@beatrizdasilvarod: 🤓🤓

Biia🇵🇹
Biia🇵🇹
Open In TikTok:
Region: FR
Monday 23 June 2025 18:47:05 GMT
3892
677
3
5

Music

Download

Comments

juste.hug0
just-.hugo :
😮😮😮
2025-06-24 11:54:51
0
franjas6gti
Franjas🇵🇹🇪🇸🇫🇷🇨🇮🇩🇪 :
🥰🥰🥰
2025-06-24 11:39:00
1
To see more videos from user @beatrizdasilvarod, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#BinAhsan #BinAhsanBuilders #BinAhsanDevelopers #BinAhsanGreenCity #BinAhsanGreenValley                            بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے چھ منصوبوں کی ہزاروں ایکڑ زمین کہاں ہے؟ سید محمد نقی پر الزام تراشی کے بجائے زمین کے کھاتے، این او سیز، منظور شدہ نقشے اور قانونی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کریں! بن احسان گرین سٹی، امروہہ ریزیڈنسی اور گرین ویلی کے نام سے پیش کیے گئے منصوبوں کی زمین کس کے نام پر ہے؟ کیا فروخت شدہ فائلوں کے مقابلے میں زمین موجود ہے؟ الاٹیز کو قبضہ کب ملے گا؟ تحریر: وجاہت نذیر احمد چوہدری | RadioCourt.com 2 نومبر 2026 | خصوصی تحقیقاتی و تجزیاتی مضمون اصل مسئلہ سید محمد نقی نہیں، بن احسان کے چھ منصوبوں کی زمین اور قانونی حیثیت ہے! بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے معاملے میں ایک بنیادی سوال مسلسل نظرانداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ کمپنی نے جن منصوبوں کے نام پر لوگوں سے سرمایہ کاری حاصل کی، ان منصوبوں کی زمین کہاں ہے؟ زمین کس کے نام پر ہے؟ زمین کے اصل کھاتے کہاں ہیں؟ منظور شدہ نقشے اور لے آؤٹ پلان کہاں ہیں؟ متعلقہ ترقیاتی اداروں کے این او سیز کہاں ہیں؟ اور جن لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر فائلیں خریدیں، انہیں ان کے پلاٹوں کا قبضہ کب ملے گا؟ ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے اگر ساری بحث سید محمد نقی کے کردار، ان کی حیثیت یا کمپنی کے ساتھ ان کی مبینہ شراکت داری کے گرد گھومتی رہے تو اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سید محمد نقی کمپنی کے پارٹنر ہیں یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے جس کا جواب متعلقہ معاہدوں اور کمپنی کے ریکارڈ سے مل سکتا ہے۔ لیکن اس بحث سے بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کی زمین، منظوریوں اور الاٹیز کے حقوق سے متعلق ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔ کمپنی کو چاہیے کہ وہ سید محمد نقی کے خلاف الزامات لگانے کے بجائے اپنے منصوبوں کی مکمل قانونی اور زمینی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کرے۔ سید محمد نقی کے متعلق سامنے آنے والے شواہد میں سید محمد نقی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے متعلقہ شواہد خود ملاحظہ کر چکا ہوں۔ یہ ویڈیوز اور شواہد اس مضمون کے ساتھ عوام کے سامنے بھی پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر اپنی رائے قائم کر سکیں۔ ان شواہد اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق سید محمد نقی نے سب سے پہلے اپنے گھرانے کے لیے بن احسان کی فائلیں خریدیں۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی ابتدائی قیمت والی فائلیں سات سات لاکھ روپے تک میں خریدیں، یعنی بعض فائلوں پر تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے اضافی ادا کیے۔ اسی طرح ضرورت مند افراد کی تقریباً 95 فائلیں منافع کے ساتھ واپس خریدنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ سید محمد نقی پہلے بھی لطیفی سوسائٹی میں رہتے تھے اور آج بھی وہیں رہتے ہیں۔ ان کے ظاہری مالی اور رہائشی حالات میں کوئی غیر معمولی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ تمام باتیں ان کے کردار اور اس منصوبے پر ان کے اعتماد کا جائزہ لیتے وقت اہم ہیں۔ تاہم کسی شخص کی نیت، مالی ذمہ داری یا قانونی حیثیت کا حتمی تعین صرف ان باتوں سے نہیں بلکہ مکمل دستاویزی ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر سید محمد نقی آج اپنی زمین، کھاتے، قانونی دستاویزات اور قبضے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان کے اس جائز مطالبے کا جواب کیوں نہ دیا جائے؟ --- بن احسان کے چھ منصوبے اور ہزاروں ایکڑ زمین کا سوال فراہم کردہ تصاویر میں بن احسان کے چھ منصوبوں یا ان سے متعلق الگ الگ زمینی دعووں کا ذکر موجود ہے۔ ان کے نام اور رقبے درج ذیل ہیں: نمبر| منصوبے کا نام| تصاویر میں درج رقبہ 1| بن احسان گرین سٹی| 1,200 ایکڑ 2| بن احسان امروہہ ریزیڈنسی| 80 ایکڑ 3| بن احسان گرین سٹی فیز 1| تقریباً 300 ایکڑ 4| بن احسان گرین سٹی| 288 ایکڑ 5| بن احسان گرین ویلی| 4,000 ایکڑ 6| بن احسان گرین ویلی| تقریباً 150 ایکڑ اہم بات: یہ رقبے فراہم کردہ تصاویر میں درج سوالات کی بنیاد پر پیش کیے گئے ہیں۔ ایک ہی نام کے تحت مختلف رقبوں کا ذکر موجود ہے، اس لیے کمپنی کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ الگ منصوبے، الگ فیز یا ایک ہی منصوبے کے مختلف حصے ہیں۔ ان رقبوں کی ملکیت اور منظوری کی آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے۔ پہلا سوال: بن احسان گر
#BinAhsan #BinAhsanBuilders #BinAhsanDevelopers #BinAhsanGreenCity #BinAhsanGreenValley بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے چھ منصوبوں کی ہزاروں ایکڑ زمین کہاں ہے؟ سید محمد نقی پر الزام تراشی کے بجائے زمین کے کھاتے، این او سیز، منظور شدہ نقشے اور قانونی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کریں! بن احسان گرین سٹی، امروہہ ریزیڈنسی اور گرین ویلی کے نام سے پیش کیے گئے منصوبوں کی زمین کس کے نام پر ہے؟ کیا فروخت شدہ فائلوں کے مقابلے میں زمین موجود ہے؟ الاٹیز کو قبضہ کب ملے گا؟ تحریر: وجاہت نذیر احمد چوہدری | RadioCourt.com 2 نومبر 2026 | خصوصی تحقیقاتی و تجزیاتی مضمون اصل مسئلہ سید محمد نقی نہیں، بن احسان کے چھ منصوبوں کی زمین اور قانونی حیثیت ہے! بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے معاملے میں ایک بنیادی سوال مسلسل نظرانداز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ کمپنی نے جن منصوبوں کے نام پر لوگوں سے سرمایہ کاری حاصل کی، ان منصوبوں کی زمین کہاں ہے؟ زمین کس کے نام پر ہے؟ زمین کے اصل کھاتے کہاں ہیں؟ منظور شدہ نقشے اور لے آؤٹ پلان کہاں ہیں؟ متعلقہ ترقیاتی اداروں کے این او سیز کہاں ہیں؟ اور جن لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر فائلیں خریدیں، انہیں ان کے پلاٹوں کا قبضہ کب ملے گا؟ ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے اگر ساری بحث سید محمد نقی کے کردار، ان کی حیثیت یا کمپنی کے ساتھ ان کی مبینہ شراکت داری کے گرد گھومتی رہے تو اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سید محمد نقی کمپنی کے پارٹنر ہیں یا نہیں، یہ ایک الگ سوال ہے جس کا جواب متعلقہ معاہدوں اور کمپنی کے ریکارڈ سے مل سکتا ہے۔ لیکن اس بحث سے بن احسان بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کی زمین، منظوریوں اور الاٹیز کے حقوق سے متعلق ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔ کمپنی کو چاہیے کہ وہ سید محمد نقی کے خلاف الزامات لگانے کے بجائے اپنے منصوبوں کی مکمل قانونی اور زمینی دستاویزات عوام کے سامنے پیش کرے۔ سید محمد نقی کے متعلق سامنے آنے والے شواہد میں سید محمد نقی کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے متعلقہ شواہد خود ملاحظہ کر چکا ہوں۔ یہ ویڈیوز اور شواہد اس مضمون کے ساتھ عوام کے سامنے بھی پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر اپنی رائے قائم کر سکیں۔ ان شواہد اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق سید محمد نقی نے سب سے پہلے اپنے گھرانے کے لیے بن احسان کی فائلیں خریدیں۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں کو بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی ابتدائی قیمت والی فائلیں سات سات لاکھ روپے تک میں خریدیں، یعنی بعض فائلوں پر تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ روپے اضافی ادا کیے۔ اسی طرح ضرورت مند افراد کی تقریباً 95 فائلیں منافع کے ساتھ واپس خریدنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ سید محمد نقی پہلے بھی لطیفی سوسائٹی میں رہتے تھے اور آج بھی وہیں رہتے ہیں۔ ان کے ظاہری مالی اور رہائشی حالات میں کوئی غیر معمولی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔ یہ تمام باتیں ان کے کردار اور اس منصوبے پر ان کے اعتماد کا جائزہ لیتے وقت اہم ہیں۔ تاہم کسی شخص کی نیت، مالی ذمہ داری یا قانونی حیثیت کا حتمی تعین صرف ان باتوں سے نہیں بلکہ مکمل دستاویزی ریکارڈ سے ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر سید محمد نقی آج اپنی زمین، کھاتے، قانونی دستاویزات اور قبضے کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ان کے اس جائز مطالبے کا جواب کیوں نہ دیا جائے؟ --- بن احسان کے چھ منصوبے اور ہزاروں ایکڑ زمین کا سوال فراہم کردہ تصاویر میں بن احسان کے چھ منصوبوں یا ان سے متعلق الگ الگ زمینی دعووں کا ذکر موجود ہے۔ ان کے نام اور رقبے درج ذیل ہیں: نمبر| منصوبے کا نام| تصاویر میں درج رقبہ 1| بن احسان گرین سٹی| 1,200 ایکڑ 2| بن احسان امروہہ ریزیڈنسی| 80 ایکڑ 3| بن احسان گرین سٹی فیز 1| تقریباً 300 ایکڑ 4| بن احسان گرین سٹی| 288 ایکڑ 5| بن احسان گرین ویلی| 4,000 ایکڑ 6| بن احسان گرین ویلی| تقریباً 150 ایکڑ اہم بات: یہ رقبے فراہم کردہ تصاویر میں درج سوالات کی بنیاد پر پیش کیے گئے ہیں۔ ایک ہی نام کے تحت مختلف رقبوں کا ذکر موجود ہے، اس لیے کمپنی کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ الگ منصوبے، الگ فیز یا ایک ہی منصوبے کے مختلف حصے ہیں۔ ان رقبوں کی ملکیت اور منظوری کی آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے۔ پہلا سوال: بن احسان گر

About