@unseenwrlds_: Mount Fuji, Japan's tallest peak, rises to 3,776 meters (12,389 feet) and is one of the country's most recognized symbols. This majestic stratovolcano, located on Honshu Island, has not erupted since 1707, but it remains an active volcano. Its near-perfect cone shape makes it a favorite among photographers, climbers, and tourists alike. Beyond its visual grandeur, Mount Fuji holds deep cultural and spiritual significance in Japan, often regarded as sacred. Its surrounding landscapes, including the picturesque Fuji Five Lakes, lush forests, and hot springs, contribute to its fame as a major destination for outdoor enthusiasts and those seeking tranquility in nature. photo 1 &2 by Tomás Malík on Pexels. #mountfuji #japan #fuji #japantrip #mtfuji #fujisan #travel #mountain #kawaguchiko #explorejapan #mountfujijapan #travelphotography #landscape #fyp #tiktokuk

Unseenwrlds
Unseenwrlds
Open In TikTok:
Region: GB
Friday 07 February 2025 20:23:39 GMT
2772
172
0
21

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @unseenwrlds_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کا مقدمہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے فورم پر ہار چکے ہیں ! بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں پسماندگی، بدامنی، کمزور معیشت، بے روزگاری اور بدحالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ بلوچستان حکومت نے اپنے صوبے کا مقدمہ کس انداز میں پیش کیا کہ اس کے ترقیاتی بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں 109 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبے کے وفاق پر واجب الادا بقایاجات 5 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ یہ تعاون آخر کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ دفاعی بجٹ کے اضافی بوجھ کو خیبر پختونخوا کے ترقیاتی فنڈز سے پورا کرنا صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جو برسوں سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث معیشت شدید متاثر ہوئی، کاروباری سرگرمیاں محدود ہوئیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق اور وسائل کے تحفظ کے لیے ان کا مقدمہ صوبائی حکومت چیف منسٹر نے مؤثر انداز میں کیوں نہیں لڑا ؟ یہ تعاون کس کی لیے کیا گیا ؟ کس کی حکم پر کیا گیا ؟ دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن جب مقدمہ ٹیبل پر ہار گئے
صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کا مقدمہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کے فورم پر ہار چکے ہیں ! بلوچستان اور خیبر پختونخوا دونوں پسماندگی، بدامنی، کمزور معیشت، بے روزگاری اور بدحالی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ بلوچستان حکومت نے اپنے صوبے کا مقدمہ کس انداز میں پیش کیا کہ اس کے ترقیاتی بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں 109 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صوبے کے وفاق پر واجب الادا بقایاجات 5 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کے ساتھ یہ تعاون آخر کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے؟ دفاعی بجٹ کے اضافی بوجھ کو خیبر پختونخوا کے ترقیاتی فنڈز سے پورا کرنا صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جو برسوں سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے باعث معیشت شدید متاثر ہوئی، کاروباری سرگرمیاں محدود ہوئیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے حقوق اور وسائل کے تحفظ کے لیے ان کا مقدمہ صوبائی حکومت چیف منسٹر نے مؤثر انداز میں کیوں نہیں لڑا ؟ یہ تعاون کس کی لیے کیا گیا ؟ کس کی حکم پر کیا گیا ؟ دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن جب مقدمہ ٹیبل پر ہار گئے

About