@mariajulissa13_:

Maria Julissa
Maria Julissa
Open In TikTok:
Region: MX
Thursday 08 May 2025 17:03:56 GMT
167843
13767
79
154

Music

Download

Comments

_wnn._
_wnn._ :
Y esa cansheee🤌🤌✨
2025-05-09 19:27:56
0
memingou4
Jesús Cruz :
Mari bonita
2025-05-08 17:39:17
0
jose_antonio2358
Antonio Mata :
Abra alguna sorpresa 🤔🙈
2025-05-08 17:12:53
0
jose_antonio2358
Antonio Mata :
Por qué estás tan desaparecida 🙈🙈
2025-05-08 17:11:54
0
dlzramos
Dlzramos :
😍
2025-07-04 06:36:50
0
henrry_ford_calitri
Henrry enzo :
🥰🥰🥰😎😎😈😈
2025-05-13 21:55:56
0
pierogonzales376
Estalin🧃 :
✨
2026-01-02 05:32:17
0
waltersantos664
Walter 664 🤙🏾 :
💜💜💜
2025-05-15 04:29:59
0
waltersantos664
Walter 664 🤙🏾 :
💜💜💜
2025-05-15 04:29:51
0
waltersantos664
Walter 664 🤙🏾 :
🖤🖤🖤
2025-05-15 04:29:43
0
victorcm309
vicoy 309 :
😍❤🌹🌹🌹
2025-05-15 00:54:33
0
waltersantos664
Walter 664 🤙🏾 :
🖤🖤🖤
2025-05-15 04:30:02
0
andre_moya25
Andrevillarroel :
😁😁😁
2025-12-13 19:03:08
0
rogersacido
Roger Sacido :
🥰🥰🥰
2025-05-14 23:09:07
0
el.chino2728
El chino :
🥰
2025-05-14 19:56:07
0
carloshernandez2685
carlos ivan :
😘
2025-05-14 17:42:56
0
itachi_uchiha_055
tu bot favorito 7w7 👁👄👁 :
🥰
2025-05-14 03:49:55
0
miguel.lopez8911
miguellopez4270 :
😳
2025-05-16 15:17:30
0
emmanuel.buustama
Emmanuel Buustamaante :
🥰🥰🥰
2025-05-09 11:38:58
0
mauro47412
Mauro :
🥰🥰🥰
2025-05-09 06:02:31
0
brandontoaza7
brandontoaza7 :
🥰🥰🥰
2025-05-09 06:02:21
0
uziel4825
Uziel4825 :
💘💘💘
2025-05-09 05:12:02
0
abenorijetsmfo
abenorinyj :
😍😍😍
2025-05-15 00:26:08
0
gerardo.villegas08
Gerardo Villegas :
🔥🔥🔥🔥🥵🥵🌹
2025-05-15 00:05:54
0
joseandradevalle
joseandradevalle :
🥰🥰🥰
2025-05-08 17:11:20
0
To see more videos from user @mariajulissa13_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

گجرات میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ آج بھی ایک خاندان کے لیے گہرے دکھ کی وجہ بنا ہوا ہے۔ یہ کہانی ایک بزرگ ماں شمیم اختر کی ہے، جن کی زندگی کے آخری ایام ایک ایسے سانحے پر ختم ہوئے جس نے ان کے پورے خاندان کو متاثر کیا۔ دستیاب بیان کے مطابق، 76 سالہ شمیم اختر ایک ریٹائرڈ واپڈا افسر کی بیوہ اور چار بیٹوں کی والدہ تھیں۔ وہ خوش اخلاق، عبادت گزار اور اپنے گھر والوں کا خیال رکھنے والی خاتون سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی تھی۔ ان کے دو بیٹے بیرونِ ملک، جبکہ دو گجرات میں رہائش پذیر تھے۔ شمیم اختر کو اپنے سب سے چھوٹے بیٹے بلال اصغر سے خاص لگاؤ تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا زندگی میں کامیاب ہو، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور ایک بہتر مستقبل بنائے۔ معلومات کے مطابق، بلال اصغر کی ازدواجی زندگی کامیاب نہ ہو سکی۔ اس نے پولیس کی ملازمت اختیار کی، لیکن کچھ عرصے بعد چھوڑ دی۔ بعد ازاں وہ تعلیم کے لیے برطانیہ گیا، مگر جلد پاکستان واپس آ گیا۔ پھر اس کے ایک بھائی نے اسے فرانس میں کام کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ وہاں بھی زیادہ عرصہ نہ ٹھہر سکا۔ پاکستان واپسی پر والدہ نے اسے گاڑیاں لے کر دیں تاکہ وہ انہیں کرائے پر چلا کر روزگار کا انتظام کر سکے۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹا اپنی زندگی سنبھال لے اور کسی مستقل کام سے وابستہ ہو جائے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق، وقت کے ساتھ بلال نشہ آور اشیا کے استعمال میں مبتلا ہو گیا۔ خاندان کی جانب سے اس کے علاج کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن حالات بہتر نہ ہو سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشے کے زیرِ اثر اس کے رویے میں غصہ اور بے چینی بڑھ جاتی تھی اور وہ گھر کی چیزوں کو نقصان پہنچاتا تھا۔ اس دوران شمیم اختر اپنے دوسرے بیٹوں کے پاس بیرونِ ملک بھی قیام کرتی رہیں۔ پاکستان واپس آنے پر وہ اکثر اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس رہتیں۔ بڑھاپے کے باوجود وہ اس کے لیے کھانا تیار کرتیں، کپڑے دھوتیں اور اس کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ یہ صورتِ حال خاندان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھی۔ افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ بلال کی حالت کس حد تک بگڑ چکی تھی، اس کا اندازہ لگانا اور بروقت مؤثر مدد فراہم کرنا خاندان کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ پھر ایک رات گجرات میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ فراہم کردہ بیان کے مطابق، بلال اصغر پر اپنی والدہ شمیم اختر کے قتل کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ واقعے کے بعد وہ گھر ہی میں موجود رہا۔ اگلے روز جب شمیم اختر نے فون کا جواب نہ دیا تو قریبی علاقے میں رہنے والا ان کا ایک بیٹا خیریت دریافت کرنے پہنچا۔ وہاں اس سانحے کا انکشاف ہوا اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بلال اصغر کو گرفتار کر لیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، وہ اس مقدمے میں جیل میں ہے۔ اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی اشاعت سے پہلے تصدیق کر لینی چاہیے۔ اس واقعے کے بعد خاندان کے دیگر افراد شدید صدمے سے دوچار ہوئے۔ بیان کے مطابق، مقتولہ کے بیٹوں نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ سانحہ ناقابلِ برداشت ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی والدہ کو کھو دیا اور اس واقعے میں ان کا اپنا بھائی بھی ملزم ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نشے کی لت کسی فرد ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بروقت علاج، خاندان کی مدد اور ماہرین کی رہنمائی اہم ہو سکتی ہے۔ شمیم اختر کی کہانی ایک خاندان کے درد اور ایک ایسے سانحے کی داستان ہے جس کے اثرات شاید برسوں تک باقی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے۔ آمین۔ نوٹ: یہ ویڈیو دستیاب معلومات اور فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ واقعے اور مقدمے سے متعلق تفصیلات کی تصدیق معتبر ذرائع سے کی جانی چاہیے۔ مقصد کسی فرد کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ ایک افسوسناک واقعے پر آگاہی دینا ہے۔#foryoupage #storytime #storytelling
گجرات میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ آج بھی ایک خاندان کے لیے گہرے دکھ کی وجہ بنا ہوا ہے۔ یہ کہانی ایک بزرگ ماں شمیم اختر کی ہے، جن کی زندگی کے آخری ایام ایک ایسے سانحے پر ختم ہوئے جس نے ان کے پورے خاندان کو متاثر کیا۔ دستیاب بیان کے مطابق، 76 سالہ شمیم اختر ایک ریٹائرڈ واپڈا افسر کی بیوہ اور چار بیٹوں کی والدہ تھیں۔ وہ خوش اخلاق، عبادت گزار اور اپنے گھر والوں کا خیال رکھنے والی خاتون سمجھی جاتی تھیں۔ ان کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی تھی۔ ان کے دو بیٹے بیرونِ ملک، جبکہ دو گجرات میں رہائش پذیر تھے۔ شمیم اختر کو اپنے سب سے چھوٹے بیٹے بلال اصغر سے خاص لگاؤ تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کا بیٹا زندگی میں کامیاب ہو، اپنے پاؤں پر کھڑا ہو اور ایک بہتر مستقبل بنائے۔ معلومات کے مطابق، بلال اصغر کی ازدواجی زندگی کامیاب نہ ہو سکی۔ اس نے پولیس کی ملازمت اختیار کی، لیکن کچھ عرصے بعد چھوڑ دی۔ بعد ازاں وہ تعلیم کے لیے برطانیہ گیا، مگر جلد پاکستان واپس آ گیا۔ پھر اس کے ایک بھائی نے اسے فرانس میں کام کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ وہاں بھی زیادہ عرصہ نہ ٹھہر سکا۔ پاکستان واپسی پر والدہ نے اسے گاڑیاں لے کر دیں تاکہ وہ انہیں کرائے پر چلا کر روزگار کا انتظام کر سکے۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹا اپنی زندگی سنبھال لے اور کسی مستقل کام سے وابستہ ہو جائے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق، وقت کے ساتھ بلال نشہ آور اشیا کے استعمال میں مبتلا ہو گیا۔ خاندان کی جانب سے اس کے علاج کی کوششیں بھی کی گئیں، لیکن حالات بہتر نہ ہو سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ نشے کے زیرِ اثر اس کے رویے میں غصہ اور بے چینی بڑھ جاتی تھی اور وہ گھر کی چیزوں کو نقصان پہنچاتا تھا۔ اس دوران شمیم اختر اپنے دوسرے بیٹوں کے پاس بیرونِ ملک بھی قیام کرتی رہیں۔ پاکستان واپس آنے پر وہ اکثر اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس رہتیں۔ بڑھاپے کے باوجود وہ اس کے لیے کھانا تیار کرتیں، کپڑے دھوتیں اور اس کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ یہ صورتِ حال خاندان کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھی۔ افسوس ناک پہلو یہ تھا کہ بلال کی حالت کس حد تک بگڑ چکی تھی، اس کا اندازہ لگانا اور بروقت مؤثر مدد فراہم کرنا خاندان کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ پھر ایک رات گجرات میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ فراہم کردہ بیان کے مطابق، بلال اصغر پر اپنی والدہ شمیم اختر کے قتل کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ واقعے کے بعد وہ گھر ہی میں موجود رہا۔ اگلے روز جب شمیم اختر نے فون کا جواب نہ دیا تو قریبی علاقے میں رہنے والا ان کا ایک بیٹا خیریت دریافت کرنے پہنچا۔ وہاں اس سانحے کا انکشاف ہوا اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بلال اصغر کو گرفتار کر لیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، وہ اس مقدمے میں جیل میں ہے۔ اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی اشاعت سے پہلے تصدیق کر لینی چاہیے۔ اس واقعے کے بعد خاندان کے دیگر افراد شدید صدمے سے دوچار ہوئے۔ بیان کے مطابق، مقتولہ کے بیٹوں نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ سانحہ ناقابلِ برداشت ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی والدہ کو کھو دیا اور اس واقعے میں ان کا اپنا بھائی بھی ملزم ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نشے کی لت کسی فرد ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بروقت علاج، خاندان کی مدد اور ماہرین کی رہنمائی اہم ہو سکتی ہے۔ شمیم اختر کی کہانی ایک خاندان کے درد اور ایک ایسے سانحے کی داستان ہے جس کے اثرات شاید برسوں تک باقی رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے۔ آمین۔ نوٹ: یہ ویڈیو دستیاب معلومات اور فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ واقعے اور مقدمے سے متعلق تفصیلات کی تصدیق معتبر ذرائع سے کی جانی چاہیے۔ مقصد کسی فرد کو ہراساں کرنا نہیں بلکہ ایک افسوسناک واقعے پر آگاہی دینا ہے۔#foryoupage #storytime #storytelling

About