@najmaa.ox: Himalayn shilajit 🫶🏻#shilajitbenefits #shilajitenergy #shilajit #himalayanshilajit

Najma🎋
Najma🎋
Open In TikTok:
Region: GB
Tuesday 11 February 2025 13:24:45 GMT
23149
300
16
70

Music

Download

Comments

sagalabdi45
sagalabdi :
waxay ku macntahay caanaha
2026-03-29 20:58:28
0
maanka2121
Maskiim-koriye :
iska ilaali mida saas u adag waa fake
2025-08-31 16:31:15
0
bintutshigni4
basbaaso🌶 :
abyo inte kaheshay
2025-12-30 16:23:22
0
bannacamara59
Bgirl20 :
hello there how can I get it in the Gambia
2025-08-03 20:08:23
0
heyy.nomad
💃🏽 :
I need all the energy I can get imma get this❤️❤️
2025-02-11 16:54:42
0
garrisaman2
user8774766360910 :
maxuu Tara
2025-05-17 21:25:36
0
s188490
ግራ አጋቢው :
🙏🙏🙏
2025-10-24 11:00:28
0
qaliibrahim2
Qali Ibrahim :
❤❤❤
2025-08-30 19:57:18
0
umu_ansal7
Ducaysan Ina Jamal :
🥰🥰🥰
2025-11-30 09:03:03
0
anna_h132
PEACE❤️💤 :
Send it down!😂
2025-02-14 14:31:54
0
hurmo1717
Devin🦋 :
Wll single ma isticmalikarasa
2025-04-07 21:09:30
0
user6057472106650
unknown :
You should mixed warm or hot water to dissolve and drink girl 🤣
2025-05-12 15:56:08
0
abukarsaciid5
Abukar Saciid :
🥰
2025-07-12 17:13:54
0
To see more videos from user @najmaa.ox, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ سے تعلق رکھنے والے امتیاز کبیر افتو کی جسمانی مشکلات پیدائش کے فوراً بعد شروع ہوگئی تھیں۔ اس کی دونوں ٹانگیں ٹیڑھی تھیں اور صرف سات دن کی عمر میں ان پر پٹیاں باندھ دی گئی تھیں۔ والدین اسے علاج کے لیے بنگلہ دیش اور بھارت کے مختلف علاقوں میں لے گئے، مگر بیماری کی حتمی تشخیص نہ ہوسکی۔ ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ اسے ہڈیاں انتہائی کمزور کردینے والی بیماری Osteogenesis Imperfecta ہے، تاہم افتو کے مطابق اس کی علامات اس بیماری سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ کمزور ہڈیوں کے باعث زندگی میں اس کی ٹانگیں تقریباً پندرہ مرتبہ ٹوٹیں اور اسے چلنے کے لیے وہیل چیئر یا اسٹیل کی بیساکھی کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ اس کی ماں یاسمین نہار لونا نے ابتدا ہی سے فیصلہ کرلیا تھا کہ جسمانی معذوری اس کے بیٹے کو معاشرے سے الگ نہیں کرے گی۔ اس دور میں جسمانی معذوری کے حامل بچوں کو عام اسکولوں میں بھیجنے کی مثالیں بہت کم تھیں۔ افتو کو پہلے ماں نے گھر پر پڑھایا اور پھر تمام خدشات کے باوجود عام کنڈرگارٹن اسکول میں داخل کروادیا۔ وہاں دوسرے بچے اسے اٹھا کر لائے جانے کی وجہ سے تنگ کرتے، مگر ماں ہر ممکن طریقے سے اسے ان رویوں سے بچاتی رہی۔ افتو کا خواب چٹاگانگ کے معروف کالجیٹ اسکول میں داخلہ لینا تھا، جہاں ہزاروں بچوں میں مقابلے کے بعد جگہ ملتی تھی۔ داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے اسے تقریباً ایک سال کوچنگ کرنا پڑی، مگر کوچنگ کی کلاس پانچویں منزل پر ہوتی تھی۔ افتو خود سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا تھا، اس لیے اس کی ماں اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر پانچ منزلیں چڑھتی اور کلاس تک پہنچاتی رہی۔ ایک دن وہاں موجود لوگوں نے لونا سے کہا کہ اس کی ساری محنت بے فائدہ ہے اور اسے بیٹے کو عام اسکول کے بجائے معذور بچوں کے ادارے میں داخل کروانا چاہیے۔ لونا گھر پہنچی تو بہت روئی۔ اپنی ماں کو ٹوٹتے دیکھ کر افتو نے مزید محنت کرنے کا فیصلہ کیا۔ بالآخر اس نے اپنی قابلیت کی بنیاد پر کالجیٹ اسکول میں داخلہ حاصل کرلیا۔ بعد میں اس نے ایس ایس سی میں گولڈن اے پلس حاصل کیا اور چٹاگانگ بورڈ میں 49ویں پوزیشن حاصل کرکے انہی لوگوں کو جواب دے دیا جو کبھی اس کی ماں کی کوششوں کو بے کار سمجھتے تھے۔ یونیورسٹی میں داخلے کا مرحلہ آیا تو مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ ریڑھ کی ہڈی کی حالت خراب ہونے کے باعث زیادہ دیر بیٹھنے اور لکھنے سے اس کے ہاتھ میں شدید درد ہوتا تھا۔ ایک وقت میں اس کے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہوگیا اور وہ اپنی گردن بھی مکمل طور پر سیدھی نہیں کرسکتا تھا۔ ایچ ایس سی میں توقع سے کم گریڈ آنے کے باعث وہ بُویٹ کا داخلہ امتحان نہ دے سکا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اسے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، راج شاہی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور چٹاگانگ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلے کے مواقع ملے۔ اپنے پسندیدہ مضمون کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی وجہ سے اس نے SUST کا انتخاب کیا۔ یونیورسٹی کے داخلہ امتحانات کے دوران بھی لونا اپنے جوان بیٹے کو بانہوں میں اٹھائے بسوں میں سفر کرتی رہی۔ بعض بس والے انہیں اس حالت میں دیکھ کر سوار کرنے سے ہچکچاتے تھے، مگر ماں ہر رکاوٹ سہتی ہوئی اسے امتحانی مراکز تک پہنچاتی رہی۔ یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ افتو کو خاندان سے دور رہنا پڑا، لیکن اس کے دوست اس کا سہارا بن گئے۔ وہ اسے کلاسوں اور لیبارٹریوں تک لے جاتے، ضرورت پڑنے پر سیڑھیوں سے اٹھا کر گزارتے، اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور باہر گھمانے لے جاتے۔ ماں کے لیے یہ دیکھنا ہی اپنی برسوں کی محنت کا صلہ تھا کہ اس کا بیٹا دنیا سے الگ رہنے کے بجائے دوستوں کے درمیان ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہے۔ افتو نے بالآخر کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی اور جون 2023 میں ڈھاکا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کی ملازمت حاصل کرلی۔ اس کی ماں بھی کچھ عرصے کے لیے اس کے ساتھ ڈھاکا آگئی تاکہ نئی زندگی میں اسے سنبھال سکے۔ افتو اپنے بیمار والد، ماں اور آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی چھوٹی بہن کا سہارا بننا چاہتا تھا۔ اس کا اگلا خواب گوگل یا فیس بک جیسے کسی بڑے بین الاقوامی ادارے میں سافٹ ویئر انجینئر بننا تھا۔ لیکن کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے چند ہی ماہ بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ وہ والدہ کے ساتھ واپس چٹاگانگ آگیا اور دسمبر 2023 کے آخر میں پھیپھڑوں کی بیماری کے باعث ایورکیئر ہسپتال میں داخل ہوگیا۔ 8 فروری 2024 کو سہ پہر تقریباً تین بجے، صرف 24 سال کی عمر میں افتو انتقال کر گیا۔ جس ماں نے اسے بچپن سے جوانی تک اپنی بانہوں میں اٹھایا، پانچ منزلیں چڑھیں، بسوں کے دھکے برداشت کیے اور ہر دروازے تک پہنچایا، اسی ماں کا بیٹا انجینئر بننے اور اپنے خاندان کا سہارا بننے کے چند ماہ بعد ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہوگیا۔ ۔
بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ سے تعلق رکھنے والے امتیاز کبیر افتو کی جسمانی مشکلات پیدائش کے فوراً بعد شروع ہوگئی تھیں۔ اس کی دونوں ٹانگیں ٹیڑھی تھیں اور صرف سات دن کی عمر میں ان پر پٹیاں باندھ دی گئی تھیں۔ والدین اسے علاج کے لیے بنگلہ دیش اور بھارت کے مختلف علاقوں میں لے گئے، مگر بیماری کی حتمی تشخیص نہ ہوسکی۔ ڈاکٹروں کو شبہ تھا کہ اسے ہڈیاں انتہائی کمزور کردینے والی بیماری Osteogenesis Imperfecta ہے، تاہم افتو کے مطابق اس کی علامات اس بیماری سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ کمزور ہڈیوں کے باعث زندگی میں اس کی ٹانگیں تقریباً پندرہ مرتبہ ٹوٹیں اور اسے چلنے کے لیے وہیل چیئر یا اسٹیل کی بیساکھی کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ اس کی ماں یاسمین نہار لونا نے ابتدا ہی سے فیصلہ کرلیا تھا کہ جسمانی معذوری اس کے بیٹے کو معاشرے سے الگ نہیں کرے گی۔ اس دور میں جسمانی معذوری کے حامل بچوں کو عام اسکولوں میں بھیجنے کی مثالیں بہت کم تھیں۔ افتو کو پہلے ماں نے گھر پر پڑھایا اور پھر تمام خدشات کے باوجود عام کنڈرگارٹن اسکول میں داخل کروادیا۔ وہاں دوسرے بچے اسے اٹھا کر لائے جانے کی وجہ سے تنگ کرتے، مگر ماں ہر ممکن طریقے سے اسے ان رویوں سے بچاتی رہی۔ افتو کا خواب چٹاگانگ کے معروف کالجیٹ اسکول میں داخلہ لینا تھا، جہاں ہزاروں بچوں میں مقابلے کے بعد جگہ ملتی تھی۔ داخلہ امتحان کی تیاری کے لیے اسے تقریباً ایک سال کوچنگ کرنا پڑی، مگر کوچنگ کی کلاس پانچویں منزل پر ہوتی تھی۔ افتو خود سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتا تھا، اس لیے اس کی ماں اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کر پانچ منزلیں چڑھتی اور کلاس تک پہنچاتی رہی۔ ایک دن وہاں موجود لوگوں نے لونا سے کہا کہ اس کی ساری محنت بے فائدہ ہے اور اسے بیٹے کو عام اسکول کے بجائے معذور بچوں کے ادارے میں داخل کروانا چاہیے۔ لونا گھر پہنچی تو بہت روئی۔ اپنی ماں کو ٹوٹتے دیکھ کر افتو نے مزید محنت کرنے کا فیصلہ کیا۔ بالآخر اس نے اپنی قابلیت کی بنیاد پر کالجیٹ اسکول میں داخلہ حاصل کرلیا۔ بعد میں اس نے ایس ایس سی میں گولڈن اے پلس حاصل کیا اور چٹاگانگ بورڈ میں 49ویں پوزیشن حاصل کرکے انہی لوگوں کو جواب دے دیا جو کبھی اس کی ماں کی کوششوں کو بے کار سمجھتے تھے۔ یونیورسٹی میں داخلے کا مرحلہ آیا تو مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ ریڑھ کی ہڈی کی حالت خراب ہونے کے باعث زیادہ دیر بیٹھنے اور لکھنے سے اس کے ہاتھ میں شدید درد ہوتا تھا۔ ایک وقت میں اس کے جسم کا بایاں حصہ مفلوج ہوگیا اور وہ اپنی گردن بھی مکمل طور پر سیدھی نہیں کرسکتا تھا۔ ایچ ایس سی میں توقع سے کم گریڈ آنے کے باعث وہ بُویٹ کا داخلہ امتحان نہ دے سکا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ اسے شاہ جلال یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، راج شاہی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور چٹاگانگ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلے کے مواقع ملے۔ اپنے پسندیدہ مضمون کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی وجہ سے اس نے SUST کا انتخاب کیا۔ یونیورسٹی کے داخلہ امتحانات کے دوران بھی لونا اپنے جوان بیٹے کو بانہوں میں اٹھائے بسوں میں سفر کرتی رہی۔ بعض بس والے انہیں اس حالت میں دیکھ کر سوار کرنے سے ہچکچاتے تھے، مگر ماں ہر رکاوٹ سہتی ہوئی اسے امتحانی مراکز تک پہنچاتی رہی۔ یونیورسٹی میں پہلی مرتبہ افتو کو خاندان سے دور رہنا پڑا، لیکن اس کے دوست اس کا سہارا بن گئے۔ وہ اسے کلاسوں اور لیبارٹریوں تک لے جاتے، ضرورت پڑنے پر سیڑھیوں سے اٹھا کر گزارتے، اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور باہر گھمانے لے جاتے۔ ماں کے لیے یہ دیکھنا ہی اپنی برسوں کی محنت کا صلہ تھا کہ اس کا بیٹا دنیا سے الگ رہنے کے بجائے دوستوں کے درمیان ایک بھرپور زندگی گزار رہا ہے۔ افتو نے بالآخر کمپیوٹر سائنس اینڈ انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی اور جون 2023 میں ڈھاکا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سافٹ ویئر انجینئر کی ملازمت حاصل کرلی۔ اس کی ماں بھی کچھ عرصے کے لیے اس کے ساتھ ڈھاکا آگئی تاکہ نئی زندگی میں اسے سنبھال سکے۔ افتو اپنے بیمار والد، ماں اور آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی چھوٹی بہن کا سہارا بننا چاہتا تھا۔ اس کا اگلا خواب گوگل یا فیس بک جیسے کسی بڑے بین الاقوامی ادارے میں سافٹ ویئر انجینئر بننا تھا۔ لیکن کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے چند ہی ماہ بعد اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ وہ والدہ کے ساتھ واپس چٹاگانگ آگیا اور دسمبر 2023 کے آخر میں پھیپھڑوں کی بیماری کے باعث ایورکیئر ہسپتال میں داخل ہوگیا۔ 8 فروری 2024 کو سہ پہر تقریباً تین بجے، صرف 24 سال کی عمر میں افتو انتقال کر گیا۔ جس ماں نے اسے بچپن سے جوانی تک اپنی بانہوں میں اٹھایا، پانچ منزلیں چڑھیں، بسوں کے دھکے برداشت کیے اور ہر دروازے تک پہنچایا، اسی ماں کا بیٹا انجینئر بننے اور اپنے خاندان کا سہارا بننے کے چند ماہ بعد ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہوگیا۔ ۔

About