@pagesix: Kim Kardashian's arrival at the 2025 Vanity Fair OSCARS afterparty 🤍✨ 📸: Getty

Page Six
Page Six
Open In TikTok:
Region: US
Monday 03 March 2025 13:04:25 GMT
11377
234
37
12

Music

Download

Comments

bekahdayyy
bekah day :
THE SONG CHOICE LMAOOOOOOO page six yall are messy
2025-03-03 16:57:39
0
icy_blondee
user6537872553074 :
bed sheet core?
2025-03-03 13:19:58
32
trmarker
T. Case 008 :
We didn't ask for this
2025-03-03 13:29:10
29
taylorrosemoon
taylorrosemoon :
the song choice is wild
2025-03-03 14:13:14
23
smarterthaniilook
KK :
Kris Humphries era is back on the clock; day 73
2025-03-03 15:08:53
17
kiffchatterley
Kiff :
Why she there?
2025-03-03 20:36:50
3
doomedville
˚₊⁎⁺˳✧༚ :
aw her glam looks so good
2025-03-03 13:27:46
2
spiffygriffs
Misha beast :
another wedding 🤣🤡
2025-03-03 14:11:38
2
hannahwallace184
Hannah Wallace :
This dress makes her look more like she’s pregnant or hiding her pregnancy even though she probably isn’t pregnant
2025-03-03 17:35:39
1
junie.you.kamikaze
user5436824355787 :
It’s giving wedding dress but also rustic beach maternity photo shoot
2025-03-03 18:13:52
1
youarealoser26
DoubleDoodles :
I like this look for her
2025-03-03 14:14:16
1
k.lenayy
Kalani :
She kinda looks like she’s uncomfortable
2025-03-03 13:52:16
1
zdmm005
zdmm005 :
This is Mrs humpries x Mrs west and i ld rather see a bedsheet then yet another skin tight spagetti strap bedazzled anything on her
2025-03-03 13:40:22
1
fuxjuice
LUVJUICE 🧃 :
A giant diaper
2025-03-06 00:48:12
0
starfishthegreen
starfishtheblue :
Nothing good about this
2025-03-05 06:51:59
0
rj78481
RJ :
She looks like Gal Gadot.
2025-03-04 00:08:51
0
moniquelewisofficial
moniquelewisofficial :
I’m obsessed with this Oscar’s lol @Kim Kardashian I’m drawn out
2025-03-03 13:12:08
0
laconejasalvaje
Pinkmezzy🐰 :
I prefer depth in her face. They really trying to bring flat face dimension makeup huh
2025-03-03 21:23:59
0
lauramarierichardson
Laura Marie Richards :
fashion fail
2025-03-03 20:19:55
0
brisaunt
Lisa :
Toilet paper dress😬😳
2025-03-03 19:49:43
0
supporturprodhws
supporturprodHWs :
Absolute star
2025-03-03 18:54:04
0
virgo_babyx0
Virgobby🩷 :
🎶🎤she’s HOMELESS💃🏼🕺💃🏼🕺
2025-03-16 02:18:23
0
kmill637
Apetslife :
Make it stop
2025-03-03 17:06:24
0
saucingonthem
:) :
This dress gives hiding a pregnancy bump
2025-03-03 16:55:27
0
dirtyd333
D :
🤮
2025-03-03 16:31:03
0
sassy_pants_official
Sassypants :
Kim what are you wearing? A comforter
2025-03-03 16:23:00
0
latinkittty
Latinkittty :
Not my fav look by far
2025-03-03 16:22:07
0
blk_cat_mom
blk_cat_mom :
She dressed how her entire house looks
2025-03-03 15:36:21
0
kirstynnnnnnnnnnn
Kirstynnnnnnnnnnnn :
oh..
2025-03-03 14:45:18
0
doryandrae
Dory Andrae :
Kendall would never..
2025-03-03 14:42:48
0
usc1238286
trojanusc23 :
New face who dis?
2025-03-03 14:14:14
0
swagitterrorist
raven 💌 :
fire your stylist, kim
2025-03-03 14:04:39
0
To see more videos from user @pagesix, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہجرتِ مدینہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے یا کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش کا نام نہیں تھا۔ یہ کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین اور دل سوز موڑ تھا جہاں حق کو زندہ رکھنے کے لیے اپنوں، گھر بار اور یادوں کی قربانی دی گئی۔ یہ سفرِ عشق تھا، جس کی ایک ایک منزل ایمان والوں کی روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ ​مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جن کا تصور ہی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ صحابہ کرام کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا، اور بائیکاٹ کر کے شعبِ ابی طالب میں درختوں کے پتے کھانے پر مجبور کیا گیا۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا اور قریشِ مکہ نے دارالندوہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی جان لینے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے حبیب ﷺ کو مکہ چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ ​یہ نبوت کا تیرہواں سال تھا، جب کفر نے فیصلہ کیا کہ اب اسلام کے سورج کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا جائے۔ قریش کے خوں خوار تلوار بازوں نے رات کے اندھیرے میں نبی کریم ﷺ کے کاشانۂ مبارک کو گھیر لیا۔ وہ صرف اس انتظار میں تھے کہ کب آقا ﷺ باہر نکلیں اور وہ حملہ کر دیں۔ ​بسترِ رسولؐ پر موت کی سیج: اس خوفناک رات، جانِ کائنات ﷺ نے اپنے وفادار چچا زاد، مولا علیؓ کو بلایا اور فرمایا:
ہجرتِ مدینہ محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے یا کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش کا نام نہیں تھا۔ یہ کائنات کی تاریخ کا وہ عظیم ترین اور دل سوز موڑ تھا جہاں حق کو زندہ رکھنے کے لیے اپنوں، گھر بار اور یادوں کی قربانی دی گئی۔ یہ سفرِ عشق تھا، جس کی ایک ایک منزل ایمان والوں کی روح کو تڑپا دینے والی ہے۔ ​مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک مسلمانوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے جن کا تصور ہی لرزہ براندام کر دیتا ہے۔ صحابہ کرام کو تپتی ریت پر لٹایا گیا، لوہے کی گرم سلاخوں سے داغا گیا، اور بائیکاٹ کر کے شعبِ ابی طالب میں درختوں کے پتے کھانے پر مجبور کیا گیا۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا اور قریشِ مکہ نے دارالندوہ میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی جان لینے کا ناپاک منصوبہ بنایا، تو زمین و آسمان کے مالک نے اپنے حبیب ﷺ کو مکہ چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ ​یہ نبوت کا تیرہواں سال تھا، جب کفر نے فیصلہ کیا کہ اب اسلام کے سورج کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیا جائے۔ قریش کے خوں خوار تلوار بازوں نے رات کے اندھیرے میں نبی کریم ﷺ کے کاشانۂ مبارک کو گھیر لیا۔ وہ صرف اس انتظار میں تھے کہ کب آقا ﷺ باہر نکلیں اور وہ حملہ کر دیں۔ ​بسترِ رسولؐ پر موت کی سیج: اس خوفناک رات، جانِ کائنات ﷺ نے اپنے وفادار چچا زاد، مولا علیؓ کو بلایا اور فرمایا: "علی! میرے بستر پر میری یہ ہری چادر اوڑھ کر سو جاؤ، اور صبح مکہ والوں کی امانتیں لوٹا کر مدینہ آ جانا۔" ذرا تصور کیجیے، باہر موت کا گھیرا تھا، لیکن مولا علیؓ فرماتے ہیں کہ زندگی میں جتنی پرسکون نیند مجھے اس رات مصطفیٰ ﷺ کے بستر پر آئی، کبھی نہیں آئی۔ کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ صادق و امین ﷺ نے کہہ دیا ہے کہ "صبح امانتیں لوٹا کر آنا"، یعنی میری زندگی کی ضمانت خود زبانِ رسالت نے دے دی تھی۔ ​دشمنوں کی آنکھوں میں دھول: رات کا پچھلا پہر ہوا، تو اللہ کے حکم سے آقا ﷺ اپنے گھر سے باہر آئے۔ آپ ﷺ نے زمین سے ایک مٹھی خاک لی، سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات تلاوت فرمائیں اور وہ مٹی ان ظالموں کی طرف پھینک دی۔ قدرت کا ایسا معجزہ ہوا کہ ان سب کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے، وہ اپنی تلواریں تھامے ساکت کھڑے رہے، اور کائنات کے تاجدار ﷺ ان کے درمیان سے انتہائی وقار کے ساتھ گزر گئے۔ ​اپنے گھر سے نکل کر آپ ﷺ نے الحزورہ کے مقام پر کھڑے ہو کر اپنے آبائی شہر، خانہ کعبہ اور مکہ کی پہاڑیوں کی طرف دیکھا۔ مکہ کی مٹی کو دیکھ کر آپ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، دل بھر آیا اور زبانِ مبارک سے وہ تڑپا دینے والے الفاظ نکلے جو قیامت تک وطن کی محبت کی سب سے بڑی دلیل بن گئے: "اے مکہ! خدا کی قسم تو مجھے دنیا بھر کی زمین سے زیادہ پیاری ہے، اگر میری قوم مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتی، تو میں تیرے سوا کبھی کسی اور جگہ کو اپنا مسکن نہ بناتا۔" تصور کیجیے، وہ نبی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے، انہیں انہی کے شہر کے لوگوں نے رات کے اندھیرے میں اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ ​سفرِ ہجرت کا آغاز ہوا تو رفیقِ سفر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ قریش کے تعاقب سے بچنے کے لیے آپ ﷺ نے غارِ ثور میں پناہ لی۔ عشقِ صدیقی کا امتحان: غار میں داخل ہونے سے پہلے حضرت ابوبکرؓ نے اپنے ہاتھوں سے غار کے سوراخوں کو صاف کیا اور اپنے کپڑے پھاڑ کر بند کیا تاکہ کوئی موذی جانور رسول ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ ایک سوراخ باقی رہ گیا تو وہاں اپنی ایڑی رکھ دی۔ سانپ نے وہاں ڈسا تو صدیقِ اکبرؓ کے جسم میں زہر دوڑ گیا، لیکن اس ڈر سے پاؤں نہیں ہلایا کہ کہیں رسولِ خدا ﷺ کی آنکھ نہ کھل جائے۔ آنکھوں سے نکلنے والے پگھلے ہوئے آنسو جب رخسارِ مصطفیٰ ﷺ پر گرے، تو کائنات نے وہ جاں نثاری دیکھی جو پھر کبھی نہ دیکھی گئی۔ ​دوسری طرف مدینہ کے انصار روزانہ شہر سے باہر نکل کر تپتی دھوپ میں آقا ﷺ کا انتظار کرتے۔ جب آپ ﷺ کا ناقہ مدینہ کی حدود میں داخل ہوا، تو "طلع البدر علینا" کے ترانے گونج اٹھے۔ مدینہ پہنچ کر تاریخِ انسانی کا وہ معجزہ رونما ہوا جسے مواخاتِ مدینہ کہا جاتا ہے۔ مکہ سے آنے والے مہاجرین کے پاس کچھ نہ تھا، انصار نے اپنے دل اور گھروں کے دروازے کھول دیے۔ ایک انصاری نے کہا: "یہ میرا گھر ہے، آدھا تمہارا۔ یہ میرا مال ہے، آدھا تمہارا۔" ​🖤 حتمی پیغام: ​ہجرتِ مدینہ کا یہ سفر سکھاتا ہے کہ اسلام قربانی مانگتا ہے۔ مہاجرین نے کلمے کی خاطر گھر لٹا دیے اور انصار نے دین کی خاطر محبتیں نچھاور کر دیں۔ آج ہم سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے اندر اپنی انا اور مفادات کو خیرباد کہنے کا جذبہ موجود ہے؟ اس پیغامِ محبت کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے ریپوسٹ کا آپشن قابلِ استعمال ہے ۔۔جزاکم اللہ خیراً کثیراً محمد سعید احمد ۔۔۔

About