@javier.cerro34: Aprovechando el sol para una duchita al aire libre, os gusta más al aire libre? ☀️ #coldshower #dad #sun

Javier Cerro
Javier Cerro
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 06 April 2025 17:36:45 GMT
1003
12
1
1

Music

Download

Comments

josete01082
josete01082 :
Telegram , x o algo ?
2026-01-26 15:31:41
0
To see more videos from user @javier.cerro34, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مرد کو اپنی پسندیدہ عورت کو کھونا منظور ہوتا ہے مگر اُس کے لیے خود کو بدلنا منظور نہیں ہوتا وہ انا کے سنگِ مرمر پر بیٹھا رہتا ہے اور محبت اُس کے قدموں میں ٹوٹتی رہتی ہے وہ جانتا ہے کہ اُس کی خاموشی زخم دیتی ہے پھر بھی لفظوں کو ہونٹوں تک آنے نہیں دیتا وہ چاہتا تو ہے اُسے اپنی دنیا بنانا مگر اپنی عادتوں کا قیدی بنا رہتا ہے عورت تھک کر جب سوال کرتی ہے تو مرد نظریں چرا کر وقت کو قصوروار ٹھہرا دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ۔۔۔ وہ محبت تو کرتا ہے مگر بدلنا نہیں چاہتا اُسے ڈر ہوتا ہے کہیں اُس کی آزادی نہ چھن جائے کہیں اُس کی ضد ہار نہ جائے وہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ۔۔۔ محبت قید نہیں، ایک خوبصورت سمجھوتا ہوتی ہے عورت آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگتی ہے اُس کی شکایتیں دعاؤں میں بدل جاتی ہیں اور ایک دن وہ مسکرانا سیکھ لیتی ہے بغیر اُس مرد کے جسے وہ کبھی اپنی دنیا کہتی تھی مرد تب بھی مضبوط دکھائی دیتا ہے دوستوں میں ہنستا، محفلوں میں جیتا ہوا مگر رات کی تنہائی میں اُسے اُس کی یاد آئینے کی طرح سچ دکھاتی ہے وہ سوچتا ہے، کاش تھوڑا سا جھک جاتا کاش اپنی انا کو ایک لمحہ ہرا دیتا تو شاید آج وہ عورت اُس کے نام کی دعا مانگ رہی ہوتی مگر اب دیر ہو چکی ہوتی ہے عورت اپنے آنسوؤں کو دفن کر چکی ہوتی ہے اور مرد پہلی بار سمجھتا ہے کہ۔۔۔ محبت ہارنا نہیں، بدل جانا سکھاتی ہے وہ جان لیتا ہے کہ کھونا آسان تھا مگر خود کو بدل لینا اصل بہادری تھی مگر انسان اکثر سچ تب سمجھتا ہے جب اُس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا... کیونکہ بعض مرد محبت تو پوری شدت سے کرتے ہیں مگر اپنی ذات سے جنگ لڑنے کی ہمت نہیں رکھتے اور یوں وہ عورت کو نہیں کھوتے...  اصل میں اپنی قسمت کو کھو دیتے ہیں
مرد کو اپنی پسندیدہ عورت کو کھونا منظور ہوتا ہے مگر اُس کے لیے خود کو بدلنا منظور نہیں ہوتا وہ انا کے سنگِ مرمر پر بیٹھا رہتا ہے اور محبت اُس کے قدموں میں ٹوٹتی رہتی ہے وہ جانتا ہے کہ اُس کی خاموشی زخم دیتی ہے پھر بھی لفظوں کو ہونٹوں تک آنے نہیں دیتا وہ چاہتا تو ہے اُسے اپنی دنیا بنانا مگر اپنی عادتوں کا قیدی بنا رہتا ہے عورت تھک کر جب سوال کرتی ہے تو مرد نظریں چرا کر وقت کو قصوروار ٹھہرا دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ۔۔۔ وہ محبت تو کرتا ہے مگر بدلنا نہیں چاہتا اُسے ڈر ہوتا ہے کہیں اُس کی آزادی نہ چھن جائے کہیں اُس کی ضد ہار نہ جائے وہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ۔۔۔ محبت قید نہیں، ایک خوبصورت سمجھوتا ہوتی ہے عورت آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگتی ہے اُس کی شکایتیں دعاؤں میں بدل جاتی ہیں اور ایک دن وہ مسکرانا سیکھ لیتی ہے بغیر اُس مرد کے جسے وہ کبھی اپنی دنیا کہتی تھی مرد تب بھی مضبوط دکھائی دیتا ہے دوستوں میں ہنستا، محفلوں میں جیتا ہوا مگر رات کی تنہائی میں اُسے اُس کی یاد آئینے کی طرح سچ دکھاتی ہے وہ سوچتا ہے، کاش تھوڑا سا جھک جاتا کاش اپنی انا کو ایک لمحہ ہرا دیتا تو شاید آج وہ عورت اُس کے نام کی دعا مانگ رہی ہوتی مگر اب دیر ہو چکی ہوتی ہے عورت اپنے آنسوؤں کو دفن کر چکی ہوتی ہے اور مرد پہلی بار سمجھتا ہے کہ۔۔۔ محبت ہارنا نہیں، بدل جانا سکھاتی ہے وہ جان لیتا ہے کہ کھونا آسان تھا مگر خود کو بدل لینا اصل بہادری تھی مگر انسان اکثر سچ تب سمجھتا ہے جب اُس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا... کیونکہ بعض مرد محبت تو پوری شدت سے کرتے ہیں مگر اپنی ذات سے جنگ لڑنے کی ہمت نہیں رکھتے اور یوں وہ عورت کو نہیں کھوتے... اصل میں اپنی قسمت کو کھو دیتے ہیں "جانی"

About