہیں جنم دینے والے والدین یاد ہی نہ رہے۔ وہ بیٹا جو کبھی ماں باپ کی آنکھ کا تارا تھا، اب اپنی الگ دنیا بسا کر بیٹھ جاتا ہے۔ دوسری طرف بیٹیوں کا ذکر ہے، جو پرایا دھن ہوتی ہیں۔ وہ بیاہ کر اپنے سسرال چلی جاتی ہیں اور اپنی نئی ذمہ داریوں، نئے رشتوں اور گھر بار میں اس طرح مصروف ہو جاتی ہیں کہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے بوڑھے والدین کو وہ وقت اور توجہ نہیں دے پاتیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ اس پورے منظرنامے کا سب سے خوفناک اور دردناک پہلو آخری مصرعے میں سامنے آتا ہے۔ جب بیٹے اپنی دنیا میں مست ہوں اور بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جائیں، تو وہ بوڑھے ماں باپ، جنہوں نے اپنا خون پسینہ بہا کر اس گھر کی ایک ایک اینٹ جوڑی تھی، اسی گھر کے ایک کونے میں بالکل تنہا رہ جاتے ہیں۔ شاعر نے ان کی اس بے بسی اور تنہائی کو چور سے تشبیہ دی ہے، جو کہ ایک گہرا اور دل دہلا دینے والا استعارہ ہے۔ جس طرح ایک چور کسی کے گھر میں گھس کر ڈرا، سہما اور چھپا بیٹھا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اسے دیکھ نہ لے یا اسے نکال نہ دے، بالکل اسی طرح وہ بوڑھے ماں باپ اپنے ہی بچوں کے گھر میں خوفزدہ اور اجنبی بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہیں بات کرتے ہوئے جھجک محسوس ہوتی ہے، اپنی ضرورت بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، اور وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ان کی ذات بچوں پر بوجھ نہ بن جائے یا ان کی کسی بات سے بہو بیٹے ناراض نہ ہو جائیں۔ یہ تحریر ہمیں ہمارے اردگرد بکھرے ایسے کئی کرداروں کی یاد دلاتی ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کہیں ہم بھی لاشعوری طور پر اپنے والدین کے ساتھ یہی سلوک تو نہیں کر رہے؟ #foryoupage #foryou #unfrezzmyaccount #viralvideo @arain.350

About