@chanty.0000:

chantal🍂
chantal🍂
Open In TikTok:
Region: IT
Tuesday 28 January 2025 17:18:39 GMT
7685
525
3
14

Music

Download

Comments

david.gumiel
David Gumiel :
🔥🔥🔥
2025-02-08 21:20:02
0
theavalo
TheAvalo :
mi gasi solo per la costanza Chantal
2025-01-28 22:21:28
0
opelcombo
Mimmo :
stupenda 🥰🥰🥰
2025-01-28 19:11:04
0
To see more videos from user @chanty.0000, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا وہ کون سا انسان ہے جسے دنیاہ کی کوئی بھی طاقت کبھی ہرا نہیں سکتی؟ شریعتِ اسلامی کے مطابق یہ وہ بندہ ہے جس کا دل اپنے خالق کی رحمت اور قدرت سے جڑا ہو اور جس کی امید صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات سے ہو۔ اس عظیم حقیقت کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے: [اول: {: توکل اور دلی سکون :}] جب بندہ دنیاوی اسباب کے بجائے صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات پر تکیہ کرتا ہے, تو اسے دلی اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اس کیفیت کے تین اہم ثمرات ظاہر ہوتے ہیں: (:(پختہ یقین ):)  ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان کا یہ پختہ یقین ہو کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللّٰہ رب العزت ہے۔ جب امید کا محور خالق بن جائے، تو مایوسی کا اندھیرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ (:(دلی اطمینان ):)  مومن ہر حال میں راضی برضا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہے، جس سے اس کا دل سکون اور اطمینان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ (:( خوف کا خاتمہ ):)  جب دل میں اللّٰہ پاک کی عظمت بیٹھ جائے، تو دنیا کی مشکلات، آزمائشیں یا کسی بھی قسم کا نقصان انسان کو کمزور نہیں کر سکتا، اور وہ باطل کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ [دوم: {:حقیقی کامیابی کا معیار :}] اسلام میں کامیابی کا معیار ظاہری جیت یا ہار نہیں، بلکہ آزمائش پر پورا اترنا ہے۔ اللّٰہ پاک سے امید رکھنے والے کا رویہ درج ذیل تین لڑیوں سے واضح ہوتا ہے: (:( عارضی شکست ):)  زندگی میں آنے والی بظاہر ناکامی اصل میں انسان کے لیے ایک سبق اور تربیت ہوتی ہے۔ مومن اس ظاہری ہار سے مایوس ہونے کے بجائے اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتا ہے۔ (:( مستقل مزاجی ):)  اللّٰہ رب العزت کی رحمت پر امید رکھنے والا بندہ مصیبت پڑنے پر ٹوٹتا نہیں ہے۔ وہ عزمِ نو کے ساتھ، گر کر دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ اور ہمت رکھتا ہے۔ (:( بہترین صلہ ):)  شریعت کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کے صبر, شکر اور محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ بندے کو اس کی امید سے بڑھ کر دنیا میں بہترین صلہ اور آخرت میں ابدی کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ توکل اور امید وہ مضبوط سہارے ہیں جو انسان کو کبھی گرنے نہیں دیتے اور اسے ابدی کامیابی تک پہنچاتے ہیں۔ طالب دُعا محمد عرفان 🤲 🥺 🫂  اس تحریر کو صرف اردو زبان میں پڑھیں ٹک ٹوک پر دوسری زبانوں میں ٹرانسلیشن نہ کریں کیونکہ یہ ترجمہ غلط کرتا ہے جزاک اللّٰہ خیرا 🤲 🫂 🥺  #Allah #IslamicPost #IslamicMotivation #IslamicReminders #truesuccess
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کا وہ کون سا انسان ہے جسے دنیاہ کی کوئی بھی طاقت کبھی ہرا نہیں سکتی؟ شریعتِ اسلامی کے مطابق یہ وہ بندہ ہے جس کا دل اپنے خالق کی رحمت اور قدرت سے جڑا ہو اور جس کی امید صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات سے ہو۔ اس عظیم حقیقت کو سمجھنے کے لیے دو بنیادی پہلوؤں پر غور کرنا ضروری ہے: [اول: {: توکل اور دلی سکون :}] جب بندہ دنیاوی اسباب کے بجائے صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات پر تکیہ کرتا ہے, تو اسے دلی اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اس کیفیت کے تین اہم ثمرات ظاہر ہوتے ہیں: (:(پختہ یقین ):) ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان کا یہ پختہ یقین ہو کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللّٰہ رب العزت ہے۔ جب امید کا محور خالق بن جائے، تو مایوسی کا اندھیرا خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ (:(دلی اطمینان ):) مومن ہر حال میں راضی برضا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہے، جس سے اس کا دل سکون اور اطمینان کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ (:( خوف کا خاتمہ ):) جب دل میں اللّٰہ پاک کی عظمت بیٹھ جائے، تو دنیا کی مشکلات، آزمائشیں یا کسی بھی قسم کا نقصان انسان کو کمزور نہیں کر سکتا، اور وہ باطل کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ [دوم: {:حقیقی کامیابی کا معیار :}] اسلام میں کامیابی کا معیار ظاہری جیت یا ہار نہیں، بلکہ آزمائش پر پورا اترنا ہے۔ اللّٰہ پاک سے امید رکھنے والے کا رویہ درج ذیل تین لڑیوں سے واضح ہوتا ہے: (:( عارضی شکست ):) زندگی میں آنے والی بظاہر ناکامی اصل میں انسان کے لیے ایک سبق اور تربیت ہوتی ہے۔ مومن اس ظاہری ہار سے مایوس ہونے کے بجائے اسے اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتا ہے۔ (:( مستقل مزاجی ):) اللّٰہ رب العزت کی رحمت پر امید رکھنے والا بندہ مصیبت پڑنے پر ٹوٹتا نہیں ہے۔ وہ عزمِ نو کے ساتھ، گر کر دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ اور ہمت رکھتا ہے۔ (:( بہترین صلہ ):) شریعت کا یہ پختہ وعدہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کے صبر, شکر اور محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ بندے کو اس کی امید سے بڑھ کر دنیا میں بہترین صلہ اور آخرت میں ابدی کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ توکل اور امید وہ مضبوط سہارے ہیں جو انسان کو کبھی گرنے نہیں دیتے اور اسے ابدی کامیابی تک پہنچاتے ہیں۔ طالب دُعا محمد عرفان 🤲 🥺 🫂 اس تحریر کو صرف اردو زبان میں پڑھیں ٹک ٹوک پر دوسری زبانوں میں ٹرانسلیشن نہ کریں کیونکہ یہ ترجمہ غلط کرتا ہے جزاک اللّٰہ خیرا 🤲 🫂 🥺 #Allah #IslamicPost #IslamicMotivation #IslamicReminders #truesuccess

About