@timothyronald22: Sistem yang Curang. #system

Timothy Ronald
Timothy Ronald
Open In TikTok:
Region: ID
Saturday 19 April 2025 04:13:12 GMT
1564613
126799
336
1856

Music

Download

Comments

hidayah0820
Seiyaa :
yang dimaksud Timothy karena dokter itu harus fokus dalam pekerjaannya yang mulia tanpa mengharapkan gajinya, bayangin saja bila dokter hilang fokus ke inget crypto dll, kasian pasien yang di layaniny
2025-04-24 01:08:09
1657
so_mingming
MrMing :
Kapan Lagi Ada Triliuner yg Mau Ubah Kehidupan Kita
2025-04-19 17:13:12
1332
cintanyajinwoo
Cintanya Jin-Woo :
jadi pada intinya apa pun pekerjaan kita, kita harus cari ilmu supaya bisa ningkatin finansial kita di tengah lingkungan yg korup~
2025-04-19 07:18:11
273
syke_xd
Syke XD :
Singkatnya gini, misal: Gaji dokter 100 Juta Inflasi 2% pertahun Bayangin, dokter gajinya gede, tetapi karena inflasi nilai dari 100 juta tersebut akan terus berkurang. Makanya dokter tersebut investa
2025-05-05 02:42:30
97
allinroam
Lucky Verhoeven :
dokter Tirta 🗿💀
2025-05-18 15:11:46
85
bren45d
bran :
yah org kerja buat nyari duit,padahal dia yg ngajarin,begitu juga honorer kayak dokter ,damkar
2025-04-22 01:06:52
12
zaynput013
zayn putra :
hanya orang orang yg pikirannya terbuka yg bisa ngomong kaya gitu.
2025-07-07 09:28:41
2
semangat.trilyune
SEMANGAT TRILYUNER :
banyak yg paham maksud bro timoty, bukan intiny dokternya yg dipermasalahkan tapi sistem dinegara ini, kerja keras tapi gaji gk sebanding, pikirin aja seorang dokter sampe nyari cara lain.
2025-05-28 12:53:35
7
outfitcowok121
--- :
nyalon jadi pejabat bang biar kita bisa merasakan 🙏🙏🙏
2025-05-09 12:39:20
1
10.8.bridge
10.8 :
Setuju bro
2025-07-16 17:00:16
1
asab9392
Saya :
pahit tapi itu realita. cuma dia yg berani koar2 tentang perbudakan ini.. thanks bro
2025-05-05 14:55:34
5
ahpf140624
qwertyuiop :
lah, emang salah dokter investasi. belum tentu dengan dia belajar investasi profesi dia sebagai dokter terganggu
2025-05-05 05:55:21
1
amirbonjez
Amir Kosim :
bang ijin btc kan sistemnya lewat komputer🙏 kalo suatu saat nanti ketika jangkauan internet dan akses tidak ada karna perang dunia,apakah uang kita aman di tempat itu apa bakal hilang 🙏
2025-04-19 05:57:58
31
eggp84
eggp :
maksudnya sistem yg curang apa?
2025-05-02 17:37:14
8
dari_mins
Toekang Bakso :
Kapan revolusi sistem brother😭
2025-04-20 03:41:09
6
anisaramadhani742
shaumi _Ash_ :
berarti presiden juga nggak boleh lihat Timothy gitu
2025-05-21 04:30:32
1
reygaadeanggarista2
reygaadeanggarist :
terus salah.nya memperbaiki keuangan apa ?? yg penting dia memenuhi kewajiban.nya jadi dokter.
2025-04-29 16:15:35
9
chyilocx_chaxs
chyilocx_MC :
kan gw seorang pelajar yang minim modal gw harus investasi kemana bg
2025-04-19 04:39:19
17
kingstonebutcher
KingstoneButcher :
Sistem ini mmg didesain supaya ga ada orang yang bisa menang lawan negara.. tentara itu butuh digaji bos.. bayangin kalau duit ga bs dicetak negara terus negara kalah kaya sama 1 pengusaha bisa hancur keamanan dan terancam stabilitas nasional.. makanya dengan sistem fiat itu menjaga yg terkuat itu tetap negara.. setuju bos?🥰
2025-04-19 20:37:31
7
bang.yoo20
BANG YOO :
yang tua dikasih beras yang muda dikasih paham🗿🗿🗿
2025-07-11 12:08:08
1
zseann
Bang Aruna :
jaman sekarang gak ada yang tulus dngn profesinya , semua demi uang
2025-06-09 21:24:47
1
1estikwm
EsTik Wm :
yes sir.
2025-05-23 00:08:56
2
aldinl_
Dyyᥫ࿐ :
ingat kata guru “ambil positif yg ia sampaikan buang negatifnya”
2025-05-05 11:21:22
1
faiz.izzulhaq
IZZY'S :
tapi lu dukung wowo Timothy, jejak digital gak bakal ilang
2025-04-23 15:26:57
3
gamutegokudo93
Gamute Gokudo :
ada bnrnya tp ada slhnya awalnya gua bersyukur dgn gaji gue nabung dan seneng aja jrg galau skrg jd pusing tkt masa depan suram klo g invest nambah jd pusing
2025-05-04 06:24:49
1
To see more videos from user @timothyronald22, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہزاروں اچھائیوں کی کوئی رسید نہیں ہوتی، مگر ایک غلطی کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ زندگی کا شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ لوگ اکثر ہماری کامیابیوں، قربانیوں، محبتوں، وفاداریوں اور بے شمار اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی برسوں تک ان کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے، کسی کے دکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کسی کے آنسو پونچھتا ہے، کسی کی عزت بچاتا ہے، کسی کی خاموشی کو سمجھتا ہے، کسی کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، مگر یہ سب کچھ اکثر کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک قدم غلط پڑ جائے، ایک فیصلہ توقعات کے مطابق نہ ہو، یا ایک لفظ دل کو لگ جائے، تو وہی ایک لمحہ انسان کی پوری شخصیت پر بھاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اکثر انسان کو اس کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی غلطیوں سے پہچانتی ہے۔ لوگ برسوں کی وفاداری بھول کر ایک لمحے کی لغزش کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ یہاں ہر نیکی کا اعتراف نہیں ہوتا، لیکن ہر غلطی کا چرچا ضرور ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، انسان کامل نہیں ہوتا۔ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی لاعلمی میں، کبھی جلد بازی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی حالات کے دباؤ میں۔ لیکن کسی ایک غلطی کی بنیاد پر پورے انسان کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف سے زیادہ فیصلے جذبات، انا اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی کسی کے لیے بے لوث محبت کی، اس کی عزت کی، اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما، اور پھر ایک دن وہی شخص آپ کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر آپ سے منہ موڑ گیا، تو یقین جانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ اس احساس سے گزرے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھا ہونا چھوڑ دیں۔ اچھائی کا صلہ ہمیشہ انسانوں سے نہیں ملتا، بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری نرمی کو کمزوری، ہماری معافی کو مجبوری، اور ہماری وفاداری کو عادت۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کو کھو دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اگر آپ ہر ایک کو خوش کرنے نکلیں گے تو خود کو کھو بیٹھیں گے۔ ہر شخص کی توقعات الگ ہیں، ہر کسی کی سوچ مختلف ہے، اور ہر کسی کا معیار جدا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہیں دے رہے، تو لوگوں کی بے جا تنقید سے خود کو مت توڑیں۔ کامیاب لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ عظیم انسان بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ان میں بہتری لاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف دوسروں کی غلطیاں گنتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنی اصلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو معاف کیا جائے، اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں معافی، برداشت اور حسنِ ظن بڑھ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آج کوئی آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے آپ سے دور ہو گیا ہے، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ وقت سب سے بڑا گواہ ہے۔ وقت ہی لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتا ہے اور وقت ہی سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ آپ اپنا کردار اچھا رکھیں، اپنی زبان نرم رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ اصل حساب لوگوں کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ آپ کی ایک غلطی یاد رکھ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی توبہ، ہر آنسو، ہر نیکی، ہر دعا، ہر قربانی اور ہر صبر کو جانتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی امید لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رکھیں۔ جب رب راضی ہو جائے تو لوگوں کی ناراضی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی اس طرح گزاریں کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔ اگر دنیا آپ کی ہزاروں اچھائیوں کو بھول بھی جائے تو غم نہ کریں، کیونکہ آسمان والا ایک بھی نیکی نہیں بھولتا۔ یہی یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے، یہی ایمان اسے ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی امید اسے دوبارہ اٹھ کر چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی اچھائیاں دیکھنے والی نظر، غلطیوں کو معاف کرنے والا دل، اور ایسا کردار عطا فرمائے جو لوگوں کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ آمین۔ #ubaidtypist70 #foryoupage
ہزاروں اچھائیوں کی کوئی رسید نہیں ہوتی، مگر ایک غلطی کا پورا حساب رکھا جاتا ہے۔ زندگی کا شاید سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ لوگ اکثر ہماری کامیابیوں، قربانیوں، محبتوں، وفاداریوں اور بے شمار اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں، لیکن ایک چھوٹی سی غلطی برسوں تک ان کے ذہن میں زندہ رہتی ہے۔ انسان اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے، کسی کے دکھ میں ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کسی کے آنسو پونچھتا ہے، کسی کی عزت بچاتا ہے، کسی کی خاموشی کو سمجھتا ہے، کسی کے لیے اپنی خواہشات قربان کرتا ہے، مگر یہ سب کچھ اکثر کسی رجسٹر میں درج نہیں ہوتا۔ جیسے ہی ایک قدم غلط پڑ جائے، ایک فیصلہ توقعات کے مطابق نہ ہو، یا ایک لفظ دل کو لگ جائے، تو وہی ایک لمحہ انسان کی پوری شخصیت پر بھاری کر دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا اکثر انسان کو اس کی نیت سے نہیں بلکہ اس کی غلطیوں سے پہچانتی ہے۔ لوگ برسوں کی وفاداری بھول کر ایک لمحے کی لغزش کو یاد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے اچھے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں، کیونکہ انہیں احساس ہو جاتا ہے کہ یہاں ہر نیکی کا اعتراف نہیں ہوتا، لیکن ہر غلطی کا چرچا ضرور ہوتا ہے۔ یاد رکھیں، انسان کامل نہیں ہوتا۔ کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں، کبھی لاعلمی میں، کبھی جلد بازی میں، کبھی جذبات میں، اور کبھی حالات کے دباؤ میں۔ لیکن کسی ایک غلطی کی بنیاد پر پورے انسان کا فیصلہ کر دینا انصاف نہیں۔ افسوس یہ ہے کہ معاشرے میں انصاف سے زیادہ فیصلے جذبات، انا اور مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی کسی کے لیے بے لوث محبت کی، اس کی عزت کی، اس کے مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما، اور پھر ایک دن وہی شخص آپ کی ایک غلطی کو بنیاد بنا کر آپ سے منہ موڑ گیا، تو یقین جانیں آپ اکیلے نہیں ہیں۔ دنیا میں بے شمار لوگ اس احساس سے گزرے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھا ہونا چھوڑ دیں۔ اچھائی کا صلہ ہمیشہ انسانوں سے نہیں ملتا، بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کبھی کبھی ہماری خاموشی کو غرور سمجھ لیا جاتا ہے، ہماری نرمی کو کمزوری، ہماری معافی کو مجبوری، اور ہماری وفاداری کو عادت۔ لیکن وقت گزرنے کے بعد لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ انہوں نے کس شخص کو کھو دیا۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اگر آپ ہر ایک کو خوش کرنے نکلیں گے تو خود کو کھو بیٹھیں گے۔ ہر شخص کی توقعات الگ ہیں، ہر کسی کی سوچ مختلف ہے، اور ہر کسی کا معیار جدا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنی نیت کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ اگر آپ کی نیت صاف ہے، آپ کسی کا حق نہیں مار رہے، کسی کو جان بوجھ کر تکلیف نہیں دے رہے، تو لوگوں کی بے جا تنقید سے خود کو مت توڑیں۔ کامیاب لوگ بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ عظیم انسان بھی غلطیاں کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہیں، ان میں بہتری لاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جو لوگ صرف دوسروں کی غلطیاں گنتے رہتے ہیں، وہ اکثر اپنی اصلاح سے محروم رہ جاتے ہیں۔ زندگی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسروں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنا سیکھیں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ ہماری لغزشوں کو معاف کیا جائے، اسی طرح دوسروں کو بھی معاف کرنا چاہیے۔ اگر معاشرے میں معافی، برداشت اور حسنِ ظن بڑھ جائے تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر آج کوئی آپ کی ایک غلطی کی وجہ سے آپ سے دور ہو گیا ہے، تو دل چھوٹا نہ کریں۔ وقت سب سے بڑا گواہ ہے۔ وقت ہی لوگوں کو ان کی غلطیوں کا احساس دلاتا ہے اور وقت ہی سچ کو سامنے لے آتا ہے۔ آپ اپنا کردار اچھا رکھیں، اپنی زبان نرم رکھیں، اپنی نیت صاف رکھیں اور اپنی محنت جاری رکھیں۔ کیونکہ اصل حساب لوگوں کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ لوگ آپ کی ایک غلطی یاد رکھ سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ آپ کی ہر سچی توبہ، ہر آنسو، ہر نیکی، ہر دعا، ہر قربانی اور ہر صبر کو جانتا ہے۔ اس کے ہاں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا۔ اس لیے اپنی امید لوگوں سے نہیں بلکہ اللہ سے رکھیں۔ جب رب راضی ہو جائے تو لوگوں کی ناراضی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخر میں بس اتنا یاد رکھیں کہ دوسروں کی رائے آپ کی حقیقت نہیں ہوتی۔ اپنی زندگی اس طرح گزاریں کہ آپ کا ضمیر مطمئن رہے اور اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو۔ اگر دنیا آپ کی ہزاروں اچھائیوں کو بھول بھی جائے تو غم نہ کریں، کیونکہ آسمان والا ایک بھی نیکی نہیں بھولتا۔ یہی یقین انسان کو مضبوط بناتا ہے، یہی ایمان اسے ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی امید اسے دوبارہ اٹھ کر چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کی اچھائیاں دیکھنے والی نظر، غلطیوں کو معاف کرنے والا دل، اور ایسا کردار عطا فرمائے جو لوگوں کی تعریف کے لیے نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ آمین۔ #ubaidtypist70 #foryoupage

About