Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@eb_hair: Guess who’s always in stock!! Our messy bun claw clip😍 available on the website for 9k or off the website for 10k🙏🏼
Eb_hair
Open In TikTok:
Region: NG
Thursday 31 July 2025 14:08:44 GMT
8232
251
2
40
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.27MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.1MB
)
Watermark .mp4 (
2.37MB
)
Music .mp3
Comments
goldingirl09 :
Nunu, is the messy bun still available?
2026-06-05 16:44:22
0
RN Omah🥑 :
I always come across your page whenever I'm broke 😭, I think I should add as favorite for the next time I will have money 🥲
2025-07-31 14:33:34
1
To see more videos from user @eb_hair, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
it's true 🥀🫀💔 #flyp #flypviral #viralvideo #urdusadline #foryoupage❤️❤️ Ak .007
¿Qué raro, no? #noticias #mexico #argentina #salinaspliego #humor
Tinh kaaaaa #quynhmeomeo
#SinMáscaras | Destapan red de bots operado por Salinas Pliego...
Unicity balance sachets ✅ Take fiber's before every meal to boost immunity ✨ #tiktokmademebuyit #tiktokshop #unicity #balnace #fibers
اسلام خود کوئی جامد سیاسی نظام یا ابدی ریاستی ماڈل پیش نہیں کرتا بلکہ وہ اخلاقی اصول دیتا ہے جن پر ہر دور اپنی قانون سازی، اقتدار اور نظمِ ریاست استوار کرتا ہے۔اس لئے اسلام نے کبھی کوئی واحد، جامد یا مقدس سیاسی نظام متعین نہیں کیا، قرآن نے ریاست، خلافت یا حکومت کی کوئی آئینی ساخت بیان نہیں کی۔ نہ پارلیمنٹ، نہ خلافت کی شکل، نہ طریقۂ انتخاب، نہ اقتدار کی مدت۔ نبی ﷺ نے خود کسی سیاسی جانشین کا تعین نہیں کیا، جس کے نتیجے میں خلافتِ راشدہ کے چاروں ادوار میں اقتدار کی منتقلی کے چار مختلف طریقے اختیار کیے گئے، جو اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ سیاست اسلام میں اجتہادی معاملہ ہے، عقیدے کا حصہ نہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی نے حکمران کی اطاعت کو عدل سے مشروط رکھا جبکہ امام احمد بن حنبل نے واضح کیا کہ ظلم کے سامنے خاموشی دینی فضیلت نہیں۔ فقہائے اسلام نے ہمیشہ مقاصدِ شریعت کو نصوص پر جامد اطلاق سے بالاتر رکھا، جن میں عدل، جان، عقل، مال اور انسانی وقار کا تحفظ بنیادی اصول ہیں، نہ کہ کسی مخصوص خلافتی ڈھانچے کی بقا۔ جدید قومی ریاست، شہری برابری، خواتین و اقلیتوں کے مساوی حقوق، آئینی بالادستی اور طاقت کی تقسیم جیسے تصورات قرونِ وسطیٰ کے فقہی سانچوں میں موجود نہیں تھے، اس لیے ان پر آج کے پیچیدہ معاشروں میں بلا تنقید عمل درآمد شریعت نہیں بلکہ تاریخی جمود ہے۔ اب اس جملے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسلام عدل، مساوات یا حقوق کے خلاف ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آج کی ریاست اور پرانے زمانے کی ریاست ایک جیسی نہیں ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کا فقہی نظام یہ تھا کہ جب زیادہ تر فقہی قوانین بنے (تقریباً 8ویں سے 12ویں صدی) تو قوم (Nation-State) کا تصور نہیں تھا، شہری نہیں ہوتے تھے، رعایا (Subjects) ہوتے تھے، بادشاہ یا خلیفہ مرکزِ طاقت ہوتا تھا، عورت سیاسی یا قانونی برابری کی حیثیت نہیں رکھتی تھی، اقلیتیں برابر شہری نہیں بلکہ محفوظ مگر غیر مساوی حیثیت رکھتی تھیں، آئین نام کی کوئی چیز نہیں تھی، سب کچھ حکمران کی مرضی یا فقہی تعبیر پر تھا، طاقت کی تقسیم (پارلیمنٹ، عدلیہ، مقننہ) موجود نہیں تھی۔ یہ سب اس وقت نارمل تھا، پوری دنیا میں۔ جدید قومی ریاست یہ ہے کہ آج ہم جس دنیا میں رہتے ہیں تو یہاں ہر شخص برابر شہری ہے، رعایا نہیں۔ قانون حکمران سے بھی اوپر ہوتا ہے، عورت، مرد، مسلم، غیر مسلم سب قانونی طور پر برابر ہیں، ریاست کسی ایک مذہب یا فقہ کی نمائندہ نہیں بلکہ تمام شہریوں کی ہوتی ہے، طاقت تقسیم ہوتی ہے تاکہ کوئی ایک شخص خدا نہ بن جائے۔ یہ سسٹم نئے تاریخی حالات کی پیداوار ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب کوئی کہے کہ "ہم 1000 سال پہلے بنے فقہی سیاسی قوانین کو جوں کا توں آج نافذ کریں گے"، تو پھر یہاں مسئلہ اسلام نہیں، طریقہ ہے۔ کیونکہ وہ فقہ اس دور کے معاشرے کے لیے تھی۔ آج کا معاشرہ بالکل مختلف ہے۔ بغیر تنقید کے پرانے سانچے لگانا انصاف نہیں بلکہ جمود (رک جانا) ہے۔ اس لئے کہتے ہیں کہ یہ شریعت نہیں بلکہ تاریخی جمود ہے۔ تو اب سوال یہ بنتا ہے کہ کیا اسلام میں قانون سازی، طاقت اور اقتدار غلط ہیں؟ نہیں۔اسلام کہتا ہے اقتدار امانت ہے اور قانون کا مقصد عدل ہے۔نظام حالات کے مطابق بدل سکتا ہے، اجتہاد ہر دور میں زندہ رہنا چاہیے۔حضرت عمرؓ نے قحط میں حد روک دی، یہی دلیل ہے کہ نص کا اطلاق بھی حالات دیکھ کر ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام اصول دیتا ہے، ماڈل نہیں۔ اسلام عدل دیتا ہے، فارمولا نہیں۔ اسلام روح دیتا ہے، مشین نہیں۔ مسئلہ اسلام کا نہیں بلکہ اُس "سیاسی اسلام" کا ہے جو چند تاریخی فقہی تشریحات، قرونِ وسطیٰ کے اقتداری سانچوں اور مخصوص خلافتی تصورات کو اکیسویں صدی پر زبردستی نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہی سیاسی اسلام آج outdated اس لیے ہو چکا ہے کہ وہ جدید ریاست، شہری حقوق، عوامی خودمختاری، ادارہ جاتی توازن، تنقیدی عقل اور مذہبی تنوع کو قبول کرنے کے بجائے طاقت کو مقدس بنا دیتا ہے اور اختلاف کو دین دشمنی قرار دیتا ہے۔ اسلام میں قانون طاقت سے نہیں بلکہ عدل سے جائز ٹھہرتا ہے، اقتدار حق نہیں بلکہ امانت ہے، اور سیاست نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمت کا عمل ہے۔ جب مذہب کو سیاسی بالادستی، ریاستی جبر اور اخلاقی ٹھیکیداری کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ نہ صرف وقت کے تقاضوں سے ٹکرا جاتا ہے بلکہ خود اسلام کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ سیاسی اسلام اپنی جامد اور اقتدار پرست شکل میں متروک ہو چکا ہے، جبکہ اسلام اپنی اخلاقی، فکری اور روحانی معنویت کے ساتھ آج بھی زندہ، قابلِ سوال اور قابلِ تطبیق ہے۔ . . . #itxmekhizarhayat #foryoupage #viralreels #PakPolitics #exploremore
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy